أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ بِالَّيۡلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ‌ۚ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ

ترجمہ:

جو لوگ رات اور دن میں خفیہ اور علانیہ اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں ان کے رب کے پاس ان کے لیے اجر ہے ‘ اور نہ ان پر کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو لوگ رات اور دن میں خفیہ اور علانیہ اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں ان کے رب کے پاس ان کے لیے اجر ہے اور نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔۔ (البقرہ : ٢٧٤)

خفیہ اور علانیہ صدقہ کی آیت کے شان نزول میں متعدد اقوال :

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے صدقہ کرنے کی بار بار ترغیب دی ہے ‘ اب یہ فرما رہا ہے کہ صدقہ کرنے کے لیے کوئی وقت معین نہیں ہے ‘ دن اور رات کے کسی بھی وقت میں خفیہ یا علانیہ صدقہ کیا جاسکتا ہے ‘ اس آیت کے شان نزول میں متعدد اقوال ہیں ‘ حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں۔

امام ابن المنذر ‘ امام ابن ابی حاتم اور امام واحدی ‘ حضرت ابوامامہ باہلی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جس شخص نے اللہ کی راہ میں گھوڑا باندھا اور اس کا یہ عمل دکھانے اور سنانے کے لیے نہیں تھا تو وہ اس آیت کا مصداق ہے۔

امام عبدالرزاق ‘ امام عبد بن حمید ‘ امام ابن جریر ‘ امام ابن المنذر ‘ امام طبرانی اور امام ابن عساکر حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی (رض) کے متعلق نازل ہوئی ‘ ان کے پاس چار درہم تھے ‘ ایک درہم انہوں نے رات میں خرچ کیا ‘ ایک دن میں ‘ ایک خفیہ اور علانیہ۔

امام ابن جریر ‘ اور امام ابن المنذر ‘ نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو اللہ کی راہ میں صدقات فرضیہ خرچ کرتے ہیں ‘ وہ اسراف کرتے ہیں ‘ نہ تنگی کرتے ہیں نہ فساد کرتے ہیں۔

امام ابن ابی حاتم نے ضحاک سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت زکوۃ کی فرضیت سے پہلے نازل ہوئی تھی۔

امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت سورة توبہ سے پہلے نازل ہوئی تھی ‘ جب سورة توبہ میں صدقات فرضیہ اور ان کی تفصیل نازل ہوئی تو تمام صدقات اس تفصیل کے مطابق خرچ کیے جانے گے (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٣٦٣‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 274