أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَيۡسَ عَلَيۡكَ هُدٰٮهُمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ يَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَلِاَنۡفُسِكُمۡ‌ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡنَ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ اللّٰهِ‌ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ يُّوَفَّ اِلَيۡكُمۡ وَاَنۡـتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ

ترجمہ:

اے رسول ! ) انہیں ہدایت یافتہ کرنا آپ کے ذمہ نہیں ہے ‘ لیکن اللہ جسے چاہتا ہے اسے ہدایت یافتہ بنا دیتا ہے ‘ اور تم جو اچھی چیز خرچ کرتے ہو سو وہ تمہارے نفع کے لیے ہے ‘ اور تم صرف اللہ کی رضا جوئی کے لیے ہی خرچ کرتے ہو ‘ اور تم جو اچھی چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے ان کا تم کو پورا اجر دیا جائے گا اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اے رسول ! ) انہیں ہدایت یافتہ کرنا آپ کے ذمہ نہیں ہے ‘ لیکن اللہ جسے چاہتا ہے اسے ہدایت یافتہ بنا دیتا ہے۔ (البقرہ : ٢٧٢)

اہل الذمہ کو نفلی صدقات دینے کا جواز :

امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ مسلمان اپنے (نفلی) صدقات اپنے مشرک رشتہ داروں کو نہیں دیتے تھے ‘ اسی طرح انصار بنو قریظہ اور بنو نضیر کو صدقات نہیں دیتے تھے اور چاہتے تھے کہ وہ اسلام لے آئیں تو یہ آیت نازل ہوئی کہ (اے رسول ! ) انہیں ہدایت یافتہ کرنا آپ کے ذمہ نہیں ہے ‘ لیکن اللہ جسے چاہتا ہے اسے ہدایت یافتہ بنا دیتا ہے۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ٦٣ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ نفلی صدقات ذمی کافروں کو دیئے جاسکتے ہیں یعنی جو کافر مسلمانوں کے ملک میں حکومت کی امان کے ساتھ رہتے ہیں اور اہل ذمہ کے حکم میں ہیں ان کو نفلی صدقات دیئے جاسکتے ہیں اور صدقات فرضیہ غیر مسلم کو دینا جائز نہیں ہے اور حربی کافر کو کسی قسم کا صدقہ دینا جائز نہیں ہے۔

نیز اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ ہدایت کو لوگوں کے دلوں میں پیدا کرنا آپ کا فریضہ اور منصب نہیں ہے آپ کا کام صرف ہدایت کو پہنچانا اور بیان کرنا ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” فان اعرضوافما ارسلنک علیہم حفیظا ان علیک الا البلغ ‘، (الشوری : ٤٨)

ترجمہ : سو اگر یہ (اسلام قبول کرنے سے) منہ موڑیں تو ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا ‘ آپ کا منصب تو صرف دین کو پہنچادینا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 272