بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَثَلُ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثۡبِيۡتًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ كَمَثَلِ جَنَّةٍۢ بِرَبۡوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتۡ اُكُلَهَا ضِعۡفَيۡنِ‌ۚ فَاِنۡ لَّمۡ يُصِبۡهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ

اور جو لوگ اپنے مالوں کو اللہ کی رضا جوئی اور اپنے دلوں کو مضبوط رکھنے کے لیے خرچ کرتے ہیں ‘ اس کی مثال اونچی زمین پر ایک باغ کی طرح ہے جس پر زور دار بارش ہو تو وہ اپنا پھل دگنا لائے ‘ پھر اگر اس پر زور دار بارش نہ ہو تو اسے شنبم ہی کافی ہے ‘ اور اللہ تمہارے سب کاموں کو دیکھنے والا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جو لوگ اپنے مالوں کو اللہ کی رضا جوئی اور اپنے دلوں کو مضبوط رکھنے کے لیے خرچ کرتے ہیں ‘ ان کی مثل اونچی زمین پر ایک باغ کی طرح ہے جس پر زور دار بارش ہو تو وہ اپنا پھل دگنا لائے ‘ پھر اگر اس پر زور دار بارش نہ ہو تو اسے شنبم ہی کافی ہے۔ (البقرہ : ٢٦٥)

جہاد اور اللہ کی رضاجوئی میں خرچ کرنے کی مثالوں کا فرق :

اس سے پہلے فرمایا تھا کہ جو اللہ کی راہ (جہاد) میں اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں ‘ ان کی مثال اس دانے کی طرح ہے جس نے سات خوشے اگائے کہ ہر خوشے میں سات سو دانے ہیں ‘ اور اسی پر عطف کرتے ہوئے فرمایا : اور جو لوگ اپنے مالوں کو اللہ کی رضا جوئی کے لیے خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اونچی زمین پر ایک باغ کی طرح ہے ‘ دنیا میں زراعت سے غلہ اور پھل حاصل ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے آخرت میں ان کے اجر وثواب کی مثال بھی دانوں (غلہ) اور پھلوں سے دی ہے ‘ اور جس نے اللہ کی راہ (جہاد) میں خرچ کیا اس کے اجر کی مثال دانوں سے دی ہے اور جس نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے خرچ کیا اس کی مثال باغ سے دی ہے اور جو رضاجوئی کے لیے خرچ کیا اس کی مثال باغ سے دی ہے اور جو رضا جوئی اور اسلام پر اپنا دل مضبوط رکھنے کے لیے خرچ کرتا ہے اس کی مثال باغ کے ساتھ دینے میں یہ لطافت ہے کہ جس طرح باغ میں درختوں کی جڑیں زمین میں پیوست اور مضبوط ہوتی ہیں اسی طرح اس خرچ کرنے والے کے سینہ میں اسلام کی جڑیں پیوست اور مضبوط ہیں۔ اس کے برخلاف غلہ کے دانے کھیتوں سے حاصل ہوتے ہیں اور کھیت کی جڑیں زمین میں پیوست اور مضبوط نہیں ہوتیں ‘ نیز کھیت میں پانی لگانے کی ہر کھیتی کے وقت ضرورت ہوتی ہے اور باغ پانی لگانے سے مستغنی ہوتا ہے ‘ سوا سی طرح جہاد کے لیے ہر مرتبہ جہاد کے وقت مال خرچ کرنے کی ضرورت ہے اور جو اللہ کی رضاء جوئی کے لیے خرچ کرتا ہے اس کے لیے کسی وقت اور موقع کی قید نہیں ہے ‘ وہ ہر وقت اللہ کی رضا جوئی کے لیے خرچ کرتا ہے۔

ریاکار منافق اور مخلص مومن کے راہ خدا میں خرچ کرنے کی مثالوں کا فرق :

اس سے پہلی آیت (البقرہ : ٢٦٤) میں اللہ تعالیٰ نے منافق کے خرچ کرنے کی مثال دی تھی کہ جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا اور ریا کاری سے اپنا مال خرچ کرتا ہے ‘ اس کی مثال اس چکنے پتھر کی طرح ہے جس پر (کچھ) مٹی ہو ‘ پھر اس پر زور کی بارش ہوئی جس نے اس پتھر کو بالکل صاف کردیا ‘ احسان جتانے والے ‘ ایذاء پہنچانے والے اور منافق کو چکنے پتھر سے تشبیہ دی ہے اور ان کے خرچ کرنے کے ظاہری عمل کو چکنے پتھر پر پڑی ہوئی تھوڑی سی مٹی سے تشبیہ دی ہے اور قیامت کے دن کو زور دار بارش سے تشبیہ دی ہے۔ اور قیامت کے دن ان کے نامہ اعمال سے وہ سب دھل کر صاف ہوجائے گا جیسا کہ اس آیت میں ہے :

(آیت) ” وقدمنا الی ماعملوا من عمل فجعلنہ ھبآء منثورا “۔۔ (الفرقان : ٢٣)

ترجمہ : اور (ان کافروں نے اپنے زعم میں جو بھی نیک) عمل کیے ہیں ‘ ہم ان کی طرف قصد فرمائیں گے ‘ پھر ہم انہیں (فضاء میں) بکھرے ہوئے (غبار کے) باریک ذرے بنادیں گے “۔۔

اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اخلاص سے خرچ کرنے والے مومن کی مثال دی ہے جو اللہ کی رضا جوئی اور اسلام پر اپنے دل کو مضبوط رکھنے کے لیے خرچ کرتا ہے ‘ اس کے اجر وثواب کی مثال بلندی پر لگے ہوئے اس باغ کی طرح ہے جس پر زور کی بارش ہو تو وہ اپنا پھل دگنا لائے اور اگر زور کی بارش نہ ہو تو اس باغ کی ثمر آوری کے لیے معمولی شنبم ہی کافی ہے ‘ سو اسی طرح اخلاص اور اللہ کی رضا جوئی اور دین پر ثابت قدم رہنے کے لیے زیادہ خرچ کرے یا کم خرچ کرے اللہ کے ہاں اس کے اجر وثواب کا جو باغ لگا ہوا ہے وہ پھلتا پھولتا رہے گا ‘ اس میں مخلص مسلمانوں کو یہ تسلی دینا ہے کہ اگر کوئی مسلمان تنگ دست اور کم حیثیت ہے تو وہ یہ غم نہ کرے کہ اگر اس نے اللہ کی راہ میں اپنی تنگ دستی کی وجہ سے کم خرچ کیا تو اللہ کے نزدیک اس کم حیثیت ہوگی ‘ بلکہ یہ فرمایا کہ مومن اخلاص اور اللہ کی رضا جوئی کے لیے حسب حیثیت کم خرچ کرے یا زیادہ آخرت میں اس کے اجر وثواب کا باغ پھلتا پھولتا رہے گا۔

اللہ کی رضا جوئی اور اسلام پر ثابت قدمی کے لیے خرچ کرنے کی صورتیں :

اس آیت (البقرہ : ٢٦٥) میں اللہ کی رضا جوئی اور اسلام پر ثابت قدمی کے لیے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ‘ اور اس کی حسب ذیل صورتیں ہیں :

(١) اللہ کی رضا جوئی اور اپنے دلوں کو اسلام پر مضبوط رکھنے کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو احکام شرع پر عمل کرنے کا عادی بنائیں اور اپنے نیک اعمال کو ایسی نیتوں اور ایسے اور کاموں سے محفوظ رکھیں جن سے وہ نیک اعمال فاسد ہوجائیں ‘ ایسی نیتوں میں ریا کاری اور دکھاوے کی نیت ہے اور ایسے کاموں میں صدقہ لینے والے پر احسان جتانا اور طعنہ دے کر اسے تکلیف پہنچانا ہے۔

(٢) دل کا ثابت قدم رہنا صرف اللہ کے ذکر سے حاصل ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : سنو ! اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے ‘ تو جو شخص اس کی راہ میں مال خرچ کرتا ہے اس کا اسلام پر اس وقت تک مطمئن اور مضبوط نہیں ہوتا جب تک اس کا خرچ کرنا محض اللہ کی رضاجوئی کے لیے نہ ہو ‘ اسی وجہ سے حضرت علی نے خرچ کرتے وقت فرمایا : ہم ابوبکر نے حضرت بلالل کو بھاری قیمت پر خرید کر آزاد کیا اور مشرکوں نے کہا : ضرور بلال نے ابوبکر پر کوئی احسان کیا ہوگا جس کا بدلہ چکانے کے لیے ابوبکر نے بلال کو اتنی گراں قیمت پر خرید کر آزاد کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر کی مدح میں فرمایا :

(آیت) ” وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی ، A الا ابتغآء وجہ ربہ الاعلی ، A ولسوف یرضی۔ (اللیل : ٢١۔ ١٩)

ترجمہ : اور اس پر کسی کا کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے۔ وہ صرف اپنے رب کی رضا جوئی کے لیے (اپنا مال خرچ کرتا ہے) جو سب سے بلند ہے ، A اور ضرور وہ عنقریب راضی ہوگا۔

اسی طرح حضرت صہیب رومی جب اللہ کی رضاجوئی کے لیے اپنا سارا مال ومتاع مکہ میں چھوڑ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مدینہ آگیے تو یہ آیت نازل ہوئی :

(آیت) ” ومن الناس من یشری نفسہ ابتغآء مرضات اللہ “۔ (البقرہ : ٢٠٧) اور بعض لو وہ ہیں جو اللہ کی رضاجوئی کے لیے اپنے نفس فروخت کردیتے ہیں ‘ سو جب انسان کی طبیعت میں یہ چیز راسخ ہوجاتی ہے کہ وہ محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے اپنے مال کو خرچ کرتا ہے اور اس خرچ سے کوئی نفسانی منفعت مطلوب نہیں ہوتی تو اس کے دل میں اسلام کی جڑیں پیوست ہوجاتی ہیں اور اسلام پر اس کا دل مطمئن ہوجاتا ہے۔ حضرت ابوبکر، حضرت عثمان ‘ حضرت علی ‘ حضرت صہیب رومی اور دیگر صحابہ کرام اسی پائے کے مخلصین تھے۔

(٣) جب انسان بار بار اللہ کی رضا جوئی کے لیے خرچ کرتا ہے تو اللہ کی رضا جوئی اس کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہے اور اگر کبھی اس سے کسی نیک کام میں غفلت بھی ہوجائے تو اس کا دل فورا اللہ کی جانب کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور یہی اسلام پر ثابت قدم رہنے کا وہ مرتبہ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر فرمایا ہے۔

(٤) مخلصین جب اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو ان کو یقین ہوتا ہے کہ اللہ ان کے عمل کو ضائع نہیں کرے گا اور ان کو جو اللہ سے ثواب کی امید ہے وہ پوری ہوگی کیونکہ ان کو یوم قیامت اور ثواب و عذاب کا یقین ہوتا ہے اس کے برعکس منافق جب خرچ کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس کا یہ عمل ضائع ہو رہا ہے کیونکہ اس کو آخرت پر ایمان نہیں ہوتا ‘ اور مخلصین کا آخرت پر یقین رکھنا ہی اسلام پر ثابت قدمی سے عبارت ہے۔

(٥) مخلصین جب اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو اپنے مال کو صحیح مصارف میں خرچ کرتے ہیں اور نیکی کے راستہ میں لگاتے ہیں اور خوب چھان بین کر اپنا مال خرچ کرتے ہیں اور اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ان کا مال کہیں اللہ کی نافرمانی اور کسی گناہ کے کام میں نہ لگ جائے ‘ اور یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی رضا جوئی اور اسلام پر ثابت قدمی کی نیت سے اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 265