مذہب اسلام میں فقہی فروعی اختلافات کے ہزاروں نظائر ایسے موجود ہیں جو اس کے پیرو کاروں کے لئے باعث رحمت قرار دئے جاتے ہیں اور آج بھی ایسے اختلافات رحمت ہوسکتے ہیں بشرطیکہ ان کی بنیادیں اخلاص وللہیت پر استوار کی گئی ہوں اور ساتھ ہی ساتھ دلائل شرعیہ بھی ان کی پشت پناہی کرتے ہوں۔

اخلاص و للہیت کا تعلق قلبی عزائم سے ہے جن تک عام بندگان خدا کے علم و فہم کی رسائی نہیں ہوسکتی اسلئے ہمیں اپنی نظر اس امر پر مذکور رکھنی چاہیئے کہ اختلاف اگر شرعی امکانات کے حدود میں ہو تو حسن ظن سے کام لیتے ہوئے اسے اخلاص وللہیت پر ہی محمول کریں۔ فقہائے کرام کے ہزار ہا ہزار اختلافات اس کے شاہد عدل ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ یہ اختلافات کبھی ان کے مابین عداوت کا بیج نہ بوسکے اور ان کے دلوں کے نہاں خانے میں نفرت کی خلیج کبھی حائل نہ ہو سکی بلکہ اس کے بر خلاف وہ باہم اخوت ومحبت اور دریا دلی کے مثالی پیکر نظر آتے تھے ۔اختلاف کی دھرتی پر محبت کا یہ خو ش نما پودا،آج کے دور تشت وانتشار میں ہم سب کے لئے نمونۂ عبرت ہے۔

لیکن کیا سارے اختلافات اسی نوعیت کے ہوتے ہیں ۔؟

واقعہ یہ ہے کہ ایسا نہیں ۔بلکہ بہت سارے اختلافات ایسے بھی ہوتے ہیں جو معاصی و منکرات کے دائرے میں آنے کی وجہ سے مذموم قرار پاتے ہیں اور ان پرنکیر لازمی ہوتی ہے : اس لئے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کس اختلاف کو معصیت قرار دیا جائے اور کس اختلاف کو استحسان یا اباحت کے درجہ میں رکھا جائے بلفظ دیگر اختلاف کے باب میں معیار حسن وقبح ورحمت وزحمت کیاہے؟

آیئے اس کی جستجو کریں!

فقیہ فقید المثال اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمۃ والرضوان انکشاف فرماتے ہیں: (علمائے کرام تصریح فرماتے ہیں کہ مسئلۂ مختلف فیہا منکر شرعی ومعصیت دینی نہیں، نہ کہ معاذ اللہ اسے ضلالت کہنا جیسا کہ داب وہابیت ہے کہ صریح جہالت وضلالت ہے ۔اگر علماء بوجہ اختلاف متردد فیہ ٹھہرا کر واجب الترک مان لیتے تو منکر ومعصیت نہ سمجھنے کے کیا معنیٰ تھے ۔امام ابن الہمام فتح القدیر مسئلہ صلاۃ الجنازۃ فی المسجد میں فرماتے ہیں : ’’ الا نکاری الذی یجب عدم السکوت معہ ھو المنکر العاصی من قام بہٖ لاالفصول المجتھد فیھا۔‘‘

ترجمہ:۔ جس اختلاف پر عدم سکوت واجب ہے یہ وہ اختلاف ہے جو منکر ہوتا ہے اور اس کا مرتکب عاصی قرار پاتا ہے ،وہ مسائل نہیں جو مجتہد فیہ ہیں۔

امام علامہ عارف باللہ سیدی عبد الغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ‘فصل ثانی‘باب اول میں زیر قول ماتن رحمہ اللہ تعالیٰ’’اذاانکر علیھم بعض امور ھم المخالف للشرع الشریف‘‘ فرماتے ہیں:المراد ما ھو المجمع علیہ بین المجتھدین کالزنا وشرب الخمر والسرقۃ وترک الصلوٰۃ وما اشبہ ذلک۔ واما مالم یکن کذلک فلیس بمنکر ۔قال الامام الغزالی فی الاحیاء فی شروط المنکر :ان یکون کونہ منکرا معلوما بغیر اجتھاد ،فکل ماھو فی محل الاجتھاد فلا حسبۃفیہ فلیس للحنفی ان ینکر علی الشافعی اکلہ الضب والصنع ومتروک التسمیۃ،ولا للشافعی ان ینکرعلی الحنفی شربہ للنبیذ الذی لیس بمنکر، الی آخر ما بستہ من الکلام فی ھذا المقام۔

ترجمہ:۔ ’’مخالف شرع امر ‘‘سے مراد وہ امر ہے جس پر مجتہدین کا اجماع ہے جیسے زنا،شراب نوشی، چوری، ترک نماز ،اور دوسرے وہ امور جو ان کے مشابہ ہیں ۔

رہے وہ امور جن پر مجتہدین کا اجماع نہیں ہے تو وہ منکر نہیں ۔چنانچہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ احیاء العلوم میں منکر کی شرطیں شمار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک شرط یہ ہے کہ شئی کا منکر ہونا بغیر اجتہاد کے معلوم ہو کیونکہ جو امر محل اجتہاد میں ہوتا ہے اس پر کوئی محاسبہ نہیں ہوتا ۔لہٰذا حنفی کو یہ رَوا نہیں کہ شافعی پر یہ اعتراض کرے کہ وہ گوہ ،بجواور جس جانور کے ذبح پر قصدا ًبسم اللہ نہ پڑھی گئی ہو کیسے کھاتا ہے یونہی شافعی کے لئے یہ روا نہیں کہ غیر نشہ آور نبیذ پینے کی وجہ سے حنفی پر اعتراض کرے)

اسی میں ہے : ’’ انما المنکر ما وقع الاجماع علیٰ حرمتہ و النہی عنہ ‘‘ منکر محض وہ ہے جس کے حرام ہونے اور اس سے روکنے پر اجماع ہو ۔

اسی میں ہے : ’’لا ینبغی ان ینہیٰ الواعظ عما قال بہ امام من ائمۃ المسلمین بل ینبغی ان یقع النہی عما اجمع الائمۃ کلہم علیٰ تحریمہ و النہی عنہ الزنا و الربوٰ ، و الریا ، والطعن فی اولیاء اللہ تعالیٰ با الجہل فی معانی کلامہم و انکار کراماتہم بعد الموت و اعتقاد ان و لا یتہم انقطعت بموتہم و نہی الناس عن التبرک بہم الیٰ غیر ذلک من القبائح اہ مختصراً ‘‘

مختلف فیہ مسائل میں ممانعت نہ چاہئے ، منع کے لائق صرف وہ باتیں ہیں جن کی حرمت پر اجماع ہے ، جیسے زنا و ربا و ریا ، اور اولیاء اللہ کا کلام نہ سمجھ کر ان پر طعن کرنا اور بعد وصال ان کی کرامات کا منکر ہونا اور یہ سمجھنا کہ انتقال سے ان کی ولایت بھی جاتی رہی ، اور لوگوں کو ان کے مزارات کریمہ سے برکت حاصل کرنے سے منع کرنا ۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کے حرام ہونے پر تمام امت کا اجماع ہے ۔

مقدمۂ کتاب مستطاب میں شرح مقاصد سے گزرا: ’’خلافا للمبطلین حتی ربما جعلوا الاختلاف فی فروع ایضا بدعۃ و ضلالۃ ‘‘ یعنی اہل باطل فرعی مسائل مختلف فیہا میں بھی بدعت و ضلالت کا حکم دیتے ہیں ۔

تحفۂ اثنا عشریہ شاہ عبد العزیز صاحب دہلوی میں ہے کہ : یا با وجود ایں ہمہ (اختلافات) قول جازم نمائندہ بے باک و بے احتیاط سنت و ہمیں ست شان محتاطین از علماء راسخین کہ در اجتہادیات مختلف فیہا جزم باحد الطرفین نمی کنند

(حاشیہ اذاقۃ الآثام ص؍ ۱۴۴، ۱۴۵)

خاتم المحققین حجۃ الخلف حضرت مولانا مولوی نقی علی خاں صاحب قادری برکاتی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ (والد ماجد سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ و الرضوان ، جو اپنے زمانے کے عبقری فقیہ تھے ) فرماتے ہیں : مسح رقبہ و نماز چاشت کے بدعت و سنت ہونے میں اختلاف ہے پھر کیا علما ء انہیں واجب الترک بتاتے ہیں فقہا صدہا جگہ بعد نقل اختلاف فعل کو جائز و مباح ٹھہراتے ہیں بلکہ علماء بحال اختلاف ایسے امور سے منع نہ کرنے کی تصریح فرماتے ہیں۔

(اذاقۃ الآثام ص؍ ۱۴۲)

اس مسئلۂ ا ختلاف کے متعلق اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ اپنے ایک فتوٰی میں ارقام فرماتے ہیں:۔’’سیدی عارف باللہ محقق نابلسی کتاب مذکور (حدیقہ ندیہ) میں فرماتے ہیں کہ اب ہمارے شہر کی جامع مسجد میں مؤذنین جمعہ کے دن (امام کی دعا پر آمین) کہتے ہیں اس کی تخریج وثبوت ہمارے مذہب یا دوسرے مسلک میں ممکن ہے تو یہ ایسا ناجائز نہیں ہے کہ اس کا انکار اس سے منع لازم ہے، منکر تو وہ ہوتا ہو جن کی حرمت اور ممانعت پر اجماع ہو،،

(فتاویٰ رضویہ مترجم ص؍۴۸۴،۴۸۵؍ج؍۸رضا اکیڈمی)

مولوی سید محمد شاہ صاحب صدر دوم ندوہ ،اعلیٰحضرت علیہ الرحمہ سے ملنے کے لئے آئے ،اس موقع پر انہوں نے اعلیٰحضرت سے کہا : ’’میری رائے یہ ہے کہ کسی کو برا نہ کہنا چاہیئے ،،

اس کے جواب میں آپ نے ارشاد فرمایا :

’’بہت بجا فرمایا :جہا ں اختلافات فرعیہ ہو ں جیسے باہم حنفیہ و شافعیہ وغیرہما فرق اہل سنت میں ۔وہاں ہرگز ایک دوسرے کو برا کہنا جائز نہیں ۔اور فحش دشنام جس سے دہن آلودہ ہو کسی کو بھی نہ چاہئے ،، (الملفوظ حصہ اول ص؍۳۹،۴۰)

میں سمجھتا ہوں کہ ان عبارات سے یہ امر بخوبی عیاں ہوجاتا ہے کہ اختلاف کے باب میں ’’رحمت وزحمت کا معیار ‘‘ کیا ہے اس لئے ہمیں مسائل فقہیہ میں اختلاف کرنے والے کسی عالم اہل سنت سے اسی معیار کے مطابق برتائو کرنا چاہیئے،یہی رحمت ہے اور اس سے عدول زحمت ہے۔

’’اختلافات امت رحمت ہے ،،

مقدمہ میزان الشریعہ الکبریٰ۔

الانصاف فی بیان سبب الاختلاف

اذاقۃ الآثام ص؍۱۴۶ غالباـــ۔

٭٭٭