بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَيَوَدُّ اَحَدُكُمۡ اَنۡ تَكُوۡنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّاَعۡنَابٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُۙ لَهٗ فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ الثَّمَرٰتِۙ وَاَصَابَهُ الۡكِبَرُ وَلَهٗ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَآءُ ۖۚ فَاَصَابَهَاۤ اِعۡصَارٌ فِيۡهِ نَارٌ فَاحۡتَرَقَتۡ‌ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَتَفَكَّرُوۡنَ

کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو اور اس کے نیچے دریا بہہ رہے ہوں ‘ اس کے لیے اس باغ میں ہر قسم کے پھل ہوں اور اس کو بڑھاپا آجائے ‘ اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں تو (اچانک) اس باغ میں گرم ہوا کا ایک بگولہ آئے جس میں آگ ہو اور وہ باغ جل جائے اللہ تمہارے لیے اسی طرح آیتیں بیان فرماتا ہے تاکہ تم غور وفکر کرو

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں ایک باغ ہو اور اس کے نیچے دریا بہہ رہے ہوں ‘ اس کے لیے اس باغ میں ہر قسم کے پھل ہوں ‘ اس کو بڑھاپا آجائے اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں تو (اچانک) اس باغ میں گرم ہوا کا ایک بگولہ آئے جس میں آگ ہو اور وہ باغ جل جائے۔ (البقرہ : ٢٦٦)

سخت حاجت کے وقت باغ کے جل جانے کی مثال کی دو تقریریں :

جو شخص صدقہ و خیرات کرنے کے بعد احسان جتائے اور ایذاء پہنچائے اس کی محرومی کی ایک مثال پہلے البقرہ : ٢٦٤ میں تھی اور دوسری مثال اس آیت میں ہے۔ پہلی مثال میں یہ ذکر کیا تھا کہ کسی چکنے پتھر پر مٹی ہو اور مٹی کو تیز بارش بہا کرلے جائے اس مثال میں یہ بتایا ہے کہ کسی شخص کا بہت حسین اور پھل دار باغ ہو ‘ وہ اس وقت بوڑھا ہو اور کمانے سے عاجز ہو اور اس پر چھوٹے چھوٹے بچوں کی پرورش کا بھی بوجھ ہو تو ظاہر ہے اس وقت اس کو باغ کی بہت سخت ضرورت ہوگی کیونکہ وہ خود بڑھاپے کی وجہ سے کما نہیں سکتا ‘ بچے جوان نہیں جو اس کو کما کر لادیں بلکہ خود ان بچوں کی پرورش کی اس پر ذمہ داری ہے ‘ اب اچانک اگر وہ باغ کسی آگ والے بگولے سے جل جائے تو اس کے نقصان اور محرومی کا کیا عالم ہوگا ‘ اسی طرح اللہ کی راہ میں مال خرچ کرے اور فقراء مساکین کو صدقہ و خیرات دے اور اس کو یہ امید ہو کہ آخرت میں جب وہ نیک عمل کرنے سے بالکل عاجز ہوگا اور اس کی نیکیوں پر اجر وثواب کی سخت حاجت ہوگی اور کہیں اور کسی ذریعہ سے کسی نیکی کے ملنے کا امکان نہیں ہوگا اور اس کی واحد امید وہ صدقات و خیرات ہوں جو اس نے دنیا میں کیے تھے ‘ پھر اس کو اچانک معلوم ہو کہ اس نے جو ان صدقات پر احسان جتایا اور فقراء کو طعنے دے کر ایذاء پہنچائی تھی اس سے وہ تمام صدقات ضائع ہوچکے ہیں تو اس شخص کی محرومی کا کیا عالم ہوگا۔

اس مثال کی دوسری تقریر یہ ہے ‘ حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام عبد بن حمید نے عطاء سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابن عباس (رض) سے اس آیت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا : اے امیر المؤمنین ! اللہ نے یہ مثال بیان کی ہے کہ کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ ساری عمر صالح اور نیک عمل کرتے رہے حتی کہ جب وہ بوڑھا ہوجائے اس کی موت قریب آ لگے اور اس کی ہڈی کمزور ہوچکی ہو اور اس وقت اس بات کی سب سے زیادہ احتیاج ہو کہ اس کے اعمال کا خاتمہ نیکیوں پر ہو ‘ اور اس وقت وہ دوزخیوں کے سے برے کام کرنے شروع کردے اور ایسے برے کام کرے جن سے اس کے سابقہ سارے نیک کام اور صالح عمل اکارت چلے جائیں اور ضائع ہوجائیں اور اس کی زندگی کے سارے نیک کاموں کا باغ اس آخری برائی سے جل کر راکھ ہوجائیے۔ اس مثال کا حضرت عمر (رض) پر بڑا گہرا اثر ہوا اور وہ حیران ہوگئے۔

اے بار الہ ! مصنف اور اس کتاب کے قارئین کو ایسی برائی سے اپنی پناہ میں رکھنا جو زندی کی ساری نیکیوں کو جلا ڈالے اور ہمیں حسن عاقبت سے محروم نہ کرنا اور ایمان اور اعمال صالحہ پر ہمارا خاتمہ کرنا ‘ مصنف اپنی زندگی کے آخری حصہ میں ہے ‘ اس کو اپنی پناہ اور امان میں رکھنا ‘ آمین۔

امام طبرانی نے ” معجم اوسط “ میں اور امام حاکم نے تصحیح سند کے ساتھ حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا کرتے تھے : اے اللہ ! جب میرا بڑھاپا ہو اور میری عمر کے انقطاع کا وقت ہو اس وقت مجھے اپنا سب سے وسیع رزق عطا فرمانا۔ (معجم اوسط ج ١ ص ٣٤٠‘ مطبوعہ مکتبۃ المعارف ‘ ریاض ‘ ١٤٠٥ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 266