حدیث نمبر :147

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کہاوت اس شخص کی سی ہے ۱؎ جس نے آگ روشن کی جب آگ نے ارد گرد کو چمکا دیا تو پتنگے اور یہ جو آگ میں گرا کرتے ہیں(جانور)اس میں گرنے لگے۲؎ اور انہیں روکنے لگا اور وہ جانور اس پر غالب آئے جاتے ہیں آگ میں گرے جاتے ہیں۳؎ چنانچہ میں تمہاری کمر پکڑکر آگ سے بچاتا ہوں اور تم اس میں گرے جاتے ہو۴؎ یہ بخاری کی روایت ہے مسلم کی روایت اسی طرح ہے مگر اس کے آخر میں فرمایا کہ حضور نے فرمایا یہ میری تمہاری مثال ہے میں تمہیں کمر سے پکڑکر آگ سے بچارہا ہوں آگ سے بھاگ آؤ مگر تم مجھ پر غالب آئے جاتے ہو اور اس میں گرے جاتے ہو۔(مسلم و بخاری)

شرح

۱؎ یہ بھی تشبیہ مرکب ہے کہ ایک پورے واقعہ کو پورے واقعہ سے تشبیہ دی گئی ہے۔اﷲ تعالٰی نے دنیا اور یہاں کی الجھنوں کو دین کا ذریعہ بنانے کے لیئے پیدا فرمایا مگر لوگوں نے انہیں غلط استعمال کرکے ہلاکت کا ذریعہ بنالیا جیسے کوئی جنگل میں مسافروں کی ہدایت اور روشنی کے لیئے آگ جلائے مگر پتنگے اسی آگ کو اپنی ہلاکت کا سامان بنالیں،ا ور ہلاکت کو اپنی نجات سمجھیں۔

۲؎ چنانچہ دنیا کی لذتیں آگ ہیں اور ہم ناسمجھ بندے پتنگے کہ اس کو غلط استعمال کرکے اپنے کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔

۳؎ خیال رہے کہ تشبیہ میں آگ جلانے والا اور ہے اور بچانے والا اور۔جن دونوں کو لفظ رجل شامل ہے ایسے ہی یہاں دنیا بنانے والا رب ہے اور اس کے غلط استعمال سے بچانے والےحضور ہیں۔

۴؎ حضور کا اپنی امت کو نرمی گرمی سے سمجھانا بجھانا گویا ان کی کمر پکڑ کر آگ سے روکنا ہے یہ روکنا تاقیامت رہے گا،علماء مشائخ کی تبلیغیں،غازیوں کے جہاد،حضور ہی کی تبلیغ ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص اپنی دانائی یا اپنی تجویز کردہ عقلی عبادتوں کے ذریعہ دوزخ سے نہیں بچ سکتا جب تک کہ حضور کی ہدایت کو قبول نہ کرے ورنہ ہندو،سادھو اور عیسائی راہب ترک دنیا کرکے عمربھرعبادتیں کرتے ہیں مگر دوزخی ہیں۔