حضرت مولانا عبد الرحمٰن محبی ایک کثیر الجہات شخصیت کانام ہے ۔ان کے کار نامے مختلف سمتوںمیں پھیلے ہوئے ہیں ، انہوں نے کئی محاذوں پر دین وسنیت کی مثالی خدمات انجام دی ہیں ، لیکن ہم میں سے اکثر لوگوں کو اس کا صحیح اندازہ نہیں ،گائوں والوں نے تو ان کو محض ایک امین اور فارسی داں کی حیثیت سے جانا اور اہل خانوادہ نے ان کو فقط ایک صاحب کشف وکرامت بزرگ کی حیثیت سے روشناس کرایا اور کبھی ان کی علمی اور دینی خدمات کو منظر عام پر لانے کی کوئی ٹھوس اور منظم کوشش نہیں کی ،عملًا دو دمان محبیّٰ نے اس کوشجرممنوعہ ہی سمجھا۔خدا بھلا کرے عزیز گرامی مولوی ریحان رضا انجم کا جو اپنے محدود وسائل کے باوجود حضرت محبی کی دینی وعلمی فتوحات کو اہل علم کے سامنے لانے کے لئے سر گرم عمل ہیں ،مولیٰ تعالیٰ ان کے جذبۂ اخلاص ،غیرت دینی،عشق محبی اور اولوالعزمی کو سلامت رکھے۔آمین

میری نگاہ میں حضرت محبی اپنے عہد (۱۸۵۶ تا ۱۹۳۱ ء)کی ایک بہت ہی متحرک ،فعال اور بیدار مغز شخصیت کا نام ہے ، دین وسنیت کے فروغ و استحکام کے سلسلے میں ان کے دل کے سوز وگداز اور اضطراب والتہاب کا صحیح اندازہ وہی کرسکتا ہے جو واقعی اشاعت دین و سنیت کے سلسلے میں ابتلائو ںسے گزراہو،ہمارے یہاں جماعتی سطح پر اسٹیج کی بڑی اہمیت رہی ہے کیونکہ اس میں مادی منفعت کاسودا بھی بالکل نقد ہوتا ہے ،اس لئے پیشہ ورمقررین نے مصنوعی خطابت کو ہی حاصل حیات اور کلیدی کامیابی سمجھا ،حالانکہ ان کی بے روح خطابت کی اہمیت اس سے کچھ زیادہ نہیں رہی جس کی طرف شاعر مشرق علامہ اقبال نے درج ذیل شعرمیں اشارے کئے ہیں ۔

لبھاتا ہے دل کو کلام خطیب

مگر لذت سوز سے بے نصیب

تقریروں کی عمر محض جلسہ گاہ تک ہوتی ہے ،اس کے بالمقابل تحریری و تصنیفی کارنامے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور اس کے اثرات نسلاً بعد نسل منتقل ہوتے رہتے ہیں بشرطیکہ تحریر جاندار ہو ، لیکن یہ ایک مشکل کام ہے ، ایک اچھا مضمون اور مقالہ لکھنا بچوں کا کام نہیں ،اس کی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آہونے کے لئے غیر معمولی محنت ،وسعتِ مطالعہ پیشہ ورانہ انہماک اور زبان و بیان پر قدرت لازمی شرطیں ہیں جو ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ، حضرت محبی چاہتے تو خطابت کو وسیلۂ معاش بنا سکتے تھے ،مگر قدرت نے ان کو بڑے مقاصد کے لئے پیدا کیا تھا ،اس لئے انہوںنے دنیا حاصل کرنے کے بجائے خدمت دین کو اپنی زندگی کا سب سے اہم نصب العین اور مشن سمجھا ،نیت بخیر تھی اس لئے قدم قدم پر ان کو تائید ربانی حاصل رہی ،چنانچہ دین و سنیت کا جو کام وہ کرگئے وہ آج بھی اک مثال ہے ،حیرت ہوتی ہے کہ ایک ایسے دور میں جب آمدو رفت اور رسل و رسائل کے ذرائع بالکل محدود بلکہ کہیں کہیں مفقودتھے ، حضرت محبی کس طرح عظیم الشان جلسوں کا انتظام و انصرام کرلیتے تھے ،دیکھئے سر زمین پوکھریرا میں ایک تاریخی اجلاس ہورہا ہے ، ابوالمساکین حضرت مولانا ضیاء الدین پیلی بھیتی ’’ توضیح ملل ‘‘ میں اس کی یوں منظوم روداد پیش کر رہے ہیں ۔

محبی نے ہر عالم دیں کو لکھا

کہ پوکھریرے میں دین حق کا جلسہ

اواخر میں وہ ماہِ صفر کے ہوگا

یہاں کا سفر آپ کیجئے گوارا

یہ ہے کا رِ دینی ضرور آئے گا

ہدایت شریعت کی فرمائے گا

غرض یہ کہ تشریف لائے وہ فاضل

نہیں جس کا ہندوستاں میں مماثل

ٹھہرتا نہیں جس کے سائے سے باطل

زیارت سے جن کے ہوں آثام زائل

سنو! ان کے لکھتا ہوں اسمائے سامی

جو تشریف لاکر ہوئے دیں کے حامی

وہ علمائے کرام یہ تھے: حضرت مولانا وصی احمدصاحب محدث سورتی، بہار میں مسلک اعلحضرت کے سب سے بڑے علمبردار حضرت مولانا قاضی عبدالوحید عظیم آبادی ،اعلیحضرت کے معتمد علیہ عالم و خلیفہ حضرت مولانا عبد السلام جبل پوری،حضرت مولانا سید دیدار علی اَلْوری ،حضرت مولانا ہدایت رسول رامپوری حضرت مولانا عبدالعزیز موضع بھونساہی مظفر پور،حضرت مولانا عبدا لاحدابن حضرت محدث سورتی ،حضرت مولانا عین الحق موضع دات پور علی گنج ، سیوان ،حضرت مولانا فیروازآبادی ،حضرت مولاناعبدالصمد آداپور،اور خود حضرت مولانا ضیاء الدین پیلی بھیتی ، وہ اپنی شرکت کے بارے میں فرماتے ہیں ۔

شرف ایسے جلسے کی شرکت کا حاصل

کیا ہے ضیا ء نے بر وجہ کامل

نہیں تاب لکھنے کی اس کے فضائل

نظیر اس کی دنیا میں ملنا ہے مشکل

وہ رحمت برستی تھی رحمن کی اس پر

بیاں اس کا ہے طاقت سے باہر

جلسے کی کامیابی کے تعلق سے مجھے کچھ کہنا نہیں ہے ،بس مندرجہ بالا وارثانِ علم نبوت کے مقدس اسمائے گرامی جلسے کی شاندار کامیابی کی ضمانت ہیں ،اہل سنت کی نژاد نو یہ ریکارڈمحفوظ کر لے کہ یہ جلسہ پنج روزہ تھا اور ماہ صفر ۱۳۲۴ہجری کے اواخر میں ہوا تھا یعنی آج سے تقریبا ایک سو دو سال پہلے ،ان نفوس قدسیہ کے ناموں پراک بار پھر غور کیجئے اور حضرت محبی رحمۃاللہ علیہ کے حسن انتخاب کی داد دیجئے اور ان کی ہمت مردانہ کو آفریں کہئے کہ ان کے حسن تدبر ،عمل پیہم اور جذبۂ اخلاص نے کس طرح ویرانے کو زندگی بخش دی اور صحراکو گلزار بنا دیا ۔

چمن میں پھول کا کھلنا تو کوئی بات نہیں

زہے وہ پھول جو گلشن بنا دے صحرا کو

حضرت محبی گلشن سنیت کے ایک ایسے ہی شگفتہ پھول تھے جس کی خوشبو و خوش رنگی نے دلوں کومسخر کر رکھا تھا ،معتقدین بُعدِ مسافت طے کرکے ان کی صحبت بابرکت میں آکر بیٹھتے اور جب وہاں سے لوٹتے تو اپنی زندگی میں واضح طور پر ایک صالح انقلاب محسوس کرتے ، اقبال نے ایسے ہی مردانِ حق آگاہ کے بارے میں کہا ہے ؎

نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی ارادت ہو تو دیکھ ان کو

ید بیضا لئے بیٹھے ہیں اپنی آ ستینوں میں

اس طرح حضرت محبی کے فیضان نظر اور مکتب کی کرامت کاایک زمانہ ہوگیا اور جب آپ نے ’’نورالہدیٰ‘‘کے نام سے ایک مدرسہ قائم کیا تو پورے علاقۂ ترہت ہی نہیں پورے شمالی بہار اور بنگال میں اس کی دھوم مچ گئی ،دور دراز علاقوں سے تشنگان علوم جوق در جوق آنے لگے اور بتدریج پورے علاقۂ ترہت میں ایسا ماحول بن گیا کہ۔۔۔۔

کان جدھر لگائیے تیری ہی داستان ہے

مدرسہ کے علاوہ آپ نے دین وسنیت کی اشاعت کی غرض سے ایک انجمن کی بھی بنیاد ڈالی جس کا نام’’انجمن نور اسلام پوکھریرا‘‘ رکھا یہ کثیر المقاصد انجمن تھی ،اس کو بروئے کار لانے کے لئے ایک نونکاتی پروگرام مرتب کیا گیا تھا ،اس کی میں صرف تیسری دفعہ یا شق کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں ،ملاحظہ فرمائیے’’نامی واعظین اور خود ناظم انجمن کا گشت کرکے ہدایت کرنا۔‘‘بظاہر یہ ایک سطری عبارت ہے ،مگر اس میں کس قدرگہرائی،تہہ داری اور دور اندیشی اور دور بینی مضمر ہے ،حضرت محبی کی فراست ایمانی کی جس قدر تعریف کیجئے کم ہے ،اسی مقام پر اتقوابفراسۃ المومن فانہ ینظر بنور اللہ کا دلکش نظارہ ہوتا ہے ،آج دیوبندیوں کی تبلیغی جماعت کلمہ ونمازکے نام پر جو تحریک چلا رہی ہے ،اس کاخیال شاید سب سے پہلے حضرت محبی کے ذہن رساں میں آیا تھا ،آپ لفظ’’گشت ‘‘ پر غور فرمائیں اور آج کے گشت کے تناظر میں دیکھئے تو اس کی معنویت اجاگر ہوجائے گی ،کاش حضرت محبی کے اس قیمتی مشورہ کو عملی طور پر اپنا لیا گیاہوتاتوآج ہر چہار جانب سنیت کا ہی بول بالا ہوتا مگر افسوس!ہماری جماعت تساہل پسندی اور تن آسانی اور تن پروری نے حضرت محبی کے اس خواب کو شرمندئہ تعبیر نہیں ہونے دیا ،مگر وہ بندئہ حق بین وحق اندیش تو’’نیۃ المومن خیر من عملہ‘‘کا اجر وانعام پانے میں صد فیصدکامیاب رہا ۔

اب ہم ذیل میں محبی کی اہم تصنیفات وتالیفات کا مختصرا جائزہ لے رہے ہیں جس سے ان کی عالمانہ حیثیت ،فقہی بصیرت اور تبلیغی سر گرمیوں کا اندازہ ہوگا ۔

(۱) تعلیم تفسیر محبی:۔جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ،اس کاموضوع علم تفسیر ہے ،انہوں نے اپنے صاحب زادے حضرت مولانا ولی الرحمٰن کی تعلیم و تدریس کی غرض سے اس کو تحریر فرمایا تھا ،یہ تفسیر سب سے پہلے تحفۂ حنفیہ پٹنہ میں بالاقساط شائع ہوئی ،میرے پیش نظر تحفۂ حنفیہ محرم الحرام ۱۳۱۹؁ھ کی عکسی کاپی موجود ہے ،اس سے ایک مختصر اقتباس نقل کیا جا رہاہے جس سے علم تفسیر میں حضرت محبی کے علم کی گہرائی ،وسعت نظر اور نکتہ رسی کااندازہ ہوگا ،وہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی تفسیر لکھتے ہوئے رقم طراز ہیں :

’’اور آدمی کی تین حالتیں ہیں :دنیا ،قبر، آخرت ۔اللہ کہنے والا دنیا میں ،رحمٰن کہنے والا قبر میں ،رحیم کہنے والاآخرت میں شاداں و فرحاں رہے گا اور علمائے دین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے تین ہزار نام ہیں ،منجملہ اس کے ہزار نام فرشتے جانتے ہیں اور ہزار نام دوسرے پیغمبران جانتے ہیں اور تین سو توریت میں اور تین سو زبور میں اور تین سو انجیل میں اور نناوے نام قرآن مجید میں اور ایک نام ہے جس کو اللہ آپ ہی جانتا ہے اور ان تین ہزار ناموں کی باز گشت انہیں تینوں ناموں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم میں ہے ،اس کا پڑھنے والا گویا اللہ تعالیٰ کے تین ہزار نام پڑھتا ہے ۔‘‘

’’قیاس کن زگلستان من بہار مرا‘‘کے مصداق نمونہ دیکھ کرخرمن کا اندازہ کیا جاسکتا ہے،کاش اس تفسیر کو کوئی نئی ترتیب و تہذیب کے ساتھ منظر عام پر لانے کی کوئی صورت ہوجائے تو محبی شناسی کی راہیں مزید آسان واستوارہوں ۔

(۲)نورالہدیٰ فی ترجمۃ المجتبیٰ:

یہ کتاب سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ کی سیرت وشخصیت کے موضوع پر ہے،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حضرت محبی کے زمانے میں وہابیت اور غیر مقلدیت کا فتنہ بہت ہولناک شکل اختیار کرچکا تھا اور پوری سنی آبادی اس سے متاثر ہورہی تھی ،صورت حال کی سنگینی کی انتہا یہ کہ امام اعظم کی ذات والا صفات پر چومکھی حملے ہورہے تھے کوئی ان کی حدیث دانی پر معترض ہوتا تو کوئی ان کے علم وتفقہ پر طعنہ زنی کرتا تو کوئی ان کی خدا داد عظمت کا منکر نظر آتا ۔ حضرت محبی جیسا شیدائے امام اعظم اور کٹر حنفی المسلک بھلاکب ان مزخرفات کو برداشت کرسکتا تھا ،وہ اس فتنے کی سر کوبی کے لئے پوری عزیمت کے ساتھ میدان عمل میں کود پڑے اور مندرجہ بالا سارے اعتراضات کا جواب شافی دینے کے لئے مندرجہ بالا کتاب لکھ ڈالی۔ اس میں انہوں نے سیدنا امام اعظم مجموعۂ کمالات شخصیت،ان کے فضائل ومناقب ،علم حدیث میں ان کے د رک و استحضار،ان کے غیر معمولی تفقہ ،طباعی،حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کی ملاقات، اخذروایات اور کئی تابعین کرام سے ان کی ملاقات اور ان سے استفادے کے موضوع پر دریا بہادیئے ہیں دُربے بہادیئے ہیں۔ یہ کتاب بھی اپنی اہمیت کے پیش نظر نئی آب وتاب کے ساتھ شائع کئے جانے کی متقاضی ہے ۔

(۳)تمسک اقویٰ با حادیث نبی الانبیاء:

یہ کتاب بھی امام اعظم کے مسلک ومذہب کی حمایت میں لکھی گئی ہے ،اس میں قرأت خلف الامام ،رفع یدین اور آمین بالجہر کے جائز اور مستحسن کہنے والوں کا رد بلیغ کیا گیا ہے ،اس کا تعارف خود حضرت محبی کے قلم سے ملاحظہ ہو۔

’’اس رسالۂ نافعہ میں احادیث صحاح ستہ وغیرہ سے یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچایا گیا ہے کہ سوائے تکبیر تحریمہ کے اور کسی رفع و خفض میں ہاتھ نہ اٹھائے جائیں اور سورئہ فاتحہ امام کے پیچھے نہ پڑھی جائے ،بحمد اللہ تعالیٰ اس مختصر مضمون نے وہابیہ کی لن ترانیوں ،شور وغوغا ،اچھل کود کو بالکل نیست ونابود کیا ‘‘۔

اس کتاب کے آخر میں اس کی دوسری جلد کا بھی اعلان ملتا ہے جس میں آمین بالسر اور ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے اور کہنیوں تک تیمم کرنے کے جواز سے مدلل بحث کی گئی ہے۔

(۴)الجواب المستحسن فی رد ھفوات المرتضی حسن:

۔جیساکہ نام سے ظاہر ہے اس میں مدرسہ امدادیہ کے دیوبند المسلک مولوی مرتضیٰ حسن کا رد کیا گیا ہے ،پس منظر یہ ہیکہ سیدی اعلیحضرت امام اہل سنت حضرت شاہ احمد رضا خاں بریلوی نے علمائے دیوبند کے عقیدئہ امکان کذب باری تعالیٰ کے رد میں ایک کتاب مستطاب ’’سبحن السبوح‘‘کے نام سے تصنیف فرمائی تھی جس میں قرآن وحدیث کے نصوص اور اقوال علماوائمہ سے اس باطل عقیدے کی پر زور تردید کی گئی تھی اور اس کے قائلین کے خلاف کفر کا فتویٰ بھی صادر کیا گیا تھا ،اس پر دنیائے دیوبند میں کہرام برپا ہوگیا ،علاقۂ ترہت میں اس کا کچھ زیادہ ہی رد عمل ہوا، چنانچہ مولوی مرتضیٰ حسن در بھنگی نے بھی اپنے اکابر اساتذہ کی حمایت میں اوقات سے زیادہ تیزی دکھانے کی سعی ناکام کی اور اعلیحضرت کے خلاف زبان طعن دراز کرنا شروع کیا اور طرح طرح کے بے ہودہ اعتراضات پر مشتمل اپنے مضامین انہوں نے رسالہ ’’انجم‘‘لکھنؤ کے کئی شماروں میں شائع کرائے ۔جب حضرت محبی کو اس کاعلم ہوا تو فورا ًاعلیحضرت کے دفاع اور مرتضیٰ حسن کی مذمت میں قلم کی تلوار لے کر مورچہ بند ہوگئے،جس کے نتیجہ میں زیر بحث کتاب منظر عام پر آئی ۔

(۵)انفع الشواھد لمن یخرج الوھابیین عن المساجد:۔

اس کتاب کاموضوع یہ ہے کہ اس دور کے غیر مقلدین تقلید کو حرام قرار دینے کی وجہ سے دین سے خارج ہیں ،ان کے پیچھے نماز پڑھنا ، ان کے ساتھ محبت سے پیش آنا، ان کے یہاں شادی بیاہ کرنا، بالکل ناجائز وحرام ہے اور جب ان کا ایمان ہی سلامت نہیں رہا تو مساجد میں ان کے داخلے کا سوال ہی کہا ںپیدا ہوتا ہے ،لہٰذا ایسے بے دینوں سے مسجد کی تطہیر ضروری ہے ۔

(۶)الحبل القوی لھدایۃ الغوی المعروف اثبات تقلید شرعی:۔

یہ کتاب بھی غیر مقلدین کے رد میں لکھی گئی ہے ،اس میں تقلید کی اہمیت وافادیت کے موضوع پر قرآن وحدیث کے حوالے سے طویل گفتگو کی گئی ہے اور تقلید ائمہ کو لازم قرار دیا گیا ہے ،حضرت محبی نے قوی دلائل کے ساتھ منکرین تقلید کے مسلک و موقف کا ضعف ثابت کرکے مسلک حق آشکارا کردیا ہے ،اس کتاب کو حال ہی میں عزیزی ریحان رضا انجم نے نئی ترتیب و حواشی کے ساتھ شائع کرکے بڑا مستحسن کا م کیا ہے ،اس لئے اس کے تعلق سے میں زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا ۔

ان کتابوں کے علاوہ حضرت محبی نے مختلف موضوعات پر چھوٹے بڑے رسائل تحریر فرمائے ہیں جن کی تفصیل مولوی ریحان رضا انجم نے اپنی کتاب ’’سرکار محبی کا گوشۂ حیات ‘‘ میں دے دی ہے، اس لئے میں ان کے تذکرے سے بھی صرف نظر کرتے ہوئے حضرت محبی کے ایک اور اہم کارنامے کی طرف نشاندہی کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ آپ نے فارسی میں قرآن پاک کا ترجمہ کیاہے جو بعض نا گریز اسباب کی بنا پر کتابی صورت میں نہ آسکا اور مولوی ریحان رضا کی اطلاع کے مطابق ’’ اس ترجمۂ قرآن کا قلمی نسخہ آج بھی الماری کی زینت بن کر رکھا ہے ۔

یہ کتنے پارے کی ہے اس کی وضاحت کہیں نہیں ملتی ،لیکن بہر حال یہ ثابت ہو ہی گیا کہ حضرت محبی کو زبان فارسی پر اتنا عبور تھا کہ وہ قرآن پاک کا ترجمہ اسی زبان میں بلاتکلف کرسکتے تھے ،اس طرح یہ کہنے میں کوئی مضائقہ اور مبالغہ نہیں کہ حضرت محبی ایک عالم ربانی تھے اور مختلف علو م و فنون پر ان کی گہری نظر تھی ،یہ دیکھتے ہوئے کہ انہوں نے کسی بڑی دینی درسگاہ میں اور اپنے والد کے علاو ہ کسی اور نامور استا دکے سامنے زانوئے تلمذ تہہ نہیں کیا تھا ، ان کے علم کو سوائے عطائے ربانی کے اور کیا نام دیا جائے،اس لئے حضرت محبی کی عالمانہ اور عارفانہ شخصیت کوثابت کرنے کے لئے ان کے کسی کشف و کرامت کا سہارا لینے کی کوئی ضرورت نہیں ،ان کا خدا داد علم و فضل ہی ان کواکابرین امت اور مصلحین ملت کی صف میں لاکھڑا کرنے کے لئے کافی ہے ۔

مری مشاطگی کی کیا ضرورت حسن معنیٰ کو

کہ قدرت خودبخود کرتی ہے لالہ کی حنا بندی

مولیٰ تعالیٰ ان کی دینی خدمات کو قبول فرمائے اور انکے فیوض و برکات کاسلسلہ دراز فرمائے ۔آمین

حضرت محبی کی تابناک زندگی کاایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ ایک قادر الکلام شاعر بھی تھے اور اپنے جذبات و محسوسات کابے تکلف اظہار شعری زبان میں کرسکتے تھے ،اس کے ثبوت میں ان کی شاعری کے دو نمونے ملتے ہیںایک کانام ’’ دیور بھاؤ ج ‘‘ ہے جس میں غیر محرموں سے پردہ کرنے کے موضوع پر کتاب و سنت کی روشنی میں بحث کی گئی ہے اور دوسرا ایک بارہ ماسہ ہے ،اس میں بارہ مہینوں کی رعایت سے عارفانہ مضامین قلمبند کئے گئے ہیں،میری نگاہ میں یہ دونوں مجموعے بجائے خودتفصیلی مطالعے اور تجزئے کے مستحق ہیں اس لئے اس موضوع پرپھر کبھی بتوفیق الٰہی ۔

حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب محبّی نے امام احمد رضا کو اپنے وطن پوکھریرا، ضلع مظفر پور آنے کی دعوت دی ـ آپ کثرت مشاغل اور دینی مصروفیات کی وجہ سے پوکھریرا نہ جا سکے مگر خلف اکبر مولانا حامد رضا صاحب کو اپنی نیابت میں پوکھریرا روانہ فرما دیا اور گرامی نامہ میں تحریر کیا،

“اگرچہ میں اپنی دینی مصروفیات کی بناء پر حاضری سے معذور ہوں مگر حامد رضا کو بھیج رہا ہوں، یہ میرے قائم مقام ہیں، ان کو حامد رضا نہیں احمد رضا ہی سمجھا جائے ـ”

گرامی نامہ کے ساتھ اپنا ایک قیمتی جبہ بھی حضرت محبی کی نذر بھیجا ـ

تذکرہ جمیل، صفحہ 122.

Hazrat Maulana Abdur Rahman Sahab Muhibba Ne Imam Ahmed Raza Ko Apne Watan Pukhraira, Zila Muzaffarpur, Bihar Aane Ki Da’wat Di. Aap Kasrat E Mashaghil Aur Deeni Masroofiyat Ki Wajah Se Pukhraira Na Ja Sake Magar Khalf E Akbar Maulana Hamid Raza Sahab Ko Apni Niyabat Mein Pukhraira Rawana Farma Diya Aur Giraami Naama Mein Tehreer Kiya,

“Agarche Main Apni Deeni Masroofiyat Ki Bina Par Haziri Se Ma’zoor Hoon Magar Hamid Raza Ko Bhej Raha Hoon, Yeh Mere Qaa’im Maqaam Hain, In Ko Hamid Raza Nahin Ahmed Raza Hi Samjha Jaye.”

Giraami Naami Ke Saath Apna Ek Qeemati Jubba Bhi Hazrat Muhibba Ki Nazar Bheja

Image may contain: text