أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ كَانَ ذُوۡ عُسۡرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيۡسَرَةٍ ‌ؕ وَاَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَيۡرٌ لَّـكُمۡ‌ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ

ترجمہ:

اور اگر (مقروض) تنگ دست ہے تو اسے اس کی فراخی دستی تک مہلت دو اور (قرض کو معاف کرکے) تمہارا صدقہ کرنا زیادہ بہتر ہے ‘ اگر تم جانتے ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر (مقروض) تنگ دست ہے تو اسے اس کی فراخی دستی تک مہلت دو ‘ اور (قرض کو معاف کرکے) تمہارا صدقہ کرنا زیادہ بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔۔ (البقرہ : ٢٨٠)

مقروض کو مہلت دینے اور اس سے قرض وصول کرنے کا طریقہ :

جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ سود چھوڑ کر قرض خواہ کی اصل رقم واپس کردی جائے اور ثقیف نے اپنی اصل رقوم کا بنومغیرہ سے مطالبہ کیا تو بنو مغیرہ نے اپنی تنگ دستی کی شکایت کی اور کہا : اس وقت ہمارے پاس مال نہیں ہے اور کہا : جس وقت ہمارے پھل اترے گے ہم اس وقت ادائیگی کردیں گے ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی اور اگر مقروض تنگ دست ہے تو اسے اس کی فراخ دستی تک مہلت دو اور تمہارا صدقہ کرنا زیادہ بہتر ہے

جس شخص پر لوگوں کے بہت زیادہ قرض ہوں اور قرض خواہ مطالبہ کر رہے ہوں تو حاکم کے لیے یہ جائز ہے کہ مقروض کی ضروریات کے سوا باقی مال نیلام کے قرض خواہوں کے قرض ادا کردے ‘ اگر مقروض لوگوں کے واجبات ادا نہ کرے تو امام ابوحنیفہ ‘ امام مالک ‘ امام شافعی ‘ اور دیگر فقہاء کے نزدیک اس کو قید کرنا جائز ہے الا یہ کہ یہ معلوم ہوجائے کہ اس کے پاس واقعہ مال نہیں ہے۔ (تفسیر منیر ج ٣ ص ١٠١‘ ملخصا ‘ مطبوعہ دارالکفر بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

مقروض کو ادائیگی کی مہلت دینا واجب ہے اور اس کا قرض معاف کردینا مستحب ہے اور اس معاملہ میں مستحب کا اجر واجب سے زیادہ ہے۔

مقروض کو مہلت دینے اور قرض معاف کرنے کے اجر وثواب کے متعلق احادیث :

مقروض کا قرض معاف کرنے کی فضیلت میں حسب ذیل احادیث ہیں :

حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام احمد ‘ امام مسلم اور امام ابن ماجہ نے حضرت ابوالیسر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کو معاف کردیا اللہ اس کو اس دن اپنے سائے میں رکھے گا جس دن اس کے سائے کے سوال اور کوئی سایا نہیں ہوگا۔

امام احمد ‘ امام بخاری ‘ اور امام مسلم نے حضرت حذیفہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ اللہ عزوجل کے سامنے ایک شخص کو پیش کیا جائے گا ‘ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا : تم نے دنیا میں کیا کیا ؟ وہ شخص کہے گا : میں نے دنیا میں ایک ذرہ برابر بھی نیکی نہیں کی ‘ تین باریہی مکالمہ ہوگا ‘ تیسری بار وہ کہے گا : میں دنیا میں اپنا فاضل مال دے دیا کرتا تھا ‘ میں لوگوں کو چیزیں فروخت کرتا ‘ امیر آدمی پر آسانی کرتا اور غریب کو مہلت دیتا تھا اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ہم تم سے زیادہ معاف کرنے کے حق دار ہیں ‘ میرے بندے سے درگزر کرو ‘ پھر اس کو بخش دیا جائے گا۔

امام احمد نے حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نے فرمایا : جس شخص کا کسی آدمی پر کوئی حق ہو اور وہ اس کو مؤخر کردے تو اس کو ہر روز صدقہ کا اجر ملے گا۔

امام احمد حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی دعا قبول کی جائے اور اس کی مصیبت دور کی جائے وہ تنگ دست کے لیے کشادگی کرے۔

امام طبرانی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے تنگ دست کو کشادگی تک مہلت دی اللہ تعالیٰ اس کو گناہوں سے توبہ کرنے کی مہلت دے گا۔

امام احمد ‘ امام ابن ماجہ ‘ امام حاکم نے تصحیح سند کے ساتھ اور امام بیہقی نے ” شعب الایمان “ میں حضرت بریدہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے تنگ دست کو مہلت دی اس کو ہر دن قرض کے برابر صدقہ کا اجر ملے گا ‘ پھر میں نے آپ سے سنا کہ جس نے تنگ کو مہلت دی اس کو ہر دن اس قرض کے دگنے صدقہ کا اجر ملے گا ‘ میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! پہلے تو آپ نے قرض کے برابر صدقہ کے اجر کا فرمایا تھا اور آب آپ نے دگنے صدقہ کے اجر کا فرمایا ہے ‘ آپ نے فرمایا : جب تک قرض کی میعاد پوری نہیں ہوگی اس کو ہر روز قرض کے برابر صدقہ کا اجر ملے گا اور جب میعاد پوری ہوجائے گی اور وہ اس کو مہلت دے گا تو پھر اس کو ہر روز اس کے دگنے صدقہ کا اجر ملتا رہے گا۔ ١ (اس حدیث میں قرض سے مراد دین ہے ‘ یعنی کاروباری قرض ‘ مدت معینہ کے ادھار پر کوئی چیز خریدنا ‘ کیونکہ نجی قرضوں میں مدت کا تعین قرض دینے والے کی طرف سے جائز نہیں ہے ورنہ وہ قرض سود ہوجائے گا مثلا سو روپے دے کر ایک ماہ کے تعین کے بعد دو روپے لینا ربا النسیئہ ہے اور اگر مدت کا تعین نہ ہو تو پھر جائز ہے ہاں اگر قرض لینے والا مدت کا تعین کرے پھر جائز ہے ‘ مثلا وہ کہے : میں ایک ماہ بعد ادا کروں گا۔ منہ) (مسند احمد ج ٥ ص ٣٦٠‘ سنن ابن ماجہ ص ١٧٤‘ شعب الایمان ج ٧ ص ٥٣٨)

امام احمد ‘ امام دارمی اور امام بیہقی نے ” شعب الایمان “ میں حضرت ابوقتادہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے مقروض کو مہلت دی یا اس کو معاف کردیا وہ قیامت کے دن عرش کے سایہ میں ہوگا۔ ١ مسند احمد ج ٥ میں ٣٦٠ میں اسی طرح روایت ہے اور ” سنن ابن ماجہ “ ” شعب الایمان “ میں اسی طرح ہے کہ قرض کی میعاد پوری ہونے تک اس کو صدقہ کا اجر ملے گا اور مہلت دینے کے بعد اس قرض کی مثل صدقہ کا اجر ملے گا “ نیز مسند احمد ج ٥ ص ٣٥١ میں بھی اسی طرح ہے۔ منہ) (مسند احمد ج ٢ ص ٣٥٩‘ سنن درامی ج ٢ ص ١٧٩‘ شعب الایمان ج ٧ ص ٥٣٥)

امام احمد نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جس شخص نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کردیا اللہ تعالیٰ اس کو جہنم کی تپش سے محفوظ رکھے گا۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٣٦٩۔ ٣٦٨ ملتقطا مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 280