حدیث نمبر :146

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میری اورجو کچھ مجھے اﷲ نے دے کر بھیجا اس کی کہاوت اس شخص کی سی ہے جس نے کسی قوم کے پاس آکر کہا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک لشکر دیکھا ہے ۱؎ میں کھلا ڈرانے والاہوں۲؎ بچو بچو کہ اس کی قوم سے ایک ٹولہ نے اس کی بات مان لی اور اندھیرے منہ اٹھے اور بروقت نکل گئے تو بچ گئے۳؎ اور ان کے ایک ٹولہ نے جھٹلا دیا وہ اسی جگہ رہے پھر سویرے ہی لشکر ان پرٹوٹ پڑا انہیں ہلاک کرکے تہس نہس کردیا۴؎ یہ ہی اس کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی تو میرے لائے ہوئے کی اتباع کی اور اس کی جس نے میری نافرمانی کی اورمیرے لائے ہوئے حق کو جھٹلادیا۔(مسلم وبخاری)

شرح

۱؎ یہ تشبیہ مرکب ہے پورے واقعہ کو پورے واقعہ کے ساتھ مشابہت دی گئی ہے۔اس شخص سے مراد وہ امین اورسچا آدمی ہے جس کی بات پر لوگوں کو اعتماد ہو۔حضور کی سچائی ظہورنبوت سے پہلے ہی عام خاص میں مشہور ہوچکی تھی۔اس تشبیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہردنیوی اخروی آنے والے عذابوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ فرمایااورآپ کی بشارت یا ڈرانا مشاہدے سے ہے۔رب فرماتا ہے:”اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰکَ شٰہِدًا”۔

۲؎ عرب میں دستور تھا کہ خطرناک دشمن کی اطلاع دینے والا اپنا کرتہ لاٹھی پر ٹانگ کر لوگوں میں اعلان کرتا تھا کہ ہوشیار ہوجاؤ اسے نذیر عریاں کہا جاتا تھا یعنی ننگا ڈرانے والا۔

۳؎ یعنی سننے والے دو ٹولہ بن گئے۔ایک ٹولہ نے اس نذیر کا اعتبارکیا اور دشمن لشکر کے حملے سے قبل اندھیرے ہی بھاگ گئے یہ نفع میں رہے۔

۴؎ تو جیسے نجات و ہلاکت کا دارو مدار اس اعلان کرنے والے کی تصدیق یا تکذیب ہے ایسے ہی آخرت کے عذاب سے بچنے نہ بچنے کا مدار حضور کے ماننے اور نہ ماننے پر ہے۔عذابِ الٰہی گویا لشکر ہے،موت سے پہلے تو بہ کرلینا گویا بروقت خطرناک جگہ سے نکل جانا ہے اور آخر تک گناہوں میں ڈٹا رہنا اور حضور کو جھٹلانا گویا خطرناک جگہ میں رہ کر دشمن کے ہاتھوں مارا جانا ہے۔