حدیث نمبر :152

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ آخری زمانہ میں جھوٹے دجال ہوں گے ۱؎ جو تمہارے میں وہ احادیث لائیں گے جو نہ تم نے سنیں نہ تمہارے باپ دادوں نے ۲؎ ان کو اپنے سے اپنے کو ان سے دور رکھو وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۳؎ (مسلم)

شرح

۱؎ دجّال دجل سے بنا،بمعنی فریب اور دھوکا،دجال بڑا فریبی مکار و دھوکہ باز آخر زمانہ میں بڑا دجّال نکلے گا اس سے پہلے چھوٹے دجّال بہت ہوں گے۔

۲؎ اس میں اشارہ حدیث گھڑنے والوں کی طرف ہورہا ہے۔یہاں خطاب یاصرف صحابہ سے ہے یاقیامت تک کے علماء سے جنہیں حدیث کی واقفیت ہو اگر کوئی جاہل کسی مشہور حدیث کو نہ سنے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ میں اعلان فرمایا تھا کہ ہم وہی حدیث قبول کریں گے جو زمانۂ فاروقی میں شائع ہوچکی کیونکہ آپ کے زمانہ میں بعض چھپے منافقوں نے حضرت علی کے فضائل میں اور بعض نے ان کے خلاف بہت حدیثیں گھڑ لی تھیں جب ہی سے رفض و خروج کی بیماریاں مسلمانوں میں پھیلیں۔معلوم ہوا کہ حدیث گھڑنا سخت جرم ہے اور گھڑنے والا سخت مجرم کہ حضور نے اسے دجّال و کذاب فرمایا۔

۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ بدمذہبوں سے بچنا ضروری ہے کیونکہ ان کی صحبت دین و ایمان کے لیئے خطرہ ہے۔