حدیث نمبر :149

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت تلاوت کی کہ وہ رب وہ ہے جس نے تم پر کتاب اتاری جس میں واضح آیات ہیں ۱؎ اور مایذکرالآیہ تک پڑھی فرماتی ہیں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم(اور مسلم میں ہے)لوگ انہیں دیکھو جو متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں تو یہ ہی وہ لوگ ہیں جن کا اﷲ نے ذکر فرمایا ان سے بچو ۲؎ (مسلم وبخاری)

شرح

۱؎ یہاں محکم سے صریح اور واضح آیات مراد ہیں جیسا کہ متشابہ کے تقابل سے معلوم ہورہا ہے۔اصطلاح اصول میں محکم وہ ہیں جن میں نہ تاویل کا احتمال ہو نہ نسخ کا اندیشہ جیسے ذات و صفات اورحضور کی نعت و صحابہ کے مناقب کی آیت۔

۲؎ یعنی جو آیتوں کی تاویلات کے پیچھے پڑ ے رہتے ہیں اور فتنہ پھیلانے کے لیئے ان کے فاسد معانی بیان کرتے ہیں ان کے دلوں میں کجی ہے ان سے دور بھاگو۔خیال رہے کہ متشابہ آیات دو قسم کی ہیں:ایک مشتبہ المعنی جیسے” المٓ،الر”وغیرہ مقطعات قرآنیہ جن کی معنے ہی سمجھ میں نہیں آتے۔دوسرے مشتبہ المراد جیسے”فَثَمَّ وَجْہُ اللہ”وغیرہ آیاتِ صفات ان دونوں قسم کی متشابہات میں جرح و قدح اور فتنے کے لیئے تاویلیں کرنا حرام ہیں لیکن مناسب تاویلیں اس زمانہ میں گناہ نہیں تاکہ لوگ غلط تاویلوں سےبچیں۔حدیث میں پہلی قسم کے لوگ مراد ہیں اسی لیئے قرآن کریم نےفرمایا:”ابْتِغَآءَ الْفِتْنَۃِ “۔ یقین رکھوکہ اﷲ تعالٰی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان کی طفیل بعض مقبولوں کو متشابہات کا علم دیا،رب فرماتاہے:”اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ”اپنےمحبوب کو رحمان نے قرآن سکھایا ظاہرہے کہ سارا ہی قرآن سکھایا جس میں متشابہات بھی ہیں۔