قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کا وہ معجزہ کلام ہے جو ساری کائنات کے لئے سرچشمۂ ہدایت ہے۔ اس کا فیضان کسی خاص مکان یا کسی محدود زمانے کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ رہتی دنیا تک عالم کی رشدوہدایت کا منبع اور متلاشیان راہ حق کے لئے مشعل راہ ہے اسی لئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کی حفاظت کا ذمہ خود لیا: ’’ انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون‘‘ (قرآن ہمیں نے نازل کیا اور ہم ہی اسی کے محافظ ہیں)اور سارے عالم کو اس میں تدبر اور غوروفکر کا حکم دیا گیا ارشاد ربا نی ہے: ’’ کتٰب انزلنٰہ الیک مبارکا لیدبروا آیٰتہ ولیتذکر اولو الالباب‘‘ یہ کتاب کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقلمند نصیحت مانیں۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایاـ: ’’افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالہا‘‘ تو کیا وہ قرآن کو سوچتے نہیں یا بعض دلوں پرانکے قفل لگے ہیں۔ مگر چونکہ قرآن مجید خالص عربی زبان میں نازل ہوا ،اور اس کے معانی ومفاہیم اتنے زیادہ ہیں جن کا احاطہ عام انسانوں کے بس سے باہر ہے ،حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ’’لوشئت ان اوقر سبعین بعیرا من تفسیر ام القرآن لفعلت‘‘ (الاتقان جلد ؍ ۲ ص ؍ ۱۸۶)اگر میں سورۂ فاتحہ کی تفسیر ستر اونٹ کے بوجھ برابر کرنا چاہوں تو کر سکتا ہوں ۔

یہ تو ایک چھوٹی سی سورت کا حال ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے بارگاہ رسالت سے فیض یافتہ راسخ فی العلم صحابی اس کی تفسیر میں آجائیں تو ستر اونٹ کا بوجھ ہوجا ئے تو بڑی سورتوں کا کیا حال ہوگا ،اسی قرآن کریم کا ارشاد ہے :’’لوکان البحر مداداً لکلمٰت ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمٰت ربی ولو جئنا بمثلہ مددا‘‘(سورۂ کہف آیت ؍۱۰۹)اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لئے سیاہی ہوتوضرورختم ہوجائے گا اور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوںگی اگر چہ ہم ویسا ہی اس کی مدد کو لے آئیں۔

اسی بنا پر عجم ہی نہیں بلکہ خود عربوں کے لئے بھی اس کی تفسیروتاویل کی ضرورت پڑی جو اہل لسان تھے جن کی زبان میں قرآن نازل ہوا ،اور عربی زبان میں سینکڑوں کتب تفسیر وجود میں آئیں ،اور بلاد عجم بالخصوص برصغیر میں عربی زبان وادب کی بنسبت اردو داں افراد کی تعداد زیادہ تھی اس لئے اردو زبان میں بھی اس مقدس کتاب کے ترجمے وتفسیر کی ضرورت محسوس ہوئی ،اور کسی کلام کو ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرنے کا کام کس قدر مشکل واہم ہے ،جس کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جس کو فن ترجمہ وانشاء پردازی سے کچھ شغف ہو،اور وہ بھی کسی عام کلام کا ترجمہ نہیں ،جس میں اس قدر علمی تبحر ،وسعت مطالعہ،دقت نظر،بلوغ فکر اور حزم واحتیاط درکار ہے کہ خالص اپنی رائے پر اعتماد کرکے اس کا کوئی معنیٰ متعین نہیں کیا جا سکتا گوکہ وہ معنی صحیح ہو،نبی اکرم ا ارشاد فرماتے ہیں: ’’من قال فی القرآن برأیہ فاصاب فقد اخطأ‘‘ (رواہ الترمذی وابو دائود)جس نے قرآن میں اپنی رائے سے کچھ کہا ،صحیح کہا پھر بھی خطا کیا۔

اردو زبان میں بہت سارے ترجمے کئے گئے جن میں شاہ رفیع الدین،مولانا شاہ عبد القادر کے ترجمے سب سے پہلے معرض وجود میں آئے ان کے بعد ڈپٹی نذیر احمد دہلوی کا ترجمۂ قرآن شائع ہوا، لیکن انہوں نے جابجا ترجمہ میں محاورات کو دخیل کرکے قرآن کے معانی ومفاہیم کو گم کردیا اور اکثر مقامات پر اپنے نیچری خیالات کے اثبات کی بھی کوشش کی۔

ان پرآشوب حالات میں قوم مسلم کو ایک صحیح اور سلیس اردو ترجمے کی ضرورت تھی جسے مجدداعظم اعلیٰحضرت امام احمد رضا خان قدس سرہ نے احسن طریقے پر انجام دیا ،جو کنزالایمان کے نام سے پورے عالم اسلام میں جانا اور پہچانا جاتا ہے ،جس میں تعظیم حرمات الٰہیہ اور تحفظ ناموس رسالت،اور حفظ عقائد اہل سنت کی بھرپور رعایت وپاسداری کی گئی ہے،یہ ترجمہ کس طرح وجود میں آیا اس کی روداد بیان کرتے ہوئے مولانا مفتی بدرالدین علیہ الرحمۃ والرضوان رقمطراز ہیں : ـ’’صدرالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے قرآن مجید کے صحیح ترجمے کی ضرورت پیش کرتے ہوئے اعلیٰحضرت سے ترجمہ کردینے کی گذارش کی ،آپ نے وعدہ فرمالیا مگر دوسرے مشاغل دیرینہ کثیرہ کے ہجوم کے باعث تاخیر ہوتی رہی، جب صدرالشریعہ کی جانب سے اصرار بڑھا تواعلیٰحضرت نے فرمایا: چونکہ ترجمہ کے لئے میرے پاس مستقل وقت نہیں ہے اس لئے آپ رات میں سونے کے وقت یا دن میں قیلولہ کے وقت آجایا کریں ،چنانچہ حضرت صدرالشریعہ ایک دن کاغذ،قلم اور دوات لیکراعلیٰحضرت کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور یہ دینی کام بھی شروع ہوگیا،ترجمہ کا طریقہ یہ تھا کہ اعلیٰحضرت زبانی طور پر آیات کریمہ کا ترجمہ بولتے جاتے اور صدرالشریعہ اس کو لکھتے رہتے لیکن یہ ترجمہ اس طرح پر نہیں تھا کہ آپ پہلے کتب تفسیر ولغت کو ملاحظہ فرماتے بعدہ آیت کے معنی کو سوچتے پھر ترجمہ بیان کرتے بلکہ آپ قرآن مجید کا فی البدیہ ،برجستہ ترجمہ زبانی طور اس طرح بولتے جاتے جیسے کوئی پختہ یادداشت کا حافظ اپنی قوت حافظہ پر بغیر زور ڈالے قرآن شریف روانی سے پڑھتا جاتا ہے ،پھر جب صدرالشریعہ اور دیگر علماء حاضرین اعلیٰحضرت کے ترجمے کا کتب تفاسیر سے تقابل کر تے تویہ دیکھ کر حیران رہ جاتے کہ اعلیٰحضرت کا یہ برجستہ فی البدیہ ترجمہ تفاسیر معتبرہ کے بالکل مطابق ہے ،الغرض اسی قلیل وقت میں یہ ترجمہ کا کام ہوتا رہا، پھر وہ مبارک ساعت بھی آگئی کہ حضرت صدرالشریعہ نے اعلیٰحضرت سے قرآن مجید کا مکمل ترجمہ کرالیااور آپ کی کوشش بلیغ کی بدولت دنیا ء سنیت کو کنزالایمان کی دولت عظمیٰ نصیب ہوئی ۔

(سوانح اعلیٰحضرت امام احمد رضاص؍۳۷۴،۳۷۵)

اعلیٰحضرت قدس سرہ کے ترجمے میں جہاں بھرپور سلاست وروانی اور ادبیت وجودت تعبیر پائی جا تی ہے ،وہیں اس امر کا بھی پورا التزام ہے کہ ترجمہ لغت کے مطابق ہو اور الفاظ کے متعدد معانی میں ایسے معنیٰ کا انتخاب کیا جائے جو آیت کے سیاق وسباق کے اعتبار سے زیادہ موزوں ہو اور جہا ں حضرات صحابہ کرام سے متعدد تفسیریں منقول ہیں وہاں اسی تفسیر کا انتخاب کیا جو حضرات خلفاء راشدین اور افقہ الصحابہ بعد الخلفاء الراشدین سیدنا عبداللہ ابن مسعود اور ترجمان القرآن سیدنا عبداللہ ابن عباس اور اقرأالصحابہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے منقول ہے اور یہ وہ جلیل القدر صحابہ ہیں جو تمام صحابۂ کرام میں تفسیر قرآن میں معروف وممتاز تھے ،مفسر قرآن حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:’’اشتہر بالتفسیر من الصحابۃ عشرۃالخلفاء الاربعۃ وابن مسعود وابن عباس وابی ابن کعب وزید بن ثابت وابوموسیٰ الاشعری وعبداللہ ابن زبیر‘‘ دس صحابۂ کرام تفسیر میں مشہور ہوئے چار خلفاء اورعبداللہ ابن مسعود اورعبد اللہ ابن عباس اورابی بن کعب اور زید بن ثابت انصاری اور ابو موسیٰ اشعری اور عبد اللہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم

اسی طرح جہاں لفظی اور لغوی ترجمہ سے شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں وہاں اعلیٰحضرت قدس سرہ نے ایسا ترجمہ کیا جس سے وہ تمام شکوک وشبہات دور ہوجا تے ہیں ،اور علوم بلاغت کی بھی پوری رعایت کی ہے ،جب کہ دیگر مترجمین کے یہاں اس کی کوئی رعایت نہیں ہے ، اثبات مدعیٰ کے طور پراس کے کچھ شواہد نذر قارئین کئے جاتے ہیں

پہلا شاہد:

ذلک الکتٰب لاریب فیہ

اعلیٰحضرت اما م احمد رضا خاں قدس سرہ نے اس کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا ہے ’’وہ بلندرتبہ کتاب (قرآن)کوئی شک کی جگہ نہیں۔

ہر اہل فہم پر یہ آیت روشن ہے کہ لفظ ـ’ذلک ‘اشارہ بعیدکے لئے آتا ہے اور کبھی اس کے ذریعہ مسند الیہ کی تعظیم مقصود ہوتی ہے اس طور سے کہ مسند الیہ عظیم المرتبت اور رفیع الدرجات ہوتا کہ عام لوگوں کے مرتبہ سے اس کا مرتبہ اتنا بلند اور دور ہوتا ہے کہ اس تک سب کی رسائی نہیں ہوپاتی ،تو بعد مرتبت ،رفعت منزلت کو بعد مسافت کی منزل میں اتار کر اسم اشارہ بعید سے اس کی تعبیر کی جاتی ہے ،اور کتاب اللہ کی شان رفعت ورفعت شان ایسی ہے کہ اس کے جیسا کلام لانا انسان ودیگر مخلوقات کے بس سے باہر ہے قرآن کریم ببانگ دہل یہ اعلان کررہا ہے :’’قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ہٰذاالقرآن لایاتون بمثلہ ولوکا ن بعضہم لبعض ظہیرا‘‘(اسراء آیت ؍۸۸)تم فرمائو اگر آدمی اور جن سب اس بار پر متفق ہوجائیں کہ اس قرآن کے مانند لے آئیں تو اس کا مثل نہ لا سکیں گے اگر چہ ان میں ایک دوسرے کا مددگار ہو ۔

علامہ سعدالدین تفتا زانی رحمۃاللہ علیہ ’’ذلک‘‘کے اس معنی کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’او تعظیمہ بالبعد نحو الٓم ذلک الکتٰب لاریب فیہ تنز یاء العد درجۃ ورفعۃ محلہ منزلۃ بعد المسافۃ‘‘ (مختصر المعانی ص؍۷۷)یا بعد کے ذریعہ اس کی تعظیم مقصود ہوتی ہے جیسے ’’الم۔ ذلک الکتٰب لاریب فیہ ‘‘اس طور سے کہ مسند الیہ کے مرتبہ کی دوری اور مقام کی بلندی بعد مسافت کی منزل میں اتار لی گئی ہے ۔ (مختصر المعانی ص؍۷۷)

اسی طرح یہ بھی ایک نا قا بل انکار حقیقت ہے دوا عی واسباب کی بنیاد پر کلام کبھی مقتضی ظاہرکے خلا ف پیش کیا جاتا ہے ،اس وقت غیر سائل کو سائل کی منزل میں اور غیر مفکر کو مفکر کی منزل میں کر کے اس کے ساتھ وہی انداز تخاطب اختیار کیا جا تا ہے جو ایک سائل اور مفکر کے ساتھ اندازاپنا یا جاتا ہے،یہ اس وقت ہوتا ہے جب حکم آیت واضح ہو کہ ہر ذی فہم پر اس کی حقانیت عیاں ہو اور اس پر ایسے دلائل قائم ہوں کہ انکار کرنے والا ان دلائل میں ذرا بھی غور کرے تو اس کے انکار سے باز آجا ئے اور اس کی مثال قرآن حکیم ہے ،اس کے کلام اللہ ہونے میں جو لوگ شک کرتے ہیں وہ اگر اس کے دلائل اعجاز اور وجوہ بلاغت میں ذرا بھی غور کریں تو وہ شک نہ کریں گے اور اس کا کلام اللہ ہونا ایسا واضح ہے کہ یہ کوئی شک کا محل ہے ہی نہیں علامہ سعدالدین تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :’’ویجعل المنکر کفیر المنکر اذاکان معہ مأ ان تاملہ ارتدع عن انکارہ نحو لاریب فیہ ظاہر ہٰذا الکلام انہ مثل الجعل منکر الحکم کفیرہ وترک التاکید لذالک وبیانہ ان معنی لاریب فیہ لیس القرآن بمظنۃ للریب ولاینبغی ان یرتاب فیہ وہٰذا الحکم مما ینکرہ کثیرمن المخاطبین لکن نزل انکارہم منزلۃ عدمہ لما معہم من الدلائل الدلالۃعلی انہ لیس مما ینبغی ان یرتاب فیہ‘‘ (مختصر المعانی ص؍۵۰) اور منکر کو غیر منکر کی طرح کردیا جاتا ہے جب کہ اس کے ساتھ ایسے دلائل ہوں کہ اگر انکار کرنے والا ان میں غوروفکر کرے تو انکار سے باز آجائے جیسے ’’لاریب فیہ‘‘اس کلام کا ظاہر ہے کہ یہ منکر کو غیر منکر کی طرح کرنے کی مثال ہے اسی وجہ سے تاکید یہاں ترک کردی گئی ہے اور اس کا بیان یہ ہے کہ ’’لاریب فیہ ‘‘کا معنی یہ ہے کہ قرآن شک کی جگہ نہیں ہے اس میں شک کرنا نا مناسب ہے اور یہ حکم ایسا ہے جس کا انکار بہت سے مخاطب کرتے ہیں لیکن ان کے انکار کو عدم انکار کی منزل میں اتار لیا گیاکیونکہ ان کے ساتھ ایسے دلائل ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اس میں شک کرنا بالکل ہی نامناسب ہے ۔

اعلیٰحضرت قدس سرہ نے ان دونوں خوبیوں کی رعایت کرتے ہوئے یہ ترجمہ فرمایا کہ ’’وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن)کو ئی شک کی جگہ نہیں ہے‘ ‘ اب دیکھیں کیا دوسرے تراجم میں بھی ان خوبیوں کی رعایت کی گئی ہے ،اس پر ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں بلکہ ناظرین اس کا فیصلہ خود فرما لیں۔

مولوی محمود الحسن دیوبندی ان الفاظ میں ترجمہ کرتے ہیں۔

’’اس کتاب میں کچھ شک نہیں ‘‘

مولوی اشرف علی تھانوی ترجمہ کرتے ہیں ’’یہ کتاب ایسی ہے جس میں کوئی شبہ نہیں ‘‘

ان مترجمین نے لفظ ’’ذلک ‘‘کا ترجمہ لفظ ’’اس ‘‘یا ’’ان‘‘سے کیا ہے جب کہ یہاں اس معنی میں ذلک نہیں ہے ،اسی طرح دوسری خوبی کی بھی کوئی رعایت ان ترجموںمیں نہیں ہے۔

دوسرا شاہد:

یاایہا الناس اعبدوا ربکم الذی خلقکم والذین من قبلکم لعلکم تتقون (پ؍۱رکوع۳ سورہ بقرہ )

اس آیت کا ترجمہ دیوبندی مکتب فکر کے پیشوامولوی محمود الحسن دیوبندی نے ان الفاظ میں کیا ’’اے لوگو !بندگی کرو اپنے رب کی جس نے پیدا کیا تم کو اور ان کو جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جائو ‘‘

اس ترجمہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جناب مترجم صاحب نے لفظ’’لعل‘‘کو ’’لکی ‘‘کے معنی میں لیا ہے ،اور ان کے علاوہ دیگر مترجمین نے بھی یہی ترجمہ کیا ،جب کہ مفسر قرآن علامہ بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ اسے ضعیف قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں اس کی مثال لغت میں ثابت نہیں کہ ’’لعل‘‘ ’’لکی‘‘کے معنی میں آتا ہو چنانچہ رقمطراز ہیں :’’وقیل تعلیل للخلق اے خلقکم لکی تتقواکما قال وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون ،وہوضعیف اذ لم یثبت فی اللغۃ مثلہ‘‘اور ایک قول یہ ہے کہ یہ علت خلق کا بیان ہے ،یعنی تمہیں اس لئے پیدا کیا کہ پرہیزگاربنو جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ،اور میں نے جن وانس کو اس لئے پیدا کیا تاکہ وہ عبادت کریں،اور یہ قول ضعیف ہے کیونکہ اس کی مثال لغت میں ثابت نہیں ۔

اب اس کی راجح تفسیر کیا ہوگی اس تعلق سے علامہ قاضی بیضاوی فرماتے ہیں:’’حال من الضمیر فی اعبدوا کأنہ قال اعبدوا ربکم راجین ان تخزطوا فی سلک المتقین الفائزین الہدی والفلاح المستوجین لجوار اللّٰہ تعالیٰ ‘‘ (تفسیر بیضاوی ص؍۴۱) ’’اعبدوا‘‘ کی ضمیر سے حال ہے گویا کہ فرمایا اپنے رب کی عبادت کرو یہ امید کرتے ہوئے کہ ان پرہیز گاروں کی لڑی میں داخل ہوجائو جوہدایت وفلا ح پر فائز ہیںاللہ تعالیٰ کی پناہ کے مستحق ہیں ۔

اعلیٰحضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے اسی راجح تفسیر کو اختیارکرتے ہوئے ترجمہ فرمایا ’’اے لوگو !اپنے رب کو پوجو جس نے تمہیں اور تم سے اگلو ں کو پیدا کیا یہ امید کرتے ہوئے کہ تمہیں پرہیزگاری ملے ـ‘‘اس ترجمہ سے خوب عیاں ہے کہ اعلیٰحضرت قدس سرہ نے ’’لعل‘‘کو ’’لکی ‘ ‘ کے معنی میں نہیں لیا ہے ، بلکہ اسے ’’اعبدوا ‘‘ کی ضمیر سے حال مانا ہے ۔

عصمت انبیاء اور کنزالایمان :

بعض مترجمین نے کچھ مقامات میں قرآن حکیم کے ظاہری معنی کو لے کر عصمت انبیاء علیہم السلام پرحملے کی ناکام کوشش کی تو اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے وہاں پر ایسا ترجمہ فرمایا جس سے ان مترجمین کے ترجمے سے پیدا ہونے والے شبہات خود بخود رفع ہو جاتے ہیں ، ان شبہات کو دور کرنے کے لئے الگ سے کسی استدلال کی ضرورت نہیں ،ذیل میں اس کی بھی ایک نظیر پیش کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ووجدک ضالاًّفہدیٰ۔‘‘

مولوی محمود الحسن دیو بندی نے اس کا ترجمہ کیا ’’اور پایا تجھ کو راہ بھٹکتا ہوا پھر راہ سمجھائی ۔‘‘

مولوی اشرف علی تھانوی نے ان الفاظ میں ترجمہ کیا ’’اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو (شریعت سے)بے خبر پایا سو آپ کو (شریعت کا راستہ )دکھلایا ۔‘‘

مودودی صاحب نے یہ ترجمہ کیا ’’اور تمہیں نا واقف راہ پایا اور پھر ہدایت دی ۔

ناظرین اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان ترجموں سے عصمت نبی ا پر بھر پور آنچ آرہی ہے ، جسے دفع کرنا بے حد ضروری تھا تا کہ اسلام دشمن عناصر عصمت انبیاء علیہم السلام پر حملے کی جرأت نہ کر سکیں ، اس لئے اعلیٰحضرت قدس سرہ نے ’’ضال‘‘ کا ظاہری معنی یہاں پر نہیں لیا بلکہ وہ معنی اختیار کیا جس سے نبی اکرم ا کی عظمت کا بھر پورظہور ہوتا ہے ، اور ساتھ ہی عصمت کے تعلق سے کوئی شبہ بھی پیدا نہیں ہوتا اب اعلیٰحضرت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں ، وہ رقمطراز ہیں ’’اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی ‘‘

یعنی اعلیٰحضرت قدس سرہ نے ’’ضال‘‘کا ترجمہ خود رفتہ یعنی محب سے کیا ہے،اب یہاں غور کا مقام یہ ہے کہ کیا اعلیٰحضرت سے پہلے بھی کسی نے اس آیت میں’’ضال ‘‘کا ترجمہ محب کے لفظ سے کیا ہے؟یا دیگر مقامات سے اس معنی کی تائید ہوتی ہے ؟یاائمہ لغت میں کسی نے ’’ضال‘‘ کا معنی محب لکھا ہے ؟یہ وہ سب سوالات ہیں جو کسی کے بھی ذہن میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا ان کا جواب بھی دینا ضروری ہے رہا پہلا سوال تو اس کا جواب یہ ہے کہ اعلیٰحضرت سے پہلے بھی ’’ضال ‘‘کی تفسیر محب کے لفظ سے کی گئی ہے شفا اور اس کی شرح نسیم الریاض میں ہے: ’’وقال ابن عطاء فی تفسیر الآیۃ ووجدک ضالا ای محبا لمعرفتی فہداک بانوار ہدایۃ وعنایۃ ولما کان ہذا خلاف المشہور فی اللغۃالبینۃبقولہ(والضال)ورد بمعنی المحب کما قال اللّٰہ تعالیٰ انک لفی ضلالک القدیم ای محبتک القدیم وہذامنقول عن قتادۃ وسفیان ومثلہ ای مثل کون الضلال بمعنی المحبۃ فی ہذہ الآیۃ انا لنراہا فی ضلال مبین ای محبۃ بینۃ‘‘ (ج؍۴ص؍۴۸،۴۹)ابن عطا نے آیت کی تفسیر میں فرمایااور تمہیں اپنی معرفت کا محب پایا تو تمہیں اپنی ہدایت وعنایت کے انوار سے راہ دی ،اور جب کہ یہ معنی لغت کے معنی مشہور کے خلاف ہے تو اسے اپنے اس قول سے بیان کیا اور ’’ضال‘‘ محب کے معنی میںآیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بطور حکایت فرمایا بیشک آپ اپنی اسی پرانی خودرفتگی میں ہیں ،یعنی اپنی محبت میں ،اوریہ تفسیر قتادہ اور سفیان رضی اللہ عنہما سے منقول ہے اور اسکی یعنی اس کی مثال کہ اس آیت میںضلال،محبت کے معنی میں ہے یہ ارشاد ہے ’’ہم تو اسے خودرفتگی یعنی کھلی ہوئی محبت میں پاتے ہیں ۔

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ سے بہت پہلے یعنی دور تابعین میں حضرت ابن عطا حضرت قتادہ حضرت سفیان رضی اللہ عنہم نے اس مقام میں ’’ضال‘‘کا معنی’محبت ‘متعین کیا ہے ،اور اسی سے دوسرے سوال کا بھی جواب ظاہر ہے اور تیسرے سوال کے تعلق سے عرض یہ ہے کہ ائمہ لغت میں راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ ’’انک لفی ضلالک القدیم‘‘کی تفسیر میں فرماتے ہیں:’’اشارۃ الی شغفہ بیوسف الیہ وکذالک قد شغفہا حبا انا لنراہا فی ضلال مبین‘‘ (مفردات امام راغب ص؍۳۰۰)یوسف علیہ السلام سے یعقوب علیہ السلام کی وارافتگی کی طرف اشارہ ہے ،اسی طرح اس آیت میں جس کا معنی ہے بیشک ان کی محبت اس کے دل میں پیر گئی ہم تو اسے صریح خود رفتہ پاتے ہیں۔

امام راغب کی شان یہ ہے کہ ارباب لغت جس قدر کسی مفرد لفظ کے معانی بیان کرتے ہیں ان کے استیعاب کے ساتھ سیاق وسباق کی روشنی میں ان معانی کی تعداد میں اضافہ فرماتے ہیں اور وہ معانی بیان کرتے ہیں جو اہل لغت کے وہاں نہیں ملتے اور آپ کی کتاب ’’المفردات‘‘اس بارے میں کتب معتمدہ سے ہے،علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :’’وطریق التوصل الی فہمہ النظر الی مفردا ت الالفاظ من لغۃ العرب ومدلولاتہا واستعمالہا بحسب السیاق وہذایتمنی بہ الراغب کثیرا فی کتاب المفردات فیذکر قیدا زائدا علی اہل اللغۃ فی تفسیر مدلول اللفظ لانہ اقتضاہ السیاق‘‘(الاتقان ج؍۲ص ؍ ۱۸۳)اور اس کی سمجھ تک پہونچنے کا طریقہ یہ ہے کہ لغت عرب سے مفرد الفاظ اور ان کے مدلولات اور سیاق کلام کے اعتبار سے ان کے استعمال میں غور کیا جائے ۔امام راغب ’’کتاب المفردات‘‘میں اس پر بڑی توجہ دیتے ہیں ،کیونکہ وہ مدلول لفظ کی تفسیر میں اہل لغت سے بڑھ کر قید زائد کو ذکر کرتے ہیں ۔اس وجہ سے کہ سیاق کلام اس کا مقتضی ہوتا ہے ۔

علم غیب اور کنز الایمان :

قرآن حکیم میں جہاں اس مضمون کی آیتیں ہیں جن سے بعطائے الٰہی نبی اکرم ا کے لئے علم غیب کا اثبات ہوتا ہے جیسے:’’فلا یظہر علی غیبہ احداالا من ارتضی من رسول‘‘ (سورہ جن آیت ؍۲۶)’’ماکان اللّٰہ لیطلعکم علی الغیب و لکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشاء‘‘ (سورہ آل عمران آیت ؍۱۷۹) اور ’’ماہو علی الغیب بضنین‘‘ (سورہ تکویر آیت ؍۸۱)اور ’’وعلمک ما لم تکن تعلم‘‘وغیرہ وہیں ایسی بھی آیتیں ہیں جن سے بظاہر علم غیب کی نفی ہوتی ہے ،جیسے ’’لا اعلم الغیب‘‘وغیرہ ان آیتوں میں بظاہر تعارض بھی معلوم ہوتا ہے اعلیٰحضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے ان آیتوں کا ایسا ترجمہ کیا ہے جس سے تعارض بھی ختم ہو جا تا ہے اورنبی اکرم ا کی غیب دانی پر کوئی حرف بھی نہیں آتا ،ذیل میں اس کی ایک مثال ذکر کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’قل لا اقول لکم عندی خزائن اللہ ولا اعلم الغیب ولااقول لکم انی ملک ان اتبع الا مایوحی الی‘‘ (سورہ انعام آیت ؍۵۰ )اعلیٰحضرت قدس سرہ نے اس آیت کا ترجمہ ان الفاظ میں فرمایا ’’تم فرمادو میں تم سے نہیں کہتا میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یوں کہو ںکہ میںآپ غیب جان لیتاہوں اور نہ تم سے یہ کہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو اسی کا تابع ہو جو وحی آتی ہے (کنز الایمان )

اس ترجمہ میں مسئلہ غیب کو واضح فرمادیا گیا کہ جن آیتوں میں نبی اکرم ا سے علم غیب کی نفی ہے وہاں علم ذاتی مراد ہے علم غیب عطائی کی نفی نہیں ہے کیونکہ آیات قرآنیہ کے علاوہ اس بارے میں اتنی کثرت سے حدیثیں وارد ہیں جو معنی کے اعتبار سے حد تواتر کو پہونچی ہوئی ہیں جن سے قطعی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ بعطاء الٰہی نبی اکرم ا کو جمیع ماکان ومایکون کا علم حاصل تھا محدث مکی حضرت ملا علی قاری علیہ رحمۃ الباری فرماتے ہیں: ’’ومن ذالک مااطلع علیہ من الغیوب ای الامور المغیبۃ فی الحال (مایکون)ای سیکون فی الاستقبال والاحادیث فی ہذا الباب بحر لایدرک قعرہ ولاینزف غمرہ وہذہ المعجزۃ من جملۃ معجزاتہ المعلومۃ علی القطع الواصل الینا خبرہا علی التواتر لکثرۃ رواتہاواتفاق معانیہا الدالّۃ علی الاطلاع علی الغیب‘‘ (نسیم الریاض ج؍۳ص؍۱۵۰)اورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپ اغیوب یعنی وہ امور جو فی الحال ہماری نگاہوں سے اوجھل ہیں اور وہ جو مستقبل میں ہوںگے سب پر مطلع ہیں اور اس باب میں احادیث وہ سمندر ہے جس کی گہرائی کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا اور نہ ہی اس کی حدوں کا احاطہ کیا جا سکتا اور یہ معجزہ نبی کریمﷺکے ان معجزات میں سے ہے جو ہمیں قطعی طور پر معلوم ہیں جن کی خبر بطریق تواتر ہم تک پہونچی کیونکہ ان کے راوی بہت ہیں اور ان کے وہ معانی جو نبی اکرمﷺکی غیب دانی پر دلالت کرتے ہیں وہ باہم متفق ہیں۔

رہی وہ آیتیں جن سے علم غیب کی نفی ہوتی ہے تو ان کا جواب یہ ہے کہ ان آیتوں میں علم غیب ذاتی کی نفی ہے ،عطائی کی نفی نہیں ہے علامہ شہاب الدین خفاجی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں :’’وہذالاینافی الآیات الدالّۃ علی انہ لایعلم الغیب الا اللّٰہ وقولہ ولوکنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر فان المنفی علمہ من غیرواسطۃواما اطلاعہ علیہ باعلام اللّٰہ وامر متحقق بقولہ تعالی فلایظہر علی غیبہ احدا الامن ارتضی من رسول‘‘ (نسیم الریاض ج؍۳ص؍۱۵۰)اور یہ ان آیتوں کے منافی نہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ غیب اللہ ہی جانتا ہے اور نبی اکرم اکا یہ فرمانا کہ اگر میں غیب جانتا تو میں بھلائی جمع کرلیتا کیونکہ یہاںاس علم کی نفی ہے جو بلاواسطہ حاصل ہو ،رہا اللہ تعالیٰ کے بتانے سے نبی اکرم ا کا غیب مطلع ہونا تو یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تو اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں فرماتا ہے سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے ۔

اعلیٰحضرت امام احمد رضاخاں قدس سرہ نے اس تطبیق کی یہ رعایت پیش کرتے ہوئے ترجمہ فرمایا کہ آیتوںکا درمیانی تعارض بھی دور ہوجائے۔

’’کنزالایمان‘‘ پر تنقیدکا ایک علمی جائزہ ـ:

دیوبندی مکتب فکر کے بعض نا م نہادمولویوں نے ’’کنزالایمان‘‘ پر بے جا اعتراض کرکے اسے اپنے طعن وتشنیع کا نشانہ بنایااور اپنی دسیسہ کاریوں کی بنیاد پر بھولی بھالی عوام کو فریب دے کر اپنے دام تزویر میں لینے کی ناپاک کوششیں کی،اور اس میں غلطیاں نکالنے کیلئے پوری دیوبندی برادری دل وجان سے لگ گئی ، اورکنزالایمان پر حملہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ،اور اس سلسلے میںان کے کئی جھوٹ کے پلندے منظر عام پر آئے ،ان کی تمام فریب کاریوں کاپردہ اگر چاک کیاجائے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہوجا ئے مگر تنگئی وقت اور خوف طوالت دامن گیر ہے جس کی وجہ ان کی صرف ایک فریب کاری بے نقاب کرکے حقیقت واشگاف کی جارہی ہے ۔

قرآن کریم کا ارشاد ہے ’’الذین یومنون بالغیب ‘‘اعلیٰحضرت قدس سرہ نے اس کا ترجمہ کیا ’’جو بے دیکھے ایمان لائیں‘‘

اس ترجمہ پر اعتراض کرتے ہوئے ایک دیوبندی مولوی ان الفاظ میں ہذیان بکتے ہیں ۔

الفاظ قرآنی کو دیکھتے ہوئے یہ ترجمہ غلط ہے کیونکہ ترجمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’بے دیکھے‘‘ فاعل کی صفت ہے حالانکہ بے دیکھے فاعل کی صفت نہیں ہے بلکہ یہ تو مومن کی ہے یعنی بے دیکھی چیز پر ایمان لا نا ضروری ہے لیکن مولوی احمد رضا خاں نے بے دیکھے کو فاعل کی صفت بنا ڈالا جب کہ یہ ان چیزوں کی صفت تھی جن پر ایمان لانا ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ مولوی احمد رضا خاں کے علاوہ تمام اردو مترجمین نے اس کی رعایت کی ہے (رضاخانی ترجمہ وتفسیر پر ایک نظر از :جمیل احمد نذیری دیوبندی )یہاں ہمیں اس سے بحث نہیں ہے کہ دیگر مترجمین نے اس آیت کا کیا ترجمہ کیا ہے البتہ آنجناب نے یہ جو گل کھلایا کہ یہ ترجمہ غلط ہے، یہ ضرور تحقیق طلب ہے اس کے بعد ہی اس کا صحیح علم ہوگا کہ جناب جی نے کس قد ر فریب کاری کی ہے اور ان کی فہم ناقص کا نقص بھی کتنا حیرت انگیز ہے کہ اس ترجمہ سے کیسے سمجھ لیا کہ اعلیٰحضرت قدس سرہ نے اسے فاعل کی صفت بنائی ہے ،حالانکہ کھلی ہوئی بات ہے کہ ’’بے دیکھے ‘‘ فاعل کی صفت نہیں بنائی گئی ہے بلکہ اسے ’’یومنون‘‘ کی ضمیر سے حال بناکر یہ ترجمہ کیا گیا ہے ،اور یہاں ’’بالغیب‘‘میں جس طرح یہ احتمال ہے کہ ایمان کا صلہ ہو کر مفعول بہ کی جگہ میں واقع ہو اسی طرح سے یہ بھی احتمال ہے کہ یہ ’’یومنون ‘‘کی ضمیر سے حال ہو ،اور اسی اعتبار سے اعلیٰحضرت قدس سرہ نے ترجمہ کیا ’’جو بے دیکھے ایمان لائیں ‘‘ اور یہ معنی تفسیر کی تقریبا سبھی کتابوں میں بیان کیا گیا ہے چنانچہ تفسیرر وح البیان میں ہے: ’’وان جعلت الغیب مصدرا علی حالہ کالغیبۃفالباء متعلقۃ بمحذوف وقع حالا من الفاعل ای یؤمنون متلبسین بالغیبۃ اما عن المؤمن بہ ای غائبین عن النبی ا غیر مشاہدین لما فیہ من شواہد النبوۃ ویدل علیہ انہ قال حارث بن نفیر لعبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نحن نحتسب لکم یا اصحاب محمد ماسبقتمونا بہ من روئۃ محمدا وصحبتہ فقال عبد اللّٰہ ونحن نحتسب لکم ایمانکم بہ ولم تروہ وان افضل الایمان ایمان بالغیب ثم قرا عبد اللّٰہ الذین یؤمنون بالغیب واما عن الناس ای غائبین عن المؤمنین لا کالمنافقین الذین واذا لقواالذی آمنوا قالوا آمنا واذا خلو الی شیاطینہم قالو انا معکم‘‘(ج؍۲ص؍۳۲)اور اگر غیب کو غیب کی طرح علی حالہ مصدر بنائو تو باء ایک محذوف سے متعلق ہوگی جو فاعل سے حال واقع ہوگا،یعنی وہ صفت غیبت کے ساتھ متصف ہوکر ایمان لاتے ہیںخواہ وہ مومن بہ یعنی نبی اکرم ا ہیں اور اگر غائب ہوںآپ کے شواہدنبوت کو بغیر دیکھے ہوئے ایمان لائیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ حارث بن نفیر نے عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا اے صحابۂ کرام کی جماعت ہم آپ کے لئے اس کا احتساب کرتے ہیں جس میں آپ لوگ ہم پر سبقت لے گئے یعنی نبی اکرمﷺکا دیدار کیا ،شرف صحابیت سے ہم کنار ہوئے تو عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم آپ لوگوں کے نبی اکرمﷺپر اس حال میں ایمان لانے کااحتساب کرتے ہیں کہ ان کا دیدار نہیں کیااور افضل ایمان بے دیکھے ایمان لا ناہے پھر عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ’’الذین یؤمنون بالغیب‘‘کی تلاوت فرمائی ،یا وہ مسلمانوں سے غائب رہنے کی حالت میں ایمان لائیںنہ کہ ان منافقوں کی طرح کہ جب وہ ایمان والوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے اور جب تنہائی میں اپنے شیاطین کے ساتھ ہوں تو کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔اور یہ معنی تفسیر کی حسب ذیل کتابوں میں بھی بیان کیا گیا ہے۔

تفسیر ابی مسعود ج؍۲ ص؍۳۱،تفسیر ابن جریرج ؍۱ص؍۱۳۳،تفسیر بیضاوی ص؍۱۸،۱۹،تفسیر مظہری ج؍۱ص؍۲۰ ،تفسیر کشاف ج؍۱،تفسیر کبیر للرازی ج؍۱ص؍۲۷،تفسیر قرطبی ج؍۱ص؍۱۶۵،تفسیر خازن ج؍۱ص؍۲۵،تفسیر مدارک مع الاکلیل ج؍۱ص؍۴۰۔

بلکہ شاہ عبد العزیز محدث دہلو ی رحمۃاللہ علیہ جن کی تحریر دیوبندیوں کے نزدیک حجت قطعیہ سے کم کی حیثیت نہیں رکھتی انھوں نے تفسیر عزیزی میں یہ صراحت فرمائی ہے کہ قدمائے صحابہ مثلا حضرت عمر فاروق ،حضرت عبد اللہ ابن مسعود ،حضرت عبداللہ بن عمر ،حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اس آیت کو اسی معنی پر محمول کیا ہے چنانچہ وہ رقمطراز ہیں:وقدمائے صحابہ ایمان بالغیب را دریں آیت بر معنی دیگر حمل فرمودہ اند یعنی قدمائے صحابہ نے اس آیت میں ایمان بالغیب کو دوسرے معنی پر محمول کیا ہے ۔(تفسیر عزیزی ج؍۱ص؍۳۸،۳۹)

پھر سید نا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وہ تفسیر بزبان فارسی بیان فرمائی جو اوپر روح البیان اور دیگر کتب تفسیر کے حوالے سے آچکی ہے ۔اور حدیث کی مستند ومعتمد کتابوں کی روشنی میں درج بالا صحابہ کرام سے وہی تفسیر ذکر کی ،وہ عبارت چونکہ بہت طویل ہے اس لئے ہم نے صرف حوالے پر اکتفا کیا ،اور یہ وہ جلیل القدر صحابہ کرام ہیں جن کی تفسیر مقدم اور راجح ہوتی ہے ۔ان تصریحات سے معلوم ہوا کہ اعلیٰحضرت قدس سرہ نے جو ترجمہ کیا ہے وہ کبار صحابہ سے منقول ہے اور راجح بھی ہے ،اور اس سے دیوبندیوں کی فریب کاری بے نقاب ہوکر حقیقت واشگاف ہو گئی ،اس طرح بد مذہبوںکی اوربھی فریب کاریاں ہیں جن پر اگر تفصیل سے گفتگو کی جائے تو ایک لمبی کتاب تیارہوجائے گی ہم نے یہاں بطور تنبیہ صرف ایک مثال پیش کی ہے ۔

الغرض اعلیٰحضرت امام احمد رضا خاں قادری برکاتی قدس سرہ نے کنزالایمان میں جوترجمہ کیاہے وہ دیگر تراجم میں راجح اور مقدم ہے ادبی محاسن،کتب تفسیر سے مطابقت،عقائد حقہ کی حفاظت وصیانت،اللہ تعالیٰ کی تقدیس وتنزیہ،نبی اکرم ا کی تعظیم واحترام،دشمنان اسلام کا رد،جس قدر کنزالایمان میں ہے دیگر ترجموں میں مفقود ہے ،ساتھ ہی سلاست وروانی ،فصاحت وبلاغت،ترکیب کی رعایت کامعیار جتنا بلند ہے وہ اہل لسان پر مخفی نہیں ۔اللہ تبارک وتعالیٰ اعلیٰحضرت قدس سرہ کے علمی فیضان سے ایک وافر حصہ ہمیں عطا فرمائے۔۔۔۔آمین

از قلم : مولانا صدر الوریٰ قادری ۔ استاذ الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور