أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ نَّفَقَةٍ اَوۡ نَذَرۡتُمۡ مِّنۡ نَّذۡرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُهٗ ؕ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ

ترجمہ:

اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو اور تم جو بھی نذر مانتے ہو ‘ بیشک اللہ اس کو جانتا ہے ‘ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو اور تم جو بھی نذر مانتے ہو بیشک اللہ اس کو جانتا ہے۔ (البقرہ : ٢٧٠)

نذر کا لغوی اور شرعی معنی اور نذر کی اقسام :

علامہ فیروزآبادی نے لکھا ہے : نذر کا معنی ہے : تاوان ‘ کسی چیز کو واجب کرنا ‘ اللہ کے لیے منت ماننا۔ (قاموس ج ٢ ص ‘ ١٩٨‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

علامہ راغب اصفہانی نذر کا شرعی معنی بیان کرتے ہیں :

نذریہ ہے کہ تم کسی کام کے ہونے بناء پر اپنے اوپر ایسی عبادت کو واجب کرلو جس کو تم پر واجب نہیں کیا گیا ہے۔ (المفردات ص ‘ ٤٨٧ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” اذقالت امرات عمرن رب انی نذرلک ما فی بطنی محررا فتقبل منی ‘ (آل عمران : ٣٥)

ترجمہ : جب عمران کی بیوی نے کہا : اے میرے رب ! میں نے تیرے لیے نذر مانی ہے کہ میرے پیٹ میں جو آزاد کیا ہوا ہے (وہ خالص تیرے لیے ہے) تو اس کو میری طرف سے قبول فرما۔

(آیت) ” فقولی انی نذرت للرحمن صوما فلن اکلم الیوم انسیا “۔۔ (مریم : ٢٦)

ترجمہ : (اے مریم ! ) تم کہنا : میں نے رحمان کے لیے (خاموشی کے) روزہ کی نذر مانی ہے ‘ سو میں آج ہرگز کسی انسان سے بات نہیں کروں گی “۔۔

(آیت) ” ولیوفوا نذورھم “۔ (الحج : ٢٩)

ترجمہ : اور ان پر لازم ہے کہ وہ اللہ کے لیے مانی ہوئی نذروں کو پورا کریں۔

علامہ ابو الحیان اندلسی لکھتے ہیں :

نذر کی دو قسمیں ہیں ‘ ایک قسم حرام ہے اور یہ ہر وہ نذر ہے جو اللہ کی اطاعت میں نہ ہو ‘ اور زمانہ جاہلیت میں زیادہ تر نذریں ایسی ہوتی تھیں ‘ اور دوسری قسم ہے مباح ‘ یہ کبھی کسی کام کے ساتھ مشروط ہوتی ہے اور کبھی مطلق ہوتی ہے مثلا اگر میں فلاں مرض سے شفاپا جاؤں تو میں ایک دینار صدقہ کروں گا (یہ نذر مشروط ہے) یا میں اللہ کے لیے ایک غلام آزاد کروں گا ‘ (یہ غیر مشروط ہے) اور کبھی نذر مطلق ہوتی ہے ‘ مثلا اگر میں صحت مند ہوگیا تو میں صدقہ کروں گا۔ (البحر المحیط ج ٢ ص ١٢٨ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

نذر صحیح اور نذر باطل کا بیان :

علامہ علاء الدین حصکفی حنفی لکھتے ہیں :

اکثر عوام جو فوت شد بزرگوں کی نذر مانتے ہیں اور اولیاء کرام کا تقرب حاصل کرنے کے لیے ان کے مزارات پر جو روپے ‘ موم بتی اور تیل کی نذر مانتے ہیں ‘ وہ بالاجماع باطل اور حرام ہے ‘ جب تک ان چیزوں کو فقراء پر خرچ کرنے کا ارادہ نہ کیا جائے لوگ اس آفت میں بہت مبتلا ہیں خصوصا ہمارے زمانہ میں (درمختار علی ھامش رد المختار ج ٢ ص ١٢٨ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ ابن عابدین شامی حنفی اس کی تشریح میں لکھتے ہیں :

مثلا کوئی شخص اولیاء اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے اپنی نذر میں کہتا ہے : اے میرے سردار فلاں بزرگ ! اگر میرا گم شدہ شخص واپس آجائے یا میرا بیمار صحت مند ہوجائے یا میری حاجت پوری ہوجائے تو میں آپ کے لیے اتنا سونا یا چاندی ‘ یا کھانا ‘ یاموم بتی یا تیل دوں گا۔ (البحر الرائق) یہ نذر کئی وجوہ سے باطل اور حرام ہے :

(١) یہ مخلوق کی نذر ہے اور مخلوق کی نذر باطل اور حرام ہے ‘ کیونکہ نذر عبادت ہے اور مخلوق کی عبادت جائز نہیں ہے۔

(٢) جس کی نذر مانی گئی ہے ‘ وہ فوت شدہ ہے اور فوت شدہ شخص کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا۔

(٣) اگر نذر ماننے والے کا یہ گمان ہے کہ وہ فوت شدہ شخص اللہ کے اذن کے بغیر تصرف کرتا ہے تو یہ اعتقاد کفر ہے ہاں ! اگر اس نے یہ کہا کہ اے اللہ ! میں تیرے لیے نذر مانتا ہوں کہ اگر تو نے میرے مریض کو شفا دے دی یا میرے گم شدہ شخص کو لوٹا دیا ‘ یا میری حاجت پوری کردی تو میں سیدہ نفیسہ کے مزار پر بیٹھے ہوئے فقراء کو کھانا کھلاؤں گا ‘ یا امام شافعی یا امام لیث کے مزار پر بیٹھنے والے فقراء کو کھانا کھلاؤں گا ‘ یا اس نے ان کی مساجد کے لیے چٹائی اور روشنی کے لیے تیل یا دیگر کاموں کے لیے روپیہ دیا جس میں فقراء کا نفع ہو یہ نذر خاص اللہ کے لیے ہو اور شیخ کا ذکر صرف نذر کو خرچ کرنے کے محل کے لیے ہوتا کہ اس مزار یا مسجد میں بیٹھنے والے فقراء اور مستحقیقن پر ان چیزوں کو خرچ کردیا جائے تو اس اعتبار سے یہ نذر جائز ہے ‘ اور کسی غنی یا سید پر ان چیزوں کا خرچ کرنا جائز نہیں ہے ‘ اور جو نذر مخلوق کے لیے مانی گئی ہو اس کو پورا کرنا حرام ہے اور مزار کے متولی کے لیے اس کا لینا جائز نہیں ہے ‘ جب تک نذرماننے والا اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے نذر نہ مانے اور فقراء پر اس کو خرچ کرنے کی نیت نہ کرے۔ (رد المختار ج ٢ ص ١٢٨ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی قدس سرہ العزیز اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

نذر عرف میں ہدیہ اور پیشکش کو کہتے ہیں ‘ اور شرع میں نذر عبادت اور قربت مقصودہ ہے ‘ اسی لیے اگر کسی نے گناہ کی نذر کی تو وہ صحیح نہیں ہوئی ‘ نذر خاص اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتی ہے اور یہ جائز ہے کہ اللہ کے لیے نذر کرے اور کسی ولی کے آستانہ کے فقراء کو نذر کے لیے صرف کا محل مقرر کرے ‘ مثلا کسی نے یہ کہا کہ یارب ! میں نے نذر مانی کہ اگر تو میرا فلاں مقصد پورا کر دے کہ فلاں بیمار کو تندرست کردے تو میں فلاں ولی کے آستانہ کے فقراء کو کھانا کھلاؤں یا وہاں کے خدام کو روپیہ پیشہ دوں یا ان کی مسجد کے لیے تیل یا بوریا حاضر کروں تو یہ نذر جائز ہے۔ (ردالمختار) (خزائن العرفان ص ٧٣‘ مطبوعہ تاج کمپنی لمیٹڈ لاہور)

جواز کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ انسان اللہ کے لیے نذر مانے اور اس عبادت کا ثواب کسی بزرگ کو پہنچا دے۔

اردو لغات میں نذر کا معنی ہدیہ اور تحفہ بھی ہے اور منت اور چڑھاوا بھی ہے۔ (قائداللغات ص ٩٥٩) لیکن عربی میں نذر کا وہی معنی ہے جس کو ہم نے ” قاموس “ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔

امام مالک ‘ امام بخاری ‘ امام داؤد ‘ امام ترمذی‘  اور امام ابن ماجہ نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی ہے وہ اس کی اطاعت کرے اور جس نے اس کی معصیت کی نذر مانی ہے وہ اس کی معصیت نہ کرے۔ امام مسلم ‘ امام ترمذی اور امام نسائی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نذر نہ مانا کرو ‘ کیونکہ نذر تقدیر سے مستغنی نہیں کرتی ‘ نذر تو صرف بخیل آدمی مانتا ہے (الدرالمنثور ‘ ج ٢ ص ‘ ٣٥١ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 270