حدیث نمبر :158

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یقینًا ایمان مدینہ کی طرف ایسا سمٹ آوے گا جیسے سانپ اپنے بل کی طرف ۱؎ (مسلم وبخاری)اور ہم حضرت ابوہریرہ کی حدیث ذرونی الخ کتاب الحج میں اورحضرت معاویہ وجابر کی حدیثیں لایزال من امتی الخ اور لایزال طائفۃ من امتی ان شاءاﷲ باب ثواب ھذہ الامۃ میں بیان کریں گے ۲؎

شرح

۱؎ یہ آخر زمانہ میں ہوگا کہ مسلمان کو دنیا میں کہیں امن نہ ملے گا تو وہ اپنا ایمان بچانے کے لیئے مدینے کی طرف بھاگیں گے،مدینہ پہلے بھی مسلمانوں کا جائے امن بنا اور آیندہ بھی بنے گا کیوں نہ ہو کہ یہاں دونوں عالم کے پناہ صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ فرما ہیں غالبًا یہ واقعہ دجّال کے قریب ہوگا۔سانپ سے تشبیہ دینے میں ادھر اشارہ ہے کہ جیسے سانپ کو کوئی پناہ نہیں دیتا ایسے ہی آخر زمانہ میں لوگ اسلام کو سانپ کی طرح تکلیف دہ سمجھیں گے۔اس سے معلوم ہورہا ہے کہ مدینہ پاک اسلام سے کبھی خالی نہ ہوگا۔

۲؎ یعنی وہ تینوں حدیثیں مصابیح میں یہاں ہی تھیں لیکن ہم نے مناسبت کی وجہ سے ان بابوں میں ذکر کیا۔