Resultado de imagen de ‫احمد رضا خاں بریلوی‬‎

احمد رضا خاں بریلوی (متوفی 28اکتوبر 1921ء)

احمد رضا خاں بریلوی (متوفی 28اکتوبر 1921ء)

آپ پاکستان میں بے شک اپنے اپنے فرقوں کے جوہڑ سے باہر نہ نکلیں ۔لیکن حقیقت یہ کہ عالمی سطح پر سب ہی مذاہب اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اس وقت دنیا میں جو نظریہ غلبہ حاصل کر رہا ہے وہ الحاد ہے ۔ مذہب اب صرف غریب ممالک کا مسئلہ رہ گیا ہے جو خود کچھ نہیں کر سکتے وہ مذہب کا سہار ا ڈھونڈ کر اس میں پناہ تلاش کر رہے ہیں ۔ معلومات کی بہتات علم کا اضافہ نہیں بلکہ تشکیک کا باعث بنا ہے ۔ بغیر کسی استاد کی مدد لئے محض انٹرنیٹ کی مدد سے سوالوں کی جواب ڈھونڈنے والے گمراہ ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگاتے ۔ ایمان محبت کا معاملہ ہوتا ہے دلیل سے تو آپ خد ا کا وجود بھی موثر طریقے سے ثابت نہیں کر سکتے آپ ایک سو دلیلیں خدا کے وجود کی دیں ملحد ایک سو ایک دلیلوں سے آپ کی دلیلیں رد کر دے گا۔

ہر شرسے بچنے کاایک پیمانہ اور ایک فارمولا ہوتا ہے ۔اسلام میں یہ پیمانہ محبت ذات رسول ﷺ ہے ۔ اگرمسلمان بچے کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت کا جذبہ بھردیں تو وہ کبھی ڈی ٹریک نہیں ہو گا ۔ یہ پیمانہ صرف ملحدوں سے بچنے کے لئے نہیں بلکہ مسلمانوں کے اندر موجود فرقوں اور فتنوں سے بھی بچنے کے لئے بھی ضروری ہے ۔ صحابہ کرام کا مقام جاننا ہو یااہل بیت سے عقید ت نبھانی ہو پیمانہ ذات مصطفی ہو گی ۔توحیدو شرک کیا اور بدعت کیا اس کا تعین بھی صرف محبت رسول ﷺ کا جذبہ ہی کرے گا ۔

گزشتہ صدی میں یہ اعزازمولانا احمد رضا خاں بریلوی کو جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی ہر تحریر ، نثر ہو یا نظم ، فقہ ہو یا ترجمہ قرآن۔ اپنے ہر علمی نقطے کو محبت رسول ﷺ کی مٹی سے گوندھ کر پیش کیا ہے ۔احمد رضا بریلوی نہ صرف ایک بہت بڑے عالم تھے بلکہ مجتہد بھی تھے علامہ اقبال نے کہاتھا کہ ”اگر مولانا میں شدت نہ ہوتی تو وہ اپنے زمانے کے امام ابو حنیفہ ہوتے“مورخین کا کہنا ہے کہ آ پ قرآن و حدیث فقہ و اجتہاد کے علاوہ علم ہندسہ ، علم ہیئت، ریاضی ، طبیعات، طبقات الارض ، فلکیات ، علم مناظرہ، جغرافیہ، جبرو مقابلہ اور علم طب جیسے دیگر علوم پر دسترس رکھتے تھے ۔فن نعت میں انہیں جو مقام ملا اور ان کے کلام کو جو پذیرائی ملی وہ کسی دوسرے شاعر یامحب رسول ﷺ کا نصیب نہ بن سکی ۔ محبت رسول ﷺ کا موضوع تو ہندوستان کے ہر عالم کا موضوع رہا ہے لیکن ”مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام “ جیسے نعتیہ کلام کی شہرت کسی کو حاصل نہ ہو سکی ۔

یہ اور بات ہے کہ ان کے ماننے والے ان کے مختلف علوم میں مہارت کا تذکرہ تو کرتے ہیں لیکن اپنی حالت یہ ہے کے ریاضی وسائنس کے اس دور میں کھیرا کاٹنے کے طریقے پر تحقیق کر رہے ہیں ۔ احمد رضا بریلوی کے ساتھ المیہ یہ ہے کہ اس وقت انٹرنیٹ پر جتنے بھی ڈھونگی ، جعلی کیسری لباس پہنے ملنگ پیش کئے جائیں گے اور دین کے نام پر جتنی بھی خرافات نظر آئیں گے ان کے ساتھ بریلوی اسلام کا ٹیگ لگا کر شیئر کر دیا جائے گا اور لوگ یقین کر لیں گے ۔ حالانکہ نہ تو کوئی فتاوی رضویہ جیسی زخیم کتاب پڑھنے کی زحمت کرے گا اور نہ ہی کوئی ان کا ماننے والا ایسی وضاحت پیش کرے گا۔ اس سب کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ جبہ و دستار علم و فضیلت کے طنطنے و طمطراق والے دیگر اہل علم اگر اپنی پہچان دیگر مسالک سے کرا کر اپنے علم کے رعب سے لوگوں کو مشرک کا خطاب دیکر دین کا دائرہ مختصر کر رہے ہیں تو ایسے میں سیدھے سادھے بھولے بھالے کم علم والوں کی پہچان اگر بریلوی بنتی ہے تو اس میں بھی یہ کریڈیٹ احمد رضا کو جاتا ہے کہ اپنی سادگی کے باوجودہ بھی یہ لوگ مسلمان ہی رہتے ہیں۔کسی دوسرے ملک سے جذباتی وابستگی نہ ہونے کے وجہ سے یہ سچے پاکستانی ہی رہتے ہیں

دینی علوم میرا موضوع نہیں ہے لیکن میں نے بطور لکھاری آج تک ایسا کوئی کلام نہیں پڑا جس میں ایک ہی نعت میں چار مختلف زبانیں استعمال ہوتی دیکھیں ہوں مقام حیرت ہے کہ چار مختلف زبانیں استعمال کرتے ہوئے بھی احمد رضا خاں بریلوی نے اس میں قافیہ ردیف اور شعر کا وزن کم نہیں ہونے دیا ۔

لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نَظَر مثل تو نہ شد پیدا جانا

جگ راج کو تاج تورے سر سوہے تجھ کو شہ دوسرا جانا

اَلبحرُ عَلاَوالموَجُ طغےٰ من بیکس و طوفاں ہوشربا

منجدہار میں ہوں بگڑی ہے ہواموری نیا پار لگا جانا۔۔۔۔۔۔۔

محمود اصغر چودھری