ایمان و عمل میں اخلاص اور للہیت کا نام تصوف ہے  

ایمان و عمل میں اخلاص اور للہیت کا نام تصوف ہے
ظفر عقیل سعیدی
  ’’علم ، ایمان اور عمل ‘‘یہ تینوں دین کے حصے ہیں ،اور یہ تینوں بارگارہ الٰہی میں مقبول نہیں ہو سکتے جب تک کہ  ان میں اخلاص نہ ہو اور اخلاص ہی کا دوسرا نام تصوف ہے ، کیوں کہ تصوف بنیادی طور پر نہ خالی اوراد ووظائف کا نام ہے اور نہ مخصوص طوروطریقہ کا، تصوف تو بنیادی سطح پر ایسا روحانی انقلاب پیدا کرتا ہے جس سے انسان اپنی جملہ بری عادتوں اور خصلتوں کو بدل ڈالتا ہے اور اعلیٰ انسانی اخلاق و روحانی اقدار کا پیکر بن جاتا ہے ۔
اس اجمال کی قدرے تفصیل یہ ہے:
۱۔ علم:
نظامِ زندگی کی پہلی بنیاد علم ہے ۔ علم حاصل کر نے کے کچھ ذرائع ہیں۔ انسان جب عالم رنگ و بو میں قدم رکھتا ہے تو اُسے بتدریج حواس نصیب ہو تے ہیں ۔وہ دیکھتا ہے ، سنتا ہے ، سونگھتاہے ، چھوتا ہے اور چکھتا ہے۔ ان مختلف ذرائع سے اُس میں شعور کامادہ پیداہوتاہے ،اس مادہ کو ڈھالنے کا سانچہ یعنی عقل بھی قدرت نے عطا فرمائی ہے۔ ان ادراکات واحساسات کے ذریعے جو خام مادہ عقل کے سانچے میں منتقل کیا جاتا ہے، عقل اُسے ایک خاص شکل عطا کرتی ہے اور وہ خاص شکل اسی پیمانے پر عطا کی جاتی ہے جس پر خود سانچۂ عقل ڈھالاگیا ہو تا ہے، یا بالفاظ دیگر عقل کے سانچے میں جو معیار اور پیمانے ہوتے ہیں اُنھیں پر اِن اِدراکات کو جانچ کر اُن کا درست اور جائز مقام انھیں دیا جاتاہے۔ اس شکل میں معلومات متعین ہوجاتی ہیں،انھیں علم کا نام دیاجا تاہے ۔
 لیکن صرف علم حاصل کرنا دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت نہیں ہے ،دل کی دنیابھی آباد ہونی چاہیے۔ اگر دل کی دنیا ویران ہو تو آیات کا علم بھی انسانوں کو کچھ فائدہ نہیں دیتا۔ اس کی حرص وہوس اسے دنیا کے حقیر فائدوں کی خاطر آیتیں بیچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ قرآن کا جوعلم اس کوعظمتیں ،رفعتیں بخش سکتا تھا وہ اس کے لیے دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی کا سبب بن جاتا ہے اور وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ اس کا دل حرص و ہوس کی سیاہی سے، بیوی بچوں کی فانی محبت اور کبر و نخوت  سے بھرارہتا ہے ۔
۲۔ ایمان: 
علم سے یقین اور ایمان پیدا ہوتا ہے اور جس علم سے ایمان و یقین پیدا نہ ہو وہ علم علم ہی نہیں، دھوکا ہے۔
ایمان وہ نظریاتی چیز ہے جس کو کسی خارجی ذریعے سے جان کر یا اندورنی سطح پر غور وفکر کر کے انسان اپنے دل میں جگہ دیتا ہے اور پھر ذہن اس پر اِس قدر جم جاتا ہے کہ وہ نظریات سے بڑھ کر ایقان کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔
 مثلاً یہ کہ اللہ ایک ہے ،وہ سب کا خالق و مالک اور پروردگار ہے، اس نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیاورُسل کو مبعوث فرمایااور ان کے ذریعے ہم پر واضح کیا کہ موت کے بعد ہر انسان دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا، قیامت آئے گی اور اُس دن میزان قائم ہوگی، جس میں ہمارے تمام اقوال و افعال کی مثبت اور منفی قدر متعین ہو جائے گی اور پھر اس پر جزا و سز ا کا فیصلہ ہو گا جس کے نتیجے میں کوئی محمود ہو گا اور جنت میں جگہ پائے گا ،تو کوئی مذموم ہو گا اور جہنم کے حوالے کیا جائے گا۔ ہر نفس کو اُس کے کیے کا صلہ ملے گا ۔ یہ وہ نظریاتی امور ہیں جن پر پختہ یقین کر لینے کوایمان سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ یہی اجزائے ایمان ہیں اور انھیں کو اساس ایمانیات سے تعبیر کیا جا تاہے ۔
۳۔عمل: 
یہ در حقیقت علم و عقیدے کی بنیادوں پر استوار ہوتاہے۔ لہٰذا ہر عمل سے پہلے عقیدہ و علم کی بنیادوں کو پختہ اور مضبوط کر نا ضروری ہے ۔گویا اعمال کے لیے صحت علم و صحت عقائد  لازمی ہے، اسی لیے جس کا اعتقاد کمزور ہوتا ہے یا علم کی کمی ہوتی ہے وہ عمل سے دور اور بے یقینی کی کیفیت میں زندگی گزارتا ہے۔
 اعمال و افعال کی قبولیت کے لیے درست نیت بھی ضروری ہے ۔ اعمال اللہ کی بارگاہ میں اسی وقت قبولیت سے ہمکنار ہوتے ہیں جب نیت درست ہو ۔ارشادِنبوی ہے :
إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔(بخاری ،باب الایمان)
ترجمہ: بے شک اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے ۔
ایک جگہ اور ارشادفرمایا ہے :
اِنَّ اللہ لَا یَنْظُرُإلٰی صُوَرِکُمْ وَاَمْوَالِکُمْ وَلٰکِنْ یَّنْظُرُ إلٰی قُلُوْبِکُمْ وَاَعْمَالِکُم ۔ (صحیح مسلم ،باب تحریم ظلم المسلم)
ترجمہ:بے شک اللہ تمہاری شکلوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوںاور اعمال کو دیکھتا ہے ۔
اس سےثابت ہو اکہ اعمال کی قبولیت کے باب میں خدائے علیم و خبیر اپنے بندے کے دل کو دیکھتا ہے کہ اس نے یہ نیکی کس نیت سے کی ہے، اگر نیکی اور سخاوت کے پیچھے کارفرما جذبہ نیک اور سخی کہلانے کا نہیں ،بلکہ نیکی و سخاوت محض رضائے الٰہی کے لیے ہے ،تو ایسی نیکی اللہ کی بارگاہ میں مقبول ومحمود ہے۔ اسی حسن نیت کو اخلاص کہا جا تاہے۔ اخلاص،نظام دین میں نیتوں کی اصلاح اور صحت کا اہم شعبہ ہے جو اَہل علم کی اصطلاح میں علم الاخلاص سے موسوم ہو تاہے اور علم الاخلاص کا تعلق ،تزکیۂ نفس اور تصفیہ باطن سے ہے ۔
اب سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ ایمان کے اجزا،اور اسلام کے ارکان تو کتابوں کے مطالعے سے معلوم ہو سکتے ہیں، ایمان وعمل کے ظاہری پہلو تو کتابوں سے دریافت ہوسکتے ہیں،لیکن ایمان و عمل کی قبولیت کا دارو مدار جس چیز پر ہے وہ کہاں سے میسر ہو، قلب کو مرتبۂ احسان تک پہنچا دینا ، تزکیۂ نفس ، نورِ باطن اور اخلاق کی پاکیزگی کے بغیر ایک زندہ اور کامل شخصیت کیسے ممکن ہے۔جو قانون اور ضابطے کتابوں میں درج ہونے والے تھے ،حدیث وآثار اور فقہ کی کتابوں میں جمع ہوتے رہے ،لیکن جن چیزوں کا تعلق وجدانیات وکیفیات سے ہے وہ تحریر میں کیوں کر آسکتی تھیں، وہ تو صرف ایک قلب سے دوسرے قلب پر اپنا عکس ڈال سکتی ہیں ۔ اس کے لیے ضرورت ہے ایک مرشد کامل کی ۔
مرشد کامل کوئی خود رو ہستی نہیں، بلکہ جس طرح آپ قرآن کی ساری عبارت کو محض سند متصل کی بنا پر کلام الٰہی جانتے چلے آئے ہیں، جس طرح آپ بخاری و مسلم کی کسی روایت کو محض اس لیے کلام رسول تسلیم کر لیتے ہیں کہ وہ معتبر اور مسلسل سند کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت ہوئی، ٹھیک اسی طرح مرشد کامل کاپرنور قلب بھی ایسے ہی مضبوط واسطوں کے ساتھ قلب رسول سے ملا ہوا ہوتاہے، اس کا روحانی رابطہ بھی ایسی ہی زنجیر کی مضبوط کڑیوں کی طرح سر چشمۂ تقدیس و روحانیت سے جڑا ہوا ہوتا ہے،جس طرح امام بخاری و امام مسلم، اخبار سول اور آثار صحابہ کو اپنے ضخیم دفتروں میں جمع کرتے رہے۔ اسی طرح حسن بصری و جنید بغدادی اسرا رِرسول وانوار صحابہ سے اپنے سینوں کو منور کر تے رہے۔ اُدھر رسول کا قول ایک سینے سے دوسرے سینے میں منتقل ہوتا رہا۔اوراِدھر رسول کا حال ایک سینے سے دوسرے سینے میں محفوظ ہوتا رہا۔
حجۃ الاسلام اما م غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
’’میں نے دس سال مجاہدےکے لیے خلوت گزینی اختیار کی۔ اسی خلوت کے دوران مجھ پرایسے امور کا انکشاف ہوا جن کا احاطہ واندازہ .ممکن نہیں لیکن وہ امور جن کا تذکرہ ضروری ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ مجھے اس بات کا یقین ہو گیاہے کہ صوفیائے کر ام ہی معرفت الٰہی کی راہ پرگامزن ہیں،ان کی سیرت سب کی سیرتوں سے بہتر ، ان کا طریقہ سب کے طریقوں سے درست ، حکما کی حکمت ،علماکاعلم اور اُس کے اسرار کو جمع کر لیا جائے تب بھی ان کی سیر ت و اخلاق سے بہتر نہیں ہو سکتے ۔ کیوںکہ ان کے تمام ظاہری و باطنی حرکات و سکنات براہ راست نورِنبوت سے فیض یاب و منور ہوتے ہیں اور اِس کائنات میں نورِ نبوت سے بڑھ کر کوئی نور نہیں جس سے روشنی حاصل کی جائے ۔‘‘
اس سےثابت ہوا کہ حقیقی علم، حقیقی ایمان اور حقیقی عمل کسی اہل تصوف کی صحبت کے بغیر ممکن نہیں ۔لہٰذا ہر زمانے کی طرح اس حرص ہوس کے دور میں بھی ایسی طاقت ورشخصیتوں اور جامع کمالات مبلغین کی سخت ضرورت ہے،جو انسانوں میں تلاوت آیات، تعلیم کتاب و حکمت ، تزکیۂ نفس اور تہذیب اخلاق کا وسیع و مستحکم نظام قائم کرسکیں ۔وصال نبوی کے بعد رسول اللہ صلی ا للہ علیہ و سلم کی نیابت کا فریضہ انجام دیں اور اُمت مسلمہ کا رشتہ اللہ اور اس کے رسول صلی ا للہ علیہ و سلم کے ساتھ جوڑ سکیں۔ایسی باکمال شخصیتیں ہر دور میں پائی گئی ہیں اور ہر دور میں پائی جائیں گی۔ایسے صالحین سے یہ روئے زمین نہ کبھی خالی تھی اور نہ کبھی خالی ہوگی۔طالبین مولیٰ جب تک اس روئے زمین پر موجود ہیں اُن کو مشکات نبوت کی روشنی کے توسط سے مولیٰ تک پہنچانے والے رہبران کامل  بھی موجود رہیں گے، بشرطیکہ طلب صادق اورارادت نیک ہو۔ کیوں کہ اگرطلب صادق ہوگی تو مطلوب بھی حاصل ہوگا اور مطلب بھی میسر آئے گا۔بقول شاعر:
تیرے مے کدے میں کمی ہے کیا جو کمی ہے ذوق طلب میں ہے
جو ہوں پینے والے تو آج بھی وہی بادہ ہے وہی جام ہے

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.