أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لِلۡفُقَرَآءِ الَّذِيۡنَ اُحۡصِرُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ ضَرۡبًا فِى الۡاَرۡضِ يَحۡسَبُهُمُ الۡجَاهِلُ اَغۡنِيَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ‌ۚ تَعۡرِفُهُمۡ بِسِيۡمٰهُمۡ‌ۚ لَا يَسۡـــَٔلُوۡنَ النَّاسَ اِلۡحَــافًا ‌ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ

ترجمہ:

یہ خیرات) ان فقراء کا حق ہے جو خود کو اللہ کی راہ میں وقف کیے ہوئے ہیں ‘ جو (اس میں شدت اشتغال کی وجہ سے) زمین میں سفر کی طاقت نہیں رکھتے ‘ ناواقف شخص ان کے سوال نہ کرنے کی وجہ سے ان کو خوش حال سمجھتا ہے ‘(اے مخاطب) تم (ان میں بھوک کے آثار دیکھ کر) ان کو صورت سے پہنچان لوگے ‘ وہ لوگوں سے گڑگڑا کر سوال نہی کرتے ‘ اور تم جو اچھی چیز بھی (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہو بیشک اللہ اس کو خوب جاننے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ (خیرات) ان فقراء کا حق ہے جو خود کو اللہ کی راہ میں وقف کیے ہوئے ہیں جو (اس میں شدت اشتغال کی وجہ سے) زمین میں سفر کی طاقت نہیں رکھتے۔ (البقرہ : ٢٧٣)

علامہ ابوالحیان اندلسی لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) اور مقاتل نے کہا : یہ فقراء اہل صفہ تھے جنہوں نے خود کو اللہ کی عبادت کے لیے وقف کرلیا تھا ان کے پاس بالکل مال نہیں تھا ان کی تعداد تقریبا چار سو تھی ‘ مجاہد نے کہا : یہ قریش کے فقراء مہاجرین تھے ‘ سعید بن جبیر نے کہا : یہ وہ صحابہ تھے جو مختلف غزوات میں زخمی ہو کر اپاہج ہوگئے تھے۔ نساء اسی کو اختیار کیا ہے کہ وہ مرض کی وجہ سے زندگی کے کام کاج کرنے اور سفر کرنے سے معذور ہوگئے تھے سدی نے کہا : کفار نے ان کو گھیرے میں لے لیا تھا ‘ اور وہ کفار کے غلبہ کی وجہ سے گھر گئے تھے ‘ قتادہ نے کہا : انہوں نے خود کو جہاد کے لیے وقف کرلیا تھا ‘ لیکن فقر کی وجہ سے جہاد نہیں کرسکتے تھے محمد بن فضل نے کہا : یہ وہ فقراء تھے جو اپنی بلند ہمت اور خودداری کی وجہ سے صرف اللہ سے دعا کرتے تھے اور کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کرتے تھے زمخشری نے کہا : یہ فقراء تھے جو جہاد میں مشغول رہنے کی وجہ سے تجارت کے لیے زمین میں سفر نہیں کرسکتے تھے (البحر المحیط ج ٢ ص ٦٩٦ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

ہر چند کہ مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں ان فقراء کے متعدد مصداق بیان کیے ہیں ‘ لیکن ہمارے نزدیک مختار یہ ہے کہ ان فقراء سے مراد اہل صفہ ہیں ‘ جنہوں نے خود کو علم دین کے حصول کے لیے وقف کیا ہوا تھا ‘ یہ ستر نادار صحابہ تھے جو مسجد نبوی میں رہتے تھے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے ایک چبوترہ بنوایا تھا ‘ یہ اپنی بلند ہمت اور خودداری کی وجہ سے کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کرتے تھے نہ انہوں نے اپنی وضع قطع مسکینوں اور ویشوں کی سی بنائی ہوئی تھی کہ ان کی ظاہری حالت قابل رحم ہو اور دیکھنے والا ان کو ضرورت مند سمجھ کر ان کی مدد کرے ‘ یہ صحابہ ‘ خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر “ کی عملی تصویر تھے ‘ یہ شدید ضروریات میں بھی اپنی سفید پوشی کو قائم رکھتے تھے اور اپنے چہروں سے اپنی بھوک اور پیاس کو ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے اور ان سے باتیں کرنے والا اور ان کی ظاہری حالت کو دیکھنے والا ان کو خوش حال اور شکم سیر گمان کرتا تھا اس کا اندازہ اس حدیث سے ہوتا ہے ‘ امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ اصحاب صفہ اہل اسلام کے مہمان تھے ‘ ان کا کوئی گھر نہیں تھا نہ مال ‘ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ! میں بھوک کی شدت سے اپنے جگر کو زمین سے لگائے رکھتا تھا ‘ اور بھوک کے غلبہ کے وقت اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا تھا ‘ ایک دن میں ایک راستہ پر بیٹھا تھا جہاں سے لوگ گزر رہے تھے ‘ حضرت ابوبکر (رض) گزرے تو میں نے ان سے قرآن مجید کی ایک آیت کے متعلق پوچھا ‘ میں نے ان سے صرف اس لیے پوچھا تھا کہ شاید وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں اور مہمان بنا کر کھانا کھلائیں وہ گزر گئے اور مجھے نہیں لے گئے ‘ پھر حضرت عمر (رض) گزرے ‘ میں نے ان سے بھی قرآن مجید کی ایک آیت پوچھی ‘ ان سے بھی اسی لیے پوچھا تھا ‘ وہ بھی مجھے نہیں لیے گئے ‘ پھر سیدنا ابوالقاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزار ہوا ‘ آپ مجھے دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا : ابوہریرہ ! میں نے عرض کیا : لبیک یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا : میرے ساتھ آؤ اور چل پڑے ‘ میں بھی آپ کے ساتھ گیا ‘ آپ گھر چلے گئے ‘ میں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی ‘ آپ نے اجازت دے دی ‘ گھر میں دودھ کا ایک پیالہ تھا ‘ آپ نے پوچھا : یہ دودھ کہاں سے آیا ہے ؟ گھر والوں نے بتایا کہ ہمارے لیے فلاں شخص نے ہدیہ بھیجا ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوہریرہ ! میں نے عرض کیا : لبیک ‘ آپ نے فرمایا : جاؤ تم اہل صفہ کو بلالاؤ ‘ وہ اہل اسلام مہمان ہیں ‘ ان کا گھر با رہے نہ مال ہے آپ کے پاس جب کوئی صدقہ آتا تھا تو آپ اس کو ان کے پاس بھیج دیتے تھے اور خود اس میں سے بالکل نہیں کھاتے تھے اور جب آپ کے پاس کوئی ہدیہ آتا تھا ‘ تو آپ ان کے پاس بھی بھیجتے تھے ‘ اور خود بھی اس میں سے تناول فرماتے تھے ‘ مجھے آپ کا یہ فرمانا ناگوار لگا ‘ میں نے سوچا : یہ ایک پیالہ دودھ تمام اصحاب صفہ کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتا ہے ‘ اب میں ان کو بلا کر لاؤں گا ‘ پھر فرمائیں گے : ان کو یہ دودھ پلاؤ ‘ میرے لیے تو اس میں سے ایک قطرہ بھی نہیں بچے گا ‘ اور مجھے یہ امید تھی کہ شاید آپ یہ سارا دودھ مجھے دے دیں گے لیکن اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کے سوا اور کوئی چارہ کار بھی نہیں تھا ‘ میں گیا اور ان کو بلا کر لایا ‘ وہ سب آکر اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے آپ نے فرمایا : ابوہریرہ ! یہ پیالہ لو اور ان کو پیش کرو ‘ میں نے وہ پیالہ لیا اور ان میں سے ایک شخص کو پلایا ‘ اس نے اس پیالے سے دودھ پیا حتی کہ وہ سیر ہوگیا ‘ پھر میں نے دوسرے کو پلایا حتی کہ اخیر میں ‘ میں اس پیالہ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لیے گیا ‘ اور تمام اصحاب صفہ سیر ہو کر پی چکے تھے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ پیالہ لے کر میرے ہاتھ پر رکھ دیا ‘ پھر آپ سر اٹھا کر مسکرائے ‘ اور فرمایا : اے ابوہریرہ ! پیو میں نے پیا ‘ آپ نے فرمایا (اور) پیو ‘ میں نے پیا ‘ میں اسی طرح پیتا رہا اور آپ فرماتے رہے : پیو حتی کہ میں نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ! اب بالکل گنجائش نہیں ہے ‘ آپ نے وہ پیالہ لیا ‘ اللہ کی حمد کی اور بسم اللہ پڑھ کر پی لیا۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٣٥٧۔ ٣٥٦ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اس حدیث سے یہ واضح ہوگیا کہ اصحاب صفہ وہ فقراء صحابہ تھے جن کا گھر بار تھا نہ ان کے پاس مال ومنال تھا ‘ انہوں نے علم دین کے حصول کے لیے خود کو وقف کیا ہوا تھا ‘ وہ سخت بھوک و پیاس کے عالم میں بھی کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کرتے تھے اور ان کی ظاہری حالت سے ان کی اندرونی کیفیات کا اندازہ نہیں ہوتا تھا ‘ قرآن مجید کے بیان کردہ اوصاف انہی پر پوری طرح صادق آتے تھے ‘ نیزحسب ذیل احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ اس آیت کا مصداق اصحاب صفہ ہی تھے

حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام ابن المنذر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ اس آیت سے مراد اصحاب صفہ ہیں :

امام بخاری اور مسلم نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا : جاؤ اصحاب صفہ کو بلا لاؤ ‘ اور اصحاب صفہ اسلام کے مہمان تھے ‘ نہ ان کے پاس مال تھا ‘ جب آپ کے پاس کوئی صدقہ آتا تو آپ ان کے پاس بھیج دیتے اور خود اس سے تناول نہیں فرماتے تھے اور جب آپ کے پاس کوئی ہدیہ آتا تو ان کے پاس بھی بھیجتے اور خود بھی تناول فرماتے۔

امام ابونعیم نے ” حلیہ “ میں حضرت فضالہ بن عبید (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز پڑھاتے تو کچھ لوگ بھوک شدت سے قیام کے دوران گرپڑتے تھے ‘ یہ اصحاب صفہ تھے ‘ دیہاتی لوگ ان کو مجنون گمان کرتے تھے۔

امام ابن سعد ‘ عبداللہ بن احمد اور امام ابونعیم نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ اصحاب صفہ کی تعداد ستر تھی ‘ ان میں کسی کے پاس چادر نہیں تھی۔

امام محمد بن سعد نے محمد بن کعب قرظی سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت اصحاب صفہ کے متعلق نازل ہوئی ہے ان کا مدینہ میں کوئی گھر نہ تھا کوئی قبیلہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ان پر صدقہ کرنے کی ترغیب دی ہے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٣٥٨‘ ملتقطا مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ناواقف شخص ان کے سوال نہ کرنے کی وجہ سے ان کو خوش حال سمجھتا ہے ‘ اے مخاطب تم (ان میں بھوک کے آثار دیکھ ر) ان کی صورت سے پہچان لو گے ‘ وہ لوگوں سے گڑگڑا کر سوال نہیں کرتے۔ (البقرہ : ٢٧٣)

گداگری کی مذمت اور سوال نہ کرنے کی فضیلت میں احادیث :

حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام بخاری ‘ امام مسلم ‘ امام ابودؤاد ‘ امام نسائی ‘ امام ابن المنذر ‘ امام ابن ابی حاتم ‘ اور امام ابن مردویہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ شخص مسکین نہیں ہے ‘ جس کو ایک کھجور یا دو کھجور لوٹا دیں ‘ یا ایک لقمہ یا دو لقمے لوٹا دیں ‘ مسکین تو صرف وہ شخص ہے جو سوال کرنے سے باز رہے اور اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو ‘ وہ لوگوں سے گڑگڑا کر سوال نہیں کرتے۔

امام بیہقی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اپنے فاقہ یا اپنے گھر والوں کے فاقہ کے بغیر سوال کیا ‘ قیامت کے دن اس کے چہرے پر گوشت نہیں ہوگا ‘ اور اللہ تعالیٰ اس پر فاقوں کا دروازہ کھول دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوگا۔

امام طبرانی نے ” معجم اوسط “ میں حضرت جابر بن عبداللہ انصاری (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے بلاضرورت سوال کیا قیامت کے دن اس کے چہرے پر خراشیں پڑی ہوں گی۔

امام ابن ابی شیبہ ‘ امام مسلم اور امام ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے مال بڑھانے کے لیے سوال کیا وہ صرف انگاروں کا سوال کر رہا ہے ‘ کم سوال کرے یا زیادہ۔

امام احمد ‘ امام ابوداؤد ‘ امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے حضرت ثوبان (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو آدمی مجھے اس بات کی ضمانت دے کر وہ لوگوں سے سوال نہیں کرے گا میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں۔

امام بخاری ‘ امام مسلم ‘ امام ابودؤاد ‘ امام ترمذی امام نسائی حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی شخص کثرت مال سے غنی نہیں ہوتا ‘ بلکہ غنی وہ شخص ہے جس کا دل غنی ہو۔

امام طبرانی نے ” معجم اوسط “ میں حضرت جابر سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم حرص کرنے سے بچو ‘ کیونکہ حرص ہی درحقیقت فقر ہے اور اس بات سے بچو کہ تم سے معذرت کی جائے۔

امام ابی شیبہ امام بخاری ‘ امام ابن ماجہ نے حضرت زبیر بن عوام (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر تم سے کوئی شخص رسی سے لکڑیوں کا ایک گھٹا باندھ کر اپنی کمر پر لادے اور اس کو فروخت کرکے سوال کرنے سے بچے ‘ وہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرے ‘ وہ اس کو دیں یا منع کردیں۔

امام احمد ‘ امام ابو یعلی ‘ امام ابن حبان ‘ امام طبرانی اور امام حاکم نے تصحیح سند کے ساتھ حضرت خالد بن عدی الجہنی (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کے پاس اس کے بھائی کی طرف سے کوئی چیز بغیر کسی طمع اور بغیر کسی سوال کے پہنچی ہو وہ اس کو قبول کرلے ‘ یہ اس کو اللہ نے رزق عطا کیا ہے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٣٦٢۔ ٣٥٨‘ ملتقطا ‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

سوال کرنے کی حد جو از :

علامہ علاء الدین حصکفی حنفی لکھتے ہیں :

جس شخص کے پاس ایک دن کا کھانا ہو یا اتنی بدنی طاقت ہو کہ وہ محنت مزدوری کرکے ایک دن کی خوراک حاصل کرسکے ‘ اس کے لیے سوال کرنا جائز نہیں ہے اور اگر دینے والے کو یہ علم ہو اور اس کے باوجود وہ اس کو دے تو وہ گنہ گار ہوگا کیونکہ وہ حرام کام میں مدد کر رہا ہے ‘ اور اگر وہ شخص طلب علم دین یا جہاد میں مشغول ہو اور وہ کپڑوں کا سوال کرے تو جائز ہے ‘ بشرطیکہ اس کو کپڑوں کی ضرورت ہے۔ (درمختار علی ھامش رد المختار ج ٢ ص ٦٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ شامی لکھتے ہیں :

جس شخص کے لیے سوال کرنا جائز نہیں ہے ‘ اس کے سوا پر اس کو دینا تو حرام ہے ‘ لیکن جو شخص صاحب نصاب نہ ہو اس کو اس کے سوال کے بغیر بہ طور صدقہ اور خیرات کے دینا جائز ہے اور کار ثواب ہے اور جو شخص صاحب نصاب ہو اس کو بہ طور ہدیہ اور ہبہ کے دنیاجائز ہے (رد المختار ج ٢ ص ‘ ٦٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

مسجد میں سائل کو دینے کی تحقیق :

ہمارے زمانہ میں لوگ مسجدوں میں آکر سوال کرتے ہیں اور بعض علماء ایسے سوال کرنے والوں کو مطلقا منع کرتے ہیں لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔

علامہ حصکفی حنفی لکھتے ہیں :

مسجد میں سائل کو دنیا مکروہ ہے ‘ ہاں ! اگر وہ لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے تو پھر قول مختار کے مطابق وہ مکروہ نہیں ہے ‘ اسی طرح ” اختیار “ اور ” مواہب الرحمان “ میں مذکور ہے کیونکہ حضرت علی (رض) نے نماز کی حالت میں انگوٹھی صدقہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح میں قرآن کی آیت نازل کی : جو لوگ رکوع کی حالت میں زکوۃ دیتے ہیں۔ (درمختار علی ھامش رد المختار ج ٥ ص ٣٦٨ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ ابن عابدین شامی حنفی لکھتے ہیں :

” اختیار “ میں مذکور ہے کہ اگر سائل نمازیوں کے آگے سے گزرتا ہے اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہے تو اس کو دینا مکروہ ہے ‘ کیونکہ یہ لوگوں کو ایذاء دینے پر معاونت ہے ‘ حتی کہ کہا گیا ہے کہ اس طرح ایک پیشہ دینے کا کفارہ ستر پیسے بھی نہیں ہوسکتے ‘ علامہ طحطاوی نے کہا ہے کہ یہ کراہت نمازیوں کی گردنیں پھلانگنے کی وجہ سے ہے جس کو ایذاء لازم ہے اور جب وہاں گزرنے کے لیے کشادہ جگہ ہو تو پھر کوئی کراہت نہیں ہے جیسا کہ اس عبارت کے مفہوم مخالف سے معلوم ہوتا ہے۔ (رد المختار ج ٥ ص ٢٦٨ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ ابن بزار کردری احکام مسجد کے بیان میں لکھتے ہیں :

جومسکین کھانے میں فضول خرچی کرتے ہوں اور گڑگڑا کر مانگتے ہوں ان کو دینے سے بھی اجر ملے گا ‘ لیکن اگر کسی معین شخص کے متعلق معلوم ہو کہ وہ فضول خرچی کرتا ہے اور گڑگڑا کر مانگتا ہے تو پھر اس کو دینے سے اجر نہیں ہوگا۔ (فتاوی بزاز یہ علی ھامش الہندیہ ج ٦ ص ٣٥٨۔ ٣٥٧‘ مطبوعہ مطبع مطبع کبری امیریہ بولاق ‘ مصر ‘ ١٣١٠ ھ)

خلاصہ یہ ہے کہ جو سائل مسجد میں نمازی کے آگے سے گزرے یا نمازیوں کی گردنیں پھلانگے ‘ یا گڑگڑا کر سوال کرے یا اس کے متعلق دینے والے کو معلوم ہو کہ یہ فضول خرچی کرتا ہے یا اس کو معلوم ہو کہ اس کے پاس ایک دن کی خوراک ہے یا یہ شخص صحت مند ہے اور محنت مزدوری کرکے کما سکتا ہے اس کے سوال پر اس کو دینا جائز نہیں ہے اور اگر یہ موانع اور عوارض نہ پائے جائیں تو اس سائل کو مسجد میں دینا جائز ہے

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 273