فیصلے کی کمزوریاں اور مغالطے

آج کا فیصلہ پڑھ کر متعدد نئی چیزوں کا انکشاف ہوا

1۔یہ نیا قانون وضع کیا گیا ہے کہ اگر 5 دن بعد ایف آئی آر کاٹی جائے تو شک پیدا ہو جاتا ہے. حالانکہ منصف اس بات کو جانتا ہے کہ ملک کے موجودہ قانون کے مطابق کسی بھی معاملے میں ایف آئی آر کا اندراج کتنا مشکل ہے. تو پھر اتنے حساس معاملے میں اندراج میں 5 دن کی تاخیر سے شک کیسے پیدا ہوگیا؟ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ ایف آئی آر بیس بیس سال بعد کٹی، ان کی سماعت بھی ہوئی اور سزائیں بھی سنائی گئی. حالیہ سب سے بڑی مثال سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ہے. اس کی ایف آئی آر بھی تاخیر سے کاٹی تو اب کیا اس نئے فلسفہ کی بنیاد پر 14 شہداء کو انصاف نہیں ملے گا؟

2۔ کیا اب نیا معیار وضع کیا جا رہا ہے کہ گواہی کیلئے گواہ کا خواندہ یا نیم خواندہ ہونا بھی دیکھا جائے گا؟

3۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق توہین آمیز کلمات پر گرفت اس وقت ہوگی جب ملزم بیٹھے بیٹھائے کلمات بولنا شروع کر دے اگر کسی مسلمان سے ذاتی جھگڑا ہو اور پھر وہ ایسے ناپاک کلمات بولے تو اس کی گواہی کو اس لئے مشکوک کہا جاتا ہے کہ گواہ کا اس سے جھگڑا ہوا تھا

لیکن منصف کو کون سمجھائے کہ گواہ کا مسیح کے ہاتھ سے پانی نہ پینا ملزم کو اکسانے کا سبب ہے یا نہیں اور جھگڑے کی بنیاد ذاتی لڑائی تو تھی نہیں کہ ملزم کا ایوب مسیح کی طرح کوئی پلاٹ کے لین دین کا معاملہ ہوگا بلکہ جھگڑے کی بنیاد مذھب ہی تھا۔

4۔ کھیت کا مالک ادریس کورٹ کے حکم پر گواہی دینے آئے تو اس کا بیان لے بھی لیا تو اب یہ کہ کر مشکوک بنایا جا رہا ہے کہ وہ خود کیوں نہیں آیا؟ کمال ہے جی یہ بھی گواہ کی اہلیت کا نیا پیمانہ ایجاد ہوا ہے. اگر انصاف کرنا مقصود تھا تو یہ گواہان کو خود بلاکر تصدیق کر لیتے.

5۔ لکھا گیا کہ وقوعہ کے وقت 25 سے 30 خواتین موجود تھیں تو وہ بیان دینے کیوں نہیں آئی

منصف کو کون سمجھائے کہ کیا ان عورتوں کا یہ بیان آیا ہے کہ ہمارے سامنے وقوعہ نہیں ہوا ؟

ہرگز ایسا نہیں ہوا بلکہ ملزمہ کے اقرار کے باعث اس کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی نہ جانے الٹا کیوں سوچتا ہے

6۔ لکھا گیا کہ ایک تیسری عورت یاسمین بی بی جو بطور گواہ فہرست میں تھی لیکن اس کو کٹہرے میں نہیں بلایا گیا ۔اس لئے یہ سب استغاثہ کی کہانی میں شک کو جنم دینا ہے۔

بڑی حیرانی ہوئی جناب کسی گواہ کو آپ کے کورٹ کا حج کٹہرے میں بلوا کر بیان نہ لکھے تو اس سے استغاثہ نے شک کیسے پیدا کر دیا

7۔ ملزمہ نے بیان دیتے ہوئے جو یہ کہا میں تو مسلمان ہی نہیں دین اسلام کو جانتی ہی نہیں تو میں توہین آمیز باتیں کیسے کر سکتی ہوں لیکن منصف نے یہاں تو کوئی جرح نہیں کی کہ مسلمانوں کے ملک میں رینے والا دو چار باتیں تو جانتا ہی ہے جبکہ گستاخ نے 40 سال اسی جگہ گزارے اور گالی دینے کے لئے دین کی تعلیمات کب جاننا ضروری ہے ؟ منصف نے ملزمہ پر تو جرح نہیں کی

8۔اکیسویں صدی کا ایک عجوبہ یہ پڑھنے کو ملا جیساکہ اردو فیصلے کے صفحہ 22 پر لکھا ہوا ہے کہ مدعی اور گواہوں میں مفادات کا رشتہ تھا لھذا مدعی نے جن عورتوں کو گواہی کے لئے پیش کیا ان کی گواہی مشکوک ہو جاتی ہے

اور وہ مفاد کا رشتہ یہ تھا کہ گواہ یعنی دو خواتین مدعی یعنی قاری صاحب کی بیوی کے پاس قرآن پڑھتی ہیں

کتنا بڑا مفادات کا تعلق ثابت کیا گیا ہے نا!! کمال ہو گیا ہے۔

9۔ سابقہ فیصلوں کو غلط ثابت کرنے کے لئے یہ ضروری تھا کہ شک ثابت کیا جائے لھذا ایک گواہ ادریس کے متعلق لکھا گیا کہ کہ اس کا مذکورہ بالا خواتین یعنی گواہوں سے قریبی تعلق ہے لھذا وہ اپنا مفاد رکھتا ہے۔

کیا تعلق رکھتا ہے ؟ اور کیا مفاد ہے ؟ یہ نہیں لکھا گیا ۔

حالانکہ ملزمہ سمیت ساری ہی خواتین ادریس کے کھیت میں دیہاڑی ہر کام کرتی تھیں ادریس سے ان کا مفاد ہےیہ تو کہا جا سکتا ہے لیکن ادریس کو ان سے کیا مفاد ہو سکتا ہے ؟ یہ بات سوچنے کی ہے اس کے لئے تو ملزمہ و گواہ سب سے ایک جیسا ہی تعلق تھا۔

10۔ پیرا گراف 30 میں معافیہ بی بی اور اسماء بی بی جو کہ ملزمہ کے خلاف گواہ بنی ہیں ان کے بیان کے سقم یعنی کمزوریاں بیان کی گئی ہیں اور مدعی قاری سلام کے بیان کی کمزوریاں بیان کی گئی ہیں

ان کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ضابطہ فوجداری کے تحت اولا بیان دیا اور جب جرح کے درمیان بیان دیا تو کچھ باتیں ایسی بھی ہیں جو پہلے نہیں بتائی تھیں ۔

جناب۔

ایسا تو ہر شخص کے ساتھ ہوتا ہے جب کہ کسی ایک ہی وقوعہ پر آپ بات کریں تو نئی سے نئی چیز ذہن میں تازہ ہوتی رہتی ہے اس کو یہ تھوڑی کہا جائے گا کہ گواہ نے انحراف کیا پرانے بیان سے

مثلا لکھا گیا کہ

معافیہ نے بتایا کہ عوامی اجتماع یعنی پنچائیت میں 1000 سے زائد لوگ تھے یہ بات پہلے نہیں بتائی گئی لھذا گواہ نے بیان سے انحراف کیا جناب اصل بات پر تو گواہ قائم رہے مزید کچھ تفصیل کا اضافہ کیا ہے تو یہ انحراف کیسے ہو سکتا ہے ؟

قاری سلام کے بیان کا تضاد یہ لکھا گیا کہ اس نے پہلے بیان دیا تھا کہ دونوں خواتین جب بیان دینے آئیں تو وہ گاوں میں موجود تھا اور افضل اور مختار کے سامنے انہوں نے وقوعہ بیان کیا

فیصلہ میں لکھا گیا کہ قاری سلام نے اس سے پہلے بیان دیا تھا کہ دونوں عورتوں نے اس کو اور گاوں کے دوسرے لوگوں کو اطلاع دی

کمال ہے جناب اس دونوں بیانات میں کسی قسم کا کوئی تضاد یا تعارض یا انحراف کہاں سے ثابت ہو جاتا ہے

سمجھ سے باہر ہے

11۔پیراگراف 33 میں ایک بہت بڑا شک بیان کیا گیا اتنا بڑا کہ جس کی کوئی مثال ہی نہیں ملتی

ایسے شک بیان کرنے پر تو بہت بڑا انعام ملنا چاہیے

یہ لکھا گیا کہ پانچ مرلے کے مکان میں عوامی اجتماع یعنی پنچائیت منعقد ہوئی اور ایک گواہ نے کہا کہ اس میں 100 افراد تھے دوسرے نے کہا کہ اس میں 1000 افراد تھے تو تیسرے نے کہا کہ اس میں 200 سے 250 افراد تھے

لھذا بیانات میں تضاد ہے

یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ اس مکان میں پنچائیت ہوئی ملزمہ نے اقراری بیان دیا اس بات سے

نہ ملزمہ کو انکار ہے

نہ حج کو

اسی لئے فیصلہ میں لکھا گیا کہ چونکہ اقرار عوامی اجتماع ہوا تھا لھذا اس بیان کو آزادانہ نہیں کہا جا سکتا تو اس مکان میں جمع ہونے کا قائل بڈھا بھی ہے۔

یہاں منصف میاں سے ایک سوال تو یہ ہے کہ جب پنچائیت وقوع پذیر ہوئی اور اس کا اقرار سب کو ہے اس کے وقوع میں کسی کو اختلاف نہیں

تو آپ چاہ کیا رہے ہیں؟

گواہی دینے والے کوئی انجینئر تو ہیں نہیں کہ بغیر گنتی کیے لوگوں کی درست تعداد اندازے سے بتا سکتے ہیں جب وقوعہ کا ہونا ثابت شدہ امر ہے تو کھینچ تان کر اس سے متعلق بیانات میں تشکیک پیدا کرنا اس کی کیا ضرورت ہے ۔

سوال کرنا تھا تو اصل وقوعہ پر کرتے کہ وہ واقع ہوا ہے یا نہیں ؟اس پر تو آپ سوال کر نہیں سکتے تھے

کسی دن آپ کے گھر پر کوئی تقریب ہو تو اگلے ملاقات پر مہمانوں سے تعداد پوچھ لیجے گا اندازہ ہو جائے گا کہ تعداد کے بارے میں کیا بیان دیتے ہیں

ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ لوگ جس مقصد کے لئے آتے ہیں اس کو ہی فوکس رکھتے ہیں ادھر ادہر زیادہ دھیان نہیں ہوتا ۔تو آپ کو بھی اصل وقوعہ یعنی پنچائیت کے سامنے اقراری بیان پر دھیان دینا چاہیے تھا کہ وہ ثابت ہے۔

لوگوں کی تعداد اور گنتی کی طرف کس کا دھیان ہوتا ہے صرف اتنا ذہن میں ہوتا ہے کہ گھر خالی تھا یا پورا بھرا ہوا تھا۔

12۔پیراگراف 36 میں بھی ادھر ادھر کی باتیں ہیں کہ پنچائیت میں ملزمہ کو لے کر کون آیا وہ کس طرح آئی جناب وہ آئی اس سے اگر اختلاف ہے تو بالکل یہ سب تحقیق کی جائے کہ وہ کیسے پہنچی لیکن اس کے آنے کا تو اس کو بھی اقرار ہے پھر بلا وجہ کی پخ نکال کر آپ کیا کرنا چاہ رہے ہیں ۔

13۔پیراگ گراف 40 میں لکھا ہے کہ ملزمہ کی گرفتاری کیسے ہوئی اس کے حوالے سے بیانات میں تضاد ہے منصف صاحب جب یہ مقدمہ آئے کہ ملزمہ گرفتار ہوئی یا اغوا تو ضرور یہ تحقیق کر لیجے گا لیکن جب وہ گرفتار ہوئی ہے اس کے بیانات پر اگر پولیس کا کوئی تضاد پر مشتمل بیان آیا بھی ہے تو اس سے اصل وقوعہ اور استغاثہ پر کیا اثر پڑے گا یہ تو محکمہ جاتی غفلت کے معاملات ہیں اس سے اصل وقوعہ میں تشکیک کہاں سے ثابت ہو جائے گی

لیکن ایک فائدہ ضرور ہوگا آپ پیرا گراف نمبر 41 میں یہ کیسے لکھ سکتے ہیں کہ ان سب باتوں کے تضاد سے پتا چلا کہ استغاثہ کی صداقت پر شبہات موجود ہیں ۔

لھذا کینچھ تان کر ادھر ادھر اور غیر متعلقہ باتوں میں مجبورا شک کی گنجائش ماننا جداگانہ چیز ہے۔

13۔یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ ملزمہ نے اپنے بیان سے انکار کب کیا اور ملزمہ کا بیان جج یا مجسٹریٹ نے کیوں ریکارڈ نہیں کیا اس کی ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ وہ مقر تھی اس لئے اس کے عوامی اجتماع کے بیان ہی کو جج نے کافی سمجھا ہو دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ سیشن جج یا مجسٹریٹ نے اس کا وہ بیان جان بوجھ کر نہ لے کر قانونی تقاضہ پورا نہ کرنے کا جرم کسی مفاد کی وجہ سے کیا ہو۔تا کہ ملزمہ کو فائدہ دیا جا سکتے

15۔منصف میاں سے سوال ہے کہ جب آپ بہت سارے موت کے قیدیوں کی سزائے موت شک کا فائدہ دیتے ہوئےعمر قید میں بدل دیتے ہیں تو اس کیس میں ایسی کیا خاص بات تھی اس کو سرے سے ہی آزاد کر دیا؟