أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَمۡحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرۡبِى الصَّدَقٰتِ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيۡمٍ

ترجمہ:

اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے ‘ اور اللہ کسی ناشکرے گنہگار کو پسند نہیں کرتا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے ‘ اور اللہ کسی ناشکرے گنہ گار کو پسند نہیں کرتا ، A بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور نماز قائم رکھی اور زکوۃ دیتے رہے ‘ ان کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہے نہ وہ غمگین ہوں گے۔۔ (البقرہ : ٧٧۔ ٢٧٦)

سود کا کم ہونا اور صدقہ کا بڑھنا :

سود کے مال میں برکت نہیں رہتی اور جس مال میں سود کا مال شامل ہوتا ہے وہ مال بھی ضائع ہوجاتا ہے۔

حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام احمد ‘ امام ابن ماجہ ‘ امام ابن جریر ‘ امام احاکم تصحیح سند کے ساتھ اور امام بیہقی ” شعب الایمان “ میں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سود اگرچہ بہت زیادہ ہو لیکن اس کا انجام مال کی کمی ہے امام ابن المنذر نے اس آیت کی تفسیر میں ضحاک سے نقل کیا کہ دنیا میں سود کی آمدنی بہت زیادہ ہوجاتی ہے لیکن آخرت میں اللہ تعالیٰ اس کو مٹا دیتا ہے۔

امام طبرانی نے حضرت ابو برزہ اسلمی (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بندہ روٹی کے ایک ٹکڑے کو صدقہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو بڑھا کر پہاڑ جتنا کردیتا ہے۔ (معجم کبیر ج ١ ص ‘ ٣٦٦۔ ٣٦٥ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 276