بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِىۡ كَيۡفَ تُحۡىِ الۡمَوۡتٰى ؕ قَالَ اَوَلَمۡ تُؤۡمِنۡ‌ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰـكِنۡ لِّيَطۡمَٮِٕنَّ قَلۡبِىۡ‌ؕ قَالَ فَخُذۡ اَرۡبَعَةً مِّنَ الطَّيۡرِ فَصُرۡهُنَّ اِلَيۡكَ ثُمَّ اجۡعَلۡ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنۡهُنَّ جُزۡءًا ثُمَّ ادۡعُهُنَّ يَاۡتِيۡنَكَ سَعۡيًا ‌ؕ وَاعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ

اور (یاد کیجئے) جب ابراہیم نے کہا : اے میرے رب ! مجھے دکھا تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا ‘ اللہ نے فرمایا : کیا آپ کو یقین نہیں ؟ عرض کیا کیوں نہیں ‘ مگر تاکہ میرا دل مطمئن ہوجائے ‘ فرمایا چار پرندے لیں اور ان کو خود سے مانوس کرلیں (پھر ان کو ذبح کرکے) ان کے جسم کا ایک ایک ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دیجئے پھر انہیں بلائیے وہ آپ کے پاس دوڑتے ہوئے آجائیں گے ‘ اور یقین رکھیے اللہ بہت غالب بڑی حکمت والا ہے۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حیات بعد الموت کا مشاہدہ کرانا :

اس سے پہلی آیت میں حضرت عزیر (علیہ السلام) کو حیات بعد الموت کے مشاہدہ کرانے اور ان کے تعجب کو زائل کرنے کا ذکر تھا ‘ اور اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حیات بعد الموت کے مشاہدہ کرانے کا ذکر ہے ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو یہ سوال کیا تھا کہ انہیں دکھایا جائے اللہ مردوں کو کیسے زندہ کرے گا ‘ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس میں شک تھا یا اللہ کی قدرت میں شک تھا وہ دوبارہ زندہ کرنے کی کیفیت کا مشاہدہ کرنا چاہتے تھے کیونکہ انسان کی طبیعت میں ان دیکھی چیز کو دیکھنے کا اشتیاق ہوتا ہے ‘ ان کو بعث بعد الموت اور حشر ونشر پر جو ایمان علم الیقین کے درجہ میں تھا اس کو عین الیقین کے درجہ میں ترقی دینا چاہتے تھے ‘ امام احمد روایت کرتے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خبر مشاہدہ کی طرح نہیں ہے۔ الحدیث (مسند احمد ج ١ ص ٢٧١‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

اس حدیث کو امام ابن عدی نے بھی روایت کیا ہے۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال ج ١ ص ٢٠٣‘ ج ٤ ص ١٥٨٠‘ ج ٧ ص ٢٤٩٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت)

امام طبرانی نے اس حدیث کو حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے۔ (معجم اوسط ج ١ ص ٤٦‘ مطبوعہ مکتبۃ المعارف ‘ ریاض ‘ ١٤٠٥ ھ)

امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک راستہ سے گزر رہے تھے ‘ انہوں نے دیکھا کہ راستہ میں ایک مردہ گدھا پڑا ہوا ہے جس کا گوشت نوچ نوچ کر درندے اور پرندے کھا رہے ہیں ‘ جب درندے چلے گئے اور پرندے اڑ گئے اور اس مردہ گدھے کی صرف ہڈیاں باقی بچ گئیں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو تعجب ہو اوہ کہنے لگے : اے میرے رب ! مجھے یقین ہے کہ تو اس گدھے کو ان درندوں اور پرندوں کے پیٹوں سے جمع کرے گا ‘ اے میرے رب ! تو مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا آپ کو اس پر ایمان نہیں ہے ؟ عرض کیا : کیوں نہیں ! لیکن خبر معائنہ کی طرح نہیں ہے۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ٣٣ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

قرآن مجید میں جن چار پرندوں و ذبح کرکے ان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا بیان ہے اس کی تفسیر میں امام ابن جریر نے روایت کیا ہے :

مجاہد نے بیان کیا ہے کہ یہ چار پرندے مرغ ‘ مور ‘ کوا اور کبوتر تھے۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ٣٥ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

علامہ بیضاوی نے لکھا ہے کہ بعض روایات میں کبوتر کی جگہ گدھ کا ذکر ہے ‘ اور اس میں یہ اشارہ ہے کہ نفس انسانی کو حیات ابدیہ اس وقت حاصل ہوگی جب وہ اپنی شہوات اور حسن وزیبائش کو ذبح کر دے جو مور کی صفت ہے اور دوسروں پر حملہ کرنے کے جذبہ کو فنا کر دے جو مرغ کی صفت ہے اور نفس کی خساست اور گھٹیا پن کو دور کردے جو کوے کی صفت ہے اور اپنی خواہشات کو جلدی پورا کرنے کی عادت کو دور کردے جو کبوتر کی صفت ہے ‘ روایت ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ ان پرندوں کو ذبح کردیں ‘ ان کے پر نوچ ڈالیں اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ان کو خلط ملط کردیں ‘ پھر ان منتشر اجزاء کو مختلف پہاڑوں پر ڈال دیں ‘ پھر ان کو بلائیں ‘ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو بلایا تو وہ اجزاء متمیز ہوئے اور ہر جسم کے اجزاء آپس میں مل گئے اور اخیر میں ان کے ساتھ ان کا سرجڑ گیا۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ اگر انسان حیات ابدیہ چاہتا ہے تو وہ اپنے بدن کی طاقت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے (غالبا اس سے یہ مراد ہے کہ اللہ کے احکام سے روگردانی اور سرکشی کی طاقت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے) پھر جب وہ اپنے بدن کو احکام شرعیہ پر عمل کرنے لیے بلائے گا تو وہ اس کی اطاعت کرے گا اور اس کو دائمی حیات حاصل ہوجائے گی۔ (انوار التنزیل ص ٦٠ مطبوعہ دارفراس للنشر والتوزیع ‘ مصر)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 260