No automatic alt text available.

*قطب الارشاد کا جنازہ*

غلام مصطفےٰ نعیمی

خلیفہ حضور تاج الشریعہ

gmnaimi@gmail.com.

 

زوال کی پریشانی اٹھانے کے بعد سورج کچھ مدھم پڑ رہا تھا… اس لئے شباب سے ڈھلان کی طرف چل دیا…نماز ظہر کا وقت آگیا تھا… مسجد کے میناروں سے اللہ اکبر کی صدائیں مومنین کے دلوں کو گرماتی ہوئی فضا میں پھیل جاتی ہیں…ع

جہاں میں چین قائم اسی پاکیزہ صدا سے ہے

بندگان خدا اپنے مولی کو راضی کرنے کے لئے مسجدوں کا رخ کرتے ہیں… وہ جگہ جو خدا کو سب سے زیادہ پسند ہے…

جہاں بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے…

جہاں گزرنے والا وقت دنیا وآخرت کا سب قیمتی ہوتا ہے…

دیار سمناں کو خیرآباد کہہ کر دیار ہند کو عزت بخشنے والے سلطان وقت، تارک السلطنت سیدنا مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ کی روحانی امانتوں کے حامل،ہم شبیہ غوث اعظم، شیخ المشائخ حضور سیدی اشرفی میاں علیہ الرحمہ بھی اپنی خانقاہ سے باہر نکل کر آتے ہیں…

وضو کرنے کے لئے بیٹھ جاتے ہیں… مگر آج نہ جانے کیوں دل بیٹھا جارہا ہے… ایک عجیب سی بیچینی نے دل پر ڈیرا جما رکھا ہے… بے کلی نے پورے سراپے کو گرفت میں لے رکھا ہے….ع

کیا ہوا دل ناتواں! کچھ بتا تو سہی

اچانک فضا میں رونے کی تیز آواز گونجتی ہے… آواز کو سن اہل خانقاہ گھبرا کر باہر آتے ہیں… تو کیا دیکھتے ہیں کہ قبلہ عالم شیخ المشائخ زار وقطار رو رہے ہیں… آنسوؤں کے قطرات موتی کی طرح رخساروں سے بہہ کر داڑھی کو بھگو رہے… اللہ اکبر! جس کی نورانی صورت دیکھ کر روتے ہوئے لوگ مسکرا پڑتے ہوں آج وہی زار وقطار رو رہا ہے… محبین کے دل گھایل ہوگئے… عرض گزار ہوتے ہیں حضور! کیا کوئی تکلیف پہنچی ہے جو اس قدر بے چین ہوگئے ہیں… اہل خانہ ومریدین بار بار پوچھتے ہیں کہ کیا تکلیف ہے, کس نے رلا دیا… مگر شیخ المشائخ کی مبارک آنکھیں ابر نیساں کی مانند برستی رہیں… ع

برسی جاتی ہیں انکھیاں جیسے ساون کی جھڑی

جانے کون ہے جو تڑپا گیا دل کو

ہر بہتا آنسو مریدین کے دلوں کی بے چینی کو بڑھانے والا تھا.. آخر جگر گوشہ شیخ المشائخ حضرت سید محمد میاں المعروف حضور محدث اعظم عرض کناں ہوتے ہیں …تب کہیں جاکر شیخ المشائخ آنسوؤں پر ضبط کرتے ہوئے بڑی غمناک آواز میں کہتے ہیں:

*میں فرشتوں کے کاندھوں پر قطب الارشاد کا جنازہ دیکھ رہا ہوں*

لوگ حیرت واستعجاب کے ساتھ دریافت کرتے ہیں حضرت قطب الارشاد کون ہیں ؟

اس پر حضور شیخ المشائخ فرماتے ہیں کہ *قطب الارشاد کوئی اور نہیں مجدد دین وملت اعلی حضرت امام احمد رضا ہیں*…. آج بریلی شریف میں اس عاشق صادق کا انتقال پر ملال ہوگیا ہے…جس کے دم سے سنیت کی کھیتی سرسبز وشاداب تھی… جس کا وجود سنیت کے لئے مانند گلاب تھا… جو ہند میں عظمت رسالت کا پہرے دار تھا… جس کے عشق صادق کو مدینہ کے تاجدار,سرورِ کشور رسالت سید عالم صلی اللہ علیہ کی بارگاہ سے ایسی مقبولیت ملی کہ ہند میں رہنے والے احمد رضا کا سلام صبح وشام تاجدارِ مدینہ کی بارگاہ میں پیش کیا جاتا ہے…

سب یہ صدقہ ہے عرب کے جگمگاتے چاند کا

نام روشن اے رضا جس نے تمہارا کر دیا

(ماخوذ اعلی حضرت ایک عالمگیر شخصیت ص110)

غلام مصطفی نعیمی

ایڈیٹر سواد اعظم دہلی

خلیفہ حضور تاج الشریعہ

15 صفر المظفر 1440ھ

25 اکتوبر 2018ء بروز جمعرات