حدیث نمبر :157

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام غریبی سے شروع ہوا اورجیسا شروع ہوا تھا ویسا ہی پھر ہوجائے گا غربا کو خوشخبری ہو ۱؎ (مسلم)

شرح

۱؎ غربت کے لفظی معنی ہیں تنہائی اور بیکسی،اسی لیئے مسافر اور تنگ دست کو غریب کہا جاتا ہے کہ مسافر سفر میں اکیلا ہوتا ہے اور تنگ دست بیکس،یعنی اسلام کو پہلے تھوڑے لوگوں نے قبول کیا اور آخر میں بھی تھوڑے ہی لوگوں میں رہ جائے گا،یہ دونوں جماعتیں بڑی مبارک ہیں۔الحمدﷲ!تھوڑے مسلمان بہتوں پر غالب آتے رہے اور آتے رہیں گے،تھوڑا سونا بہت سے لوہے پر اور تھوڑا مشک بہت سی مٹی پر غالب ہے۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ غریب مسکین لوگ اسلام پر قائم رہتے ہیں اکثر مالداربھٹک جاتے ہیں۔