Resultado de imagen de hangasia

کہیں تو ہم سے بھول ہوئی ہے

یہ بات ہے 2010ءکی جب قاری محمد سلام اور چند خواتین اور گواہان کی طرف سے عائد کئےگئے الزامات کو ثابت ہونے کی بنیاد پر ٹرائل کورٹ میں آسیہ ملعونہ کو سزائے موت سنائی گئی.

پھر تمام دلائل و حقائق گواہان کو درست مانتے ہوئے ہائیکورٹ نے بھی سزائے موت کو برقرار رکھا.

پھر 2014ءمیں میں یہ فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور سپریم کورٹ نے اس کو چار سال تک لٹکائے رکھا اور 18 اکتوبر 2018 کو اس کا فیصلہ محفوظ کیا گیا جو کہ آج 31 اکتوبر 2018ء کو سنایا گیا..

مگر یہ یاد رہے کہ اس دورانیے میں کئی قیمتی جانیں چلی گئی گورنر پنجاب قتل ہوا، غازی ممتاز قادری شہید رحمتہ اللہ علیہ کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا، احتجاج ہوئے نقصانات ہوئے،

اور جس آسیہ ملعونہ کی وجہ سے یہ تمام حادثات ہوئے اس کو آج بے گناہ قرار دے کر سپریم کورٹ نے بری کر دیا،

صرف دو تین سوال ہیں

* اگر آسیہ ملعونہ سپریم کورٹ کے مطابق بے گناہ ہے، تو پھر قاری محمد سلام اور گواہان مجرم ہیں،

* تو ملک میں اتنے بڑے انتشار کا سبب بننے والوں کے لئے سزا دینے کا عدالت نے کیا فیصلہ کیا ہے؟

*اور ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ نے جو سزائے موت کا فیصلہ کیا تھا، اگر سپریم کورٹ کے مطابق غلط تھا تو کیا عدالت نے ان کے لیے بھی کوئی حکم جاری کیا ہے؟

* میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان ان چاروں میں سے جو بھی مجرم ہے اس کو عبرتناک سزا ملنی چاہیے،

* یا تو مجرم ہیں قاری محمد سلام اور ان کے ساتھ گواہان…

* یا پھر ٹرائل کوٹ سزائے موت سنانے کا مجرم ہے…

* یا پھر یہ جرم عظیم ہائیکورٹ نے کیا ہے..

* اور اگر مجرمہ آسیہ ملعونہ ہے

تو پھر سپریم کورٹ نے جان بوجھ کر ملک میں انتشار کی فضا کو ہوا دی ہے…..

اگر سپریم کورٹ چاہتی تو ملک میں آج جو انتشار کی فضا ہے اس کے لئے ایک مناسب حل بھی موجود تھا کہ سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیتی( لیکن یاد رہے یہاں پر میں شرعی اعتبار سے بات نہیں کر رہا اس کا قانون ضابطہ تو ساری دنیا جانتی ہے)

آسیہ ملعونہ آٹھ دس سال تو جیل میں گزار چکی تھی اگر یہ سزا عمرقید میں تبدیل ہوتی تو تھوڑے عرصے میں اس کی سزا پوری ہوجاتی اور مسلمانوں میں آج کے دن پیدا ہونے والا شدید انتشار قدرے کم ہوتا…

اس وقت جو ملک بند کر دیا گیا ہے اس احتجاج کا نجانے کیا نتیجہ نکلے گا کتنی جانیں مزید لے جائے گا، اللہ ہمارے ملک پر رحم کرے، ہمارے حکمرانوں کو ہدایت دے، اور عدل کے نام پر ہونے والے تماشے سے ہمارے ملک کو محفوظ رکھے..آمین

تحریر:——– محمد یعقوب نقشبندی اٹلی