حدیث نمبر :145

روایت ہے رافع ابن خدیج سے ۱؎ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے اہلِ مدینہ کھجوروں کی شادی کرتے تھے۲؎ تو فرمایا تم یہ کیا کرتے ہو وہ بولے ہم پہلے سے ایسا کرتے آئے ہیں فرمایا ممکن ہے کہ تم یہ نہ کرو تو اچھا ہو۳؎ لوگوں نے یہ شادی چھوڑ دی پھل کم ہوگئے فرماتے ہیں کہ انہوں نے یہ واقعہ آپ سے عرض کیا ۴؎ تو فرمایا کہ میں ایک بشر ہوں جب تم کو کسی دینی کام کا حکم دوں تو اسے لے لو اور جب اپنی رائے سے کچھ کہوں تو میں بشرہی ہوں۵؎ (مسلم)

شرح

۱؎ آپ کی کنیت ابوعبداﷲ ہے،حارثی ہیں،انصاری ہیں،غزوۂ احد میں تیر لگا تھا،مگر زخم مہلک نہیں ہوا بھر گیا تھا۔عبدالملک ابن مروان کے زمانہ میں وہ زخم پھر بہا،اسی سے آپ کی وفات ہوئی،سوا غزوۂ بدر کے کہ اس وقت آپ بچے تھے باقی تمام غزوات میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ رہے۔چھیاسی سال کی عمر پا کر ۷۳ھ؁ میں مدینہ منورہ میں وفات پائی وہیں دفن ہوئے۔

۲؎ اس طرح کہ نرکھجور کی شاخ مادہ کھجور میں پیوندکردیتے تھے جس سے پھل زیادہ اور اچھے ہوتے تھے ہمارے ہاں اسے درخت یا باغ کی شادی کہا جاتا ہے اس موقع پر باغ والے بڑی خوشی مناتے ہیں۔خیال رہے کہ درختوں میں بھی نر اور مادہ ہیں بعض کو لوگ جانتے ہیں،بعض کو نہیں،نر درخت سے ہوا مس کرکے جب مادہ میں لگتی ہے تو اس سےپھل آتے ہیں۔مرقاۃ میں فرمایا کہ آدم علیہ السلام کی بچی مٹی سے کھجور کا درخت پیدا ہوگیا اس لیئے اس میں نرمادہ کا اجتماع ضروری ہے۔

۳؎ کہ تم اس مشقت سے بچ جاؤ اور پھل بھی جو مقدر میں ہیں ملیں اور تمہیں تو کل کا درجہ نصیب ہو۔

۴؎ بعض علماء نے فرمایا کہ ان حضرات نے صبر سے کام نہ لیا بلکہ جلد ہی شکایت کردی اگر توکل کرکے کچھ روز نقصان برداشت کرتے تو بڑی برکت دیکھتے۔حضور کی رائے بھی مبارک ہے۔خیال رہے کہ حضور باغ کے اس رمز سے بے خبر نہ تھے بلکہ انہیں توکل کا سبق دیا تھا بے خبری کیسے ہوسکتی ہے حضور اعلم الاولین والاخرین ہیں،کیسے ہوسکتا ہےکہ باغ والے تو اس چیز کو جانیں اور حضور نہ جانیں۔یوسف علیہ السلام نے کبھی کاشتکار ی نہ کی تھی مگر بادشاہ مصر سے فرمایا:”فَمَا حَصَدۡتُّمْ فَذَرُوۡہُ فِیۡ سُنۡۢبُلِہٖۤ ” گندم بھوسہ سے الگ نہ کرو تاکہ خراب نہ ہو اور قحط میں کام آئے۔نیز آپ نے کبھی سلطنت نہ کی تھی مگر بادشاہ مصر سے فرمایا کہ مجھے خزانوں کا حاکم بنادے” اِنِّیۡ حَفِیۡظٌ عَلِیۡمٌ “میں سب کچھ جانتا ہوں،سب قحط والوں کو سنبھال لوں گا۔جب یوسف علیہ السلام کے علم کا یہ عالم ہے تو ہمارے حضور علیہ الصلوۃ والسلام اس معمولی بات سے کیسے بے خبر ہو سکتے ہیں۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب”جاء الحق”میں دیکھو۔

۵؎ یعنی ہمارے فرمان دوقسم کے ہیں:شرعی احکام اور دنیوی رائے شریف۔شرعی احکام لازم العمل ہیں کیونکہ وہاں نبوت اور نورانیت کا لحاظ ہے مگر رائے مبارک کا قبول کرنا مستحب ہے نہ ماننے کا بھی اختیار ہےلیکن بڑا یاحقیرجاننا اس کا بھی کفر ہوگا۔یہی اہل سنت کا عقیدہ ہے اور یہی اس حدیث کا مطلب ہے کہ میرا کلام قرآن کو منسوخ نہیں کرسکتا،یعنی رائے اور مشورےکیونکہ رائے میں حضور کی بشریت کی جلوہ گری ہے۔خیال رہے کہ حضور کا اپنے کو بشر فرمانا آپ کاکمال ہے۔ہم اگر یہ لفظ اہانت یا برابری کے دعویٰ سے کہیں تو کافر ہوجائیں گے۔شیطان نبی کی حقارت کرکے اور انہیں بشر کہہ کر ہی کافر ہوا کہ کہا”مَا کُنْتُ لِاَسْجُدَ لِبَشَرٍ”یونس علیہ السلام نے اپنے کو ظالم کہا:”اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ”کوئی اورشخص نبی کو ظالم کہے تو خود ظالم ہوجائے،بادشاہ کہے میں آپ کا خادم ہوں اس کا کمال ہے لیکن اور کوئی کہے تو سزا پائے گا۔خیال رہے کہ حکم اور مشورے کا فرق قرآن کریم میں موجود ہے فرماتا ہے:”اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ “(نماز قائم کرو)یہ حکم ہے جس کا تارک گنہگار ہے اور فرماتا ہے:”اِذَا تَدَایَنۡتُمۡ بِدَیۡنٍ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکْتُبُوۡہ”جب کسی کو وقت مقرر تک قرض دو تو لکھ لو،یہ قرآن کا مشورہ ہے جس پرعمل نہ کرنا گناہ نہیں،دنیاوی سلاطین بھی اپنی رعایا کوکبھی حکم دیتے ہیں کبھی مشورہ۔احکام قرآنیہ میں رب تعالٰی کی سلطنت اورقدرت کاظہور ہے اور اس کےمشوروں میں رب کی رحمانیت کی جلوہ گری۔