حدیث نمبر :162

روایت ہے حضرت عرباض ابن ساریہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرما کر فرمایا کیا تم میں سے کوئی چھپڑ کھٹ پر تکیہ لگا کر یہ گمان کرسکتا ہے ۲؎ کہ اﷲ نے بجز ان چیزوں کے کوئی چیز حرام نہ کی جو قرآن میں ہیں آگاہ رہو کہ بخدا میں نے احکام دیئے وعظ فرمائے اور بہت چیزوں سے منع کیا جو قرآن کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہیں۳؎ یقینًا اﷲ نےتمہارے لیے یہ مباح نہ کیا کہ کتابیوں کے گھروں میں بلا اجازت گھس جاؤ اور نہ ان کی عورتوں کو مار پیٹ اور نہ ان کے پھل کھانا جب وہ اپنے ذمہ کے حقوق تمہیں ادا کریں۴؎ اسے ابوداؤدنے روایت کیا اس حدیث کی اسناد میں اشعث ابن شعبہ مصیصی ہے جس میں کلام کیا گیا ہے۔

شرح

۱؎ آپ صحابی ہیں،آپ کے والد ساریہ کی کنیت ابو نجیح تھی،حضرت عرباض اصحاب صفہ میں سے ہیں،شوقِ الٰہی اورخوفِ الٰہی اپنے دل میں بہت رکھتے تھے،شام میں قیام کیا اور ۷۵ھ؁ میں وہیں وفات پائی،آپ سے ۳۱ احادیث مروی ہیں،حمّص میں آپ کا مزار ہے۔

۲؎ اس میں خطاب صرف صحابہ سے نہیں بلکہ قیامت تک کے مسلمانوں سے ہے،کیونکہ عہد صحابہ سے قریبًا ۱۳سو برس تک منکر حدیث کوئی نہیں ہوا یہ بیماری چودھویں صدی میں پھیلی،اور یہ سوال تعجب کے لیئے ہے یعنی تعجب ہے کہ تم میں بعض ایسے بے وقوف بھی پیدا ہوں گے جو ایسے واہیات عقائد رکھیں گے۔

۳؎ یعنی میرے دیئے ہوئے احکام اور میری حلال و حرام کی ہوئی چیزیں،مقدار میں قرآنی احکام اور قرآنی حلال و حرام سے کہیں زیادہ ہیں،دیکھ لو قرآن کریم نے صرف سُور کا گوشت حرام کیا کہ فرمایا”وَلَحْمَ الْخِنۡزِیۡرِ”سُورکی کلیجی،گردے،ہڈی،بھیجہ اس کے علاوہ کتا،بلا حدیث نے ہی حرام کیا اسی طرح تمام احکام کا حال ہے حدیث کا انکار کرکے ان چیزوں کی حرمت کہاں سے ثابت کی جائے گی۔

۴؎ یعنی جب ذمی اہل کتاب جزیہ(ٹیکس)ادا کردیں تو نہ تم ان کے گھروں میں جاسکتے ہو،نہ ان کا مال کھاسکتے ہو،نہ انہیں سزا دے سکتے ہو۔یہ مسئلہ بھی قرآن میں نہیں ہے،مَیں ارشاد فرما رہا ہوں اہل کتاب کی قید اس لیئے لگائی کہ مشرکین عرب سے جزیہ قبول نہیں کیا جاتا،انہیں مسلمان ہی ہونا پڑے گا۔خیال رہے کہ اگر ذمی جزیہ دینے سے انکار کردیں تو وہ حربی ہوجائیں گے،پھر ان کی جائداد،سامان حکومت اسلامیہ ضبط اور انہیں قید کرسکتی ہے اس لیئے جزیہ دینے کی قید لگائی گئی۔