حدیث نمبر :160

روایت ہے حضرت ابو رافع سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کسی کو مسہری پر تکیہ لگائے نہ پاؤں۲؎ کہ اس کے پاس میرے احکام میں سے جس کا میں نے حکم دیا جس سے میں نے منع کیا کوئی حکم پہنچے اور وہ کہہ دے کہ ہم نہیں جانتے جو قرآن شریف میں پائیں گے ہم تو اس کی پیروی کریں گے۳؎ اس حدیث کو احمد و ابوداؤد ترمذی و ابن ماجہ نے روایت کیا اور بیہقی نے دلائل نبوت میں۔

شرح

۱؎ آپ کا نام ابراہیم یا اسلم ہے،آپ حضور کے آزاد کردہ غلام ہیں،آپ نسلًاقبطی ہیں،حضرت عباس کی ملک میں تھے،انہوں نے بطور نذرانہ حضور کی ملک میں دے دیا۔جب حضرت عباس اسلام لائے تو انہوں نے ہی حضور کو آپ کے اسلام کی خبر دی،حضور نے اس خوشی میں ان کو آزاد کردیا۔آپ سوائے جنگ بدر کے باقی تمام غزووں میں حضور کے ساتھ رہے،خلافت مرتضوی میں وفات پائی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔(مرقاۃ واشعۃ اللمعات)

۲؎ سبحان اﷲ!یہ ہے میرے محبوب کی قوت نظر،انکار حدیث کےموقعوں پر یہ دو کلمے ہمیشہ فرمائے جاتے ہیں کیونکہ قرآنی فرقہ کا موجد عبداﷲ چکرالوی ہے،جو چکرالہ ضلع میانوالی پنجاب میں پیدا ہوا،یہ بہت مالدار اورلنگڑا تھا۔مُتَکِّیًا فرماکر اس کےلنگڑا ہونے کی طرف اور”اَرِیْکَۃْ”فرماکر اس کی مالداری کی طرف اشارہ کردیا گیا،یا یہ مطلب ہے کہ اس فرقہ کا موجد آرام طلب ہوگا،گھر میں رہے گا،علم دین حاصل کرنے کے لیئے سفر نہ کرے گا،صرف قرآن کے ترجمے دیکھ کر یہ کہے گا۔چنانچہ عبداﷲ!چکرالوی اور اس کی ساری ذرّیّت کا یہی حال ہے غرض کہ یہاں یا ظاہری عیوب کا ذکر ہے یا باطنی کا۔

۳؎ نہیں جانتے کا مقصد ہے نہیں مانتے یعنی ہم قرآن کے سوا حدیث وغیرہ کے قائل نہیں،قرآن میں سب کچھ ہے پھرحدیث کی کیا ضرورت ہے۔عبداﷲ چکرالوی اور اس کی ذرّیّت کے یہی الفاظ ہوتے ہیں۔سبحان اﷲ! “مَا وَجَدْنَا” فرماکرکیسا نفیس اشارہ فرمایا کہ اگرچہ قرآن تو کامل ہے مگر انسان کا پانا ناقص،قرآن میں سب کچھ ہے مگر ملے گا اسے جسے میں نکال کردوں،ہرشخص سمندر سے موتی حاصل نہیں کرسکتا موتی نکلتے سمندر سے ہیں مگر ملتے جوہری کی دکان پر ہیں اس اَفْصَحُ الْفُصَحَاءِصلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو لفظوں میں ان کے دلائل مع تردید بتادیئے۔