حدیث نمبر :150

روایت ہے عبداﷲ بن عمرو سے فرماتےہیں ایک دن دوپہری میں میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے دوشخصوں کی آوازیں سنیں جو کسی آیت میں جھگڑ رہے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے کہ چہرہ میں غصہ معلوم ہوتا تھا فرمایا تم سے پہلے لوگ کتاب اﷲ میں جھگڑوں کی وجہ سے ہی ہلاک ہوگئے ۱؎ (مسلم)

شرح

۱؎ کتاب میں اختلاف کی تین صورتیں ہیں: (۱)قرآن کو اپنی رائے کے مطابق کرنے کی کوشش کرنا جیسے آج کل دیکھا جارہا ہے۔(۲)خود قرآن کی آیت میں اختلاف کہ یہ آیت کتاب اﷲ ہے یا نہیں۔(۳)قرآن کریم سے مسائل نکالنے میں اختلاف،پہلے۲ دوقسم کے اختلاف حرام بلکہ کفر ہیں،تیسری قسم کا اختلاف عبادت ہے جوصحابہ کرام کے زمانہ سے چلا آرہا ہے۔یہ اختلاف آئمہ مجتہدین میں ہوسکتا ہے،یہاں پہلی دو قسم کے اختلاف مراد ہیں۔اہل کتاب نے بھی آسمانی کتب میں اسی قسم کے اختلاف کیئے تھے۔