بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُبۡطِلُوۡا صَدَقٰتِكُمۡ بِالۡمَنِّ وَالۡاَذٰىۙ كَالَّذِىۡ يُنۡفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَلَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفۡوَانٍ عَلَيۡهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلۡدًا ‌ؕ لَا يَقۡدِرُوۡنَ عَلٰى شَىۡءٍ مِّمَّا كَسَبُوۡا ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡـكٰفِرِيۡنَ

اے ایمان والو ! احسان جتا کر اور اذیت پہنچا کر اپنے صدقات ضائع نہ کرو اس شخص کی طرح جو اپنا مال ریاکاری کے لیے خرچ کرتا ہے اور وہ اللہ پر اور قیامت کے دن پر امان نہیں رکھتا ‘ اس کی مثال اس چکنے پتھر کی طرح ہے جس پر کچھ مٹی ہو ‘ پھر اس پر زور کی بارش ہوئی جس نے اس پتھر کو بالکل صاف کردیا ‘ وہ اپنی کمائی سے کسی چیز پر قدرت نہیں پائیں گے اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا

القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 264