فقہی مذاہب کا اختلاف رحمت ہے

ڈاکٹر مجیب الرحمان علیمی

فقیر نے ایک سفرمیں مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا سے عرض کی کہ بعض لوگوں کاخیال ہے کہ زیادہ تر اولیا مذہبا ًشافعی ہوئے ہیں ، اس طرح کی باتیں حضرت خواجہ ابو سعید ابو الخیر میہنی قدس سرہ کے حوالے سے اسرار التوحید فی مقامات ابی سعید ـــ معروف بہ مقامات خواجہ میں بھی ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ مذہب شافعی میں عزیمت زیادہ ہے اور رجال اللہ کوعزیمت پرعمل کرنازیادہ پسند ہے۔

داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا نے فرمایا:ممکن ہے کہ خواجہ ابو سعید ابو الخیر قدس سرہ کے علاقے میں اس وقت ایساہی رہاہو،کہ زیادہ تراولیا شوافع رہے ہوں ورنہ جہاں تک رخصت وعزیمت کی بات ہے تویہ ہرمذہب میں موجود ہے – کیاجمع بین الصلاتین رخصت نہیں ہے جو شوافع کا مذہب ہے؟ جب کہ احناف کا مذہب اس معاملے میں عزیمت پر ہے؟ صحیح بات یہ ہے کہ ہرمذہب میں رخصت اورعزیمت کی مثالیں موجود ہیں ۔

انصاف کی بات تویہ ہے کہ ان مذاہب(حنفی ،شافعی،مالکی،حنبلی)کا آپس میں کوئی اختلاف ہی نہیں ہے،جواختلاف نظر آتا ہے وہ توسع ہے، جوامت کے حق میں رحمت ہے- اسی لیے علما نے فرمایاہے کہ :اگرکسی خاص مسئلے میں کسی خاص مذہب پرعمل کرنادشوارہوتودوسرے مذہب کی طرف رجوع کیاجاسکتاہے،بلکہ میراخیال ہے کہ کرناچاہیے-جدید دور میں طویل ملکی و غیر ملکی اسفار کے دوران بطور خاص ہوائی سفر میں ایسی صورتیں پیش آتی ہیں کہ جمع بین الصلاتین پر عمل کر لیا جائے یا امام اعظم کے قول ثانی اورامام ابو یوسف، امام محمداور امام شافعی کے مذہب پر عمل کرتے ہوئے مثل ثانی میں عصرادا کرلی جائے تو ترک نماز سے بچا جاسکتا ہے ۔ ایسی صورتوں میں کیا نماز ترک کرنے سے بہتر نہیں ہے کہ مذہب شافعی پرعمل کرتے ہوئے عصر وظہر کوجمع کرلیا جائے؟ یا کم از کم امام اعظم کے قول ثانی اورامام ابو یوسف، امام محمداور امام شافعی کے مذہب پر عمل کرتے ہوئے مثل ثانی ہی میں عصر اداکرلی جائے؟ ضرورت و حاجت کے وقت دوسرے امام کے قول پر عمل کرنے کی ائمہ نے تو اجازت دی ہے،لیکن کیاترک نمازبھی کسی امام کا مذہب ہے؟ ایک طرف تم یہ کہتے ہوکہ چاروں مذاہب اوران کے ائمہ برحق ہیں اوردوسری طرف کسی مسئلے میں بصورت مجبوری یاامت کی اجتماعیت کوباقی رکھنے کے لیے بھی ان چاروں میں سے کسی ایک کے علاوہ کی پیروی درست نہیں جانتے؟ اگر تم حنفی ہوتوبتائوکہ ان تینوں فقہی مذاہب ؛حنبلی ،مالکی اور شافعی کے پیروکاروں میں کوئی اللہ کاولی ہے یانہیں؟اگرہے توبتائوکہ کسی ولی کی اقتدامیں نما زہوگی یانہیں؟

افسوس کہ ایک حنفی نماز توچھوڑسکتاہے مگر کسی شافعی یا حنبلی کی اقتدانہیں کرسکتا! تعجب ہے کہ تم اپنے اصول کا دوسروں کوپابندبناتے ہو،جب کہ ان کے پاس بھی قرآن و سنت سے مستنبط اصول موجود ہیں، جن کوتم بھی برحق کہتے ہو۔بتائو کیاتم تضاد بیانی کے شکارنہیں ہو؟زبان سے برحق مانتے ہو اور دل سے باطل قراردیتے ہو ،قولاحق گردانتے ہواورفعلااس کابطلان کرتے ہو۔ کیا یہ نفاق خفی نہیں ہے؟

فقہی اصولوں کے اختلاف کونہ سمجھنے کی وجہ سے ایک شافعی ،حنفی کی اقتدا میں اورایک حنفی، شافعی کی اقتدا میں نمازادانہیں کرتا ،خواہ امام اپنے زمانے کامتقی ،صالح اورولی اللہ ہی کیوں نہ ہو؟ بتائو کہ اگرایک حنفی یاشافعی کو غوث اعظم کی اقتدامیں نماز اداکرنے کاموقع میسرآئے توکیاکرے گا؟ ان کی اقتدامیں نمازاداکرنے کواپنی سعادت مندی جانے گایا یہ کہے گاکہ آپ کی غوثیت قبول مگرمیں حنفی یا شافعی ہوں اورآپ مذہباحنبلی ہیں ،اس لیے آپ کی اقتدامیں میری نماز نہ ہوگی؟

 اس طرح کا سوال ہی کیوں پیدا ہوا کہ چاروں فقہی مذاہب میں سے کسی کے پیرو کار کی نماز دوسرے کی اقتدا میں ہوگی یا نہیں ؟ یہ باطن کا فساد ہے ۔ورنہ چاروں مذاہب اہل حق کے ہیں اور ان کی بنیاد بھی قرآن وسنت ہے تو پھر نماز کیوں نہیں ہوگی؟ افسوس ہے ایسے علم اورصاحبان علم پر جنہوں نے رحمت کوزحمت بنادیاہے، نعمت کوعذاب قراردے دیاہے اور متقی وصالح انسانوں پر فاسق ساحکم عائد کردیاہے۔

اللہ کے رسولﷺنے فرمایا:اختلاف امتی رحمۃ۔حقیقت میں ان ائمۂ مجتہدین کااختلاف ہی وہ اختلاف ہے جو امت مسلمہ کے لیے باعث رحمت ہے،ورنہ بتائوکہ امت سے کیا مراد ہے ؟ا مت کی تین قسمیں ہیں:

پہلی:

امت دعوت، جس میں بلاتفریق مذہب وملت تمام انسان شامل ہیں- کیاان کاآپس میں اختلاف رحمت ہے؟نہیں،ہرگزنہیں!کفرواسلام،شرک اورتوحید کے اختلاف کو رحمت کیسے کہاجاسکتاہے؟

دوسری :

امت اجابت، جس میں تمام اہل اسلام جواللہ اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرایمان رکھتے ہیں، شامل ہیں،اگران کے اختلاف کورحمت تسلیم کیاجائے تویہ بھی فہم سے دورکی بات ہے،کیوں کہ ان کے درمیان بھی جواختلاف ہے وہ سنت وبدعت یاہدایت وضلالت بلکہ بعض وقت کفرو اسلام کابھی اختلاف ہوتاہے توکیاان مذکورہ اختلافات کورحمت یارحمت کاسبب قراردیاجائے گا؟ہرگزنہیں!

امت کی تیسری قسم:

امت ہدایت ہے۔ یہ اہل حق کی جماعت ہے جس میں ہروہ شخص شامل ہوگاجس کے فکروعمل کی بنیاد قرآن وسنت ہوگی-صحابۂ کرام،شہدا وصالحین اورصادقین کی جماعت ہویاصوفیہ،متکلمین ، محدثین اورائمہ مجتہدین کی، ان میں سے کسی نے اگرکسی مسئلے میں الگ اپنی رائے قائم کی تویہ اختلاف عامۃالمسلمین کے لیے رحمت یارحمت کاسبب قراردیاجائے گا۔

فقہی مسائل میں ائمہ اربعہ یاائمہ ثمانیہ بلکہ ائمہ عشرہ کاجواختلاف ہواوہ اسی قبیل سے ہے،ان میں سے کسی کی رائے نہ مردودقراردی جائے گی اورنہ کسی کی تفسیق، تجہیل ا ور تضلیل کی جائے گی۔ ان میں سے کسی کا کوئی پیروکار دوسرے پرطعن کاحق نہیں رکھتا۔طعن کرنے والااوران ائمہ میں سے کسی ایک کوقولاً یا عملاًباطل قراردینے والا، مخلص ومتقی ہوہی نہیں سکتا،وہ گمراہ ومتعصب ہوگا۔

چاروں مذاہب اوران کے ائمہ برحق ہیں، قابل احترام ہیں،جس شخص کاجس مذہب سے انشراح قلب ہو وہ اس کی تقلیدکرے،ایک وقت میں کسی ایک ہی امام کی تقلید کرے،ایسانہ ہوکہ ایک ساتھ چاروں مذاہب پرعمل شروع کردے اورجس مسئلے میں جہاں آسانی نظرآئے اس کواپنامذہب بنالے،یہ طبیعت و خواہش کی پیروی ہوگی-ہاں اگرکسی مسئلے میں ایک خاص مذہب پر عمل کرنے میں واقعی کوئی حرج ہو اوردوسرے مذہب میں اس مسئلے کابہترحل موجودہوتوعلما ئے راسخین دوسرے مذہب کواختیارکرسکتے ہیں اورعامۃ الناس کو اس پر عمل کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔اس کی مثال اس زمانے میں اس عورت کامسئلہ ہےجس کاشوہر غائب ہو،حنفی علما نے اس مسئلے میں مذہب مالکی پرعمل کرتے ہوئے عورت کے لیے شوہر کا لمبا انتظارکیے بغیرچار سال کے انتظار کے بعد دوسری شادی کے جواز کافتوی دیاہے۔