أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ كُنۡتُمۡ عَلٰى سَفَرٍ وَّلَمۡ تَجِدُوۡا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقۡبُوۡضَةٌ ‌ ؕ فَاِنۡ اَمِنَ بَعۡضُكُمۡ بَعۡضًا فَلۡيُؤَدِّ الَّذِى اؤۡتُمِنَ اَمَانَـتَهٗ وَلۡيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ‌ؕ وَلَا تَكۡتُمُوا الشَّهَادَةَ ‌ ؕ وَمَنۡ يَّكۡتُمۡهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلۡبُهٗ‌ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ

ترجمہ:

اور اگر تم سفر میں ہو (اور تمہیں نے دین پر مبنی کوئی معاملہ کرنا ہو) اور تمہیں دستاویز لکھنے والا نہ ملے تو قبضہ دی ہوئی رہن (کی بنا پر دین کا معاملہ کرلو) پھر اگر تم کو ایک دوسرے پر اعتبار ہو تو جس پر اعتبار کیا گیا اسے چاہیے کہ وہ اس کی امانت ادا کرے ‘ اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور گواہی نہ چھپاؤ اور جو شخص گواہی چھپائے گا اس کا دل گناہ آلود ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو خوب جاننے والا ہے

تفسیر:

بیع اور دین کے بعد اعمال صالحہ سے مکلف کرنے کی مناسبت :

اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں اصول اور فروع ‘ اور عقائد اور اعمال میں سے متعدد اہم امور بیان فرمائے ہیں ‘ توحید اور رسالت ‘ قیامت اور جزاء اور سزا کے دلائل کا ذکر فرمایا اور نماز زکوۃ صدقات ‘ روزہ ‘ حج ‘ جہاد ‘ قصاص ‘ حیض ‘ طلاق ‘ عدت ‘ خلع ‘ ایلاء ‘ رضاعت ‘ ربا ‘ بیع ‘ دین اور رہن کے احکام بیان فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان عقائد کو ماننے اور ان احکام پر عمل کرنے کا مکلف فرمایا ہے تو یہاں ہمیں مکلف کرنے کی دلیل ذکر فرمائی کہ تمام آسمانوں میں جو کچھ ہے اور تمام زمینوں میں جو کچھ ہے اللہ اس کا مالک ہے اور آسمانوں اور زمنیوں کی ہر چیز اس کی مملوک ہے اور مالک کو حق ہے کہ وہ اپنی مملوک کو جس چیز کا چاہیے مکلف کرے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں توحید و رسالت اور قیامت اور جزاء اور سزا کے ماننے کا مکلف کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں جن عقائد کا مکلف کیا ہے انکو ماننے کا تعلق ہمارے دلوں سے ہے ‘ اور جن احکام شرعیہ پر عمل کرنے کا مکلف کیا ہے انکی جزاء یا سزا کا مدار ہماری نیتوں پر ہے اور ہماری نیتوں کا تعلق بھی ہمارے دلوں کے ساتھ ہے اس لیے فرمایا : اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تم اس کو ظاہر کرو یا تم اس کو چھپاؤ اللہ تعالیٰ تم سے اس کا حساب لے گا چونکہ وہ ہر چیز کا مالک ہے اور ہر چیز اس کی مملوک ہے اس لیے حساب لینا اس کا حق ہے اور وہ ہر چیز کا عالم ہے خواہ کوئی چیز چھوٹی ہو یا بڑی ظاہر ہو یا مخفی اسے ہر چیز کا علم ہے اور ہر چیز کی گرفت کرنے پر وہ قادر ہے اس کا علم ہر شے کو محیط ہے اور اس کی قدرت ہر چیز کو شامل ہے۔

خواطر قلب کی تکلیف کے منسوخ ہونے کا بیان :

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل ہوئی : اللہ ہی کی ملکیت میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تم اس کو ظاہر کرو یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا سو جس کو چاہے گا بخش دے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اصحاب پر یہ آیت بہت شاق گزری ‘ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کی خدمت میں حاضر ہو کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور انہوں نے کہا : یارسول اللہ ! ہمیں نماز ‘ روزہ ‘ جہاد اور صدقہ کا مکلف کیا گیا ‘ یہ ایسے اعمال ہیں جن کی ہم طاقت رکھتے ہیں اور اب آپ پر جو آیت نازل کی گئی ہے اس پر عمل کر نیکی ہم طاقت نہیں رکھتے (کیونکہ اس آیت میں یہ مذکور ہے کہ تمہارے دلوں کی چھپی ہوئی باتوں کا بھی حساب لیاجائے گا اور دل میں غیر اختیاری طور پر بہت سی باتوں کا خیال آتا ہے جو اچھی بھی ہوتی ہیں اور بری بھی اور دل میں آنے والی باتوں کے دور کرنے پر انسان قادر نہیں ہے) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تم اس طرح کہو جس طرح تم سے پہلے کتاب والوں (یہودونصاری) نے کہا تھا ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی ‘ بلکہ تم کہو : ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی ‘ اے ہمارے رب ! ہم تیری بخشش کے طالب ہیں ‘ اے ہمارے رب اور (ہمیں) تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ جب مسلمانوں نے اس طرح پڑھا اور انکی گردنیں جھک گئیں تو اللہ تعالیٰ عزوجل نے اس کے بعد یہ آیت نازل فرمائی : (ہمارے) رسول اس کلام پر ایمان لائے جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے نازل ہوا اور مومن بھی ایمان لائے ‘ اللہ پر ‘ اس کے فرشتوں پر ‘ اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر سب (یہ کہتے ہوئے) ایمان لائے کہ ہم (ایمان لانے میں) ان رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور انہوں نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی ‘ اے ہمارے رب ! ہم تیری بخشش کے طالب ہیں ‘ اور ہمیں تیری طرف لوٹنا ہے۔ جب مسلمانوں نے یہ کہا تو اللہ تعالیٰ نے اس پہلے حکم کو منسوخ کردیا ‘ اور یہ آیت نازل فرمائی : اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں کرتا ‘ جو اس (شخص) نے نیک کام کیے ہیں ان کا نفع (بھی) اس کے لیے ہے اور جو اس نے برے کام کیے ہیں ان کا نقصان (بھی) اس کے لیے ہے ‘ اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے غلطی ہوجائے تو ہماری گرفت نہ کرنا ‘ اللہ نے فرمایا : ہاں ! (حضرت ابن عباس (رض) کی روایت میں ہے ‘ اللہ نے فرمایا : میں نے ایسا کردیا) اے ہمارے رب ! ہم پر ایسا بھاری بوجھ نہ ڈالنا جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا اللہ نے فرمایا : ہاں ! (حضرت ابن عباس (رض) کی روایت میں ہے فرمایا میں نے کردیا) اے ہمارے رب ! ہم پر ان احکام کا بوجھ نہ ڈالنا جن کی ہمیں طاقت نہ ہو “ فرمایا ہاں ! (یا فرمایا : میں نے کردیا) اور ہمیں معاف فرما ! اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما ‘ تو ہمارا مالک ہے تو کافروں کے خلاف ہماری مدد فرما ‘ فرمایا : ہاں ! یا فرمایا : میں نے کردیا۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٨٧۔ ٧٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کا اختلاف ہے ‘ اکثر مفسرین اس کے قائل ہیں کہ پہلے مسلمان دل میں برے خیالات اور وسوسوں سے بھی اجتناب کے مکلف تھے پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو منسوخ کردیا کیونکہ وسوسوں سے اجتناب کرنا ان کی وسعت اور طاقت میں نہیں ہے جیسا کہ اس حدیث میں اس کی تصریح ہے ‘ اور بعض متاخرین نے کہا : یہاں نسخ نہیں ہے ‘ کیونکہ نسخ انشاء (اوامر اور نواہی) میں ہوتا ہے ‘ اخبار میں نہیں ہوتا ‘ لیکن ان متاخرین کی یہ رائے صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ ان کو پہلے یہ حکم دیا گیا تھا کہ وساوس سے اجتناب کرو اور بعد میں اس حکم کو منسوخ کیا گیا ہے اور اس آیت میں اس سابق حکم اور اس کے منسوخ ہونے کی خبر دی گئی ہے ‘ بعض مفسرین نے کہ کہا ہے کہ نسخ سے مراد یہاں ازالہ ہے یعنی ان کے دلوں میں یہ بات مرکوز ہوگئی تھی کہ انکو ایک سخت ‘ دشوار اور ناقابل عمل فعل کا مکلف کردیا گیا ہے ‘ تو ان کے دلوں سے اس بات کو زائل کیا گیا کہ اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں کرتا ‘ یہ قاضی عیاض کی رائے ہے اور واحدی کا مختار یہ ہے کہ یہ آیت محکمہ ہے ‘ منسوخہ نہیں ہے۔

” ھم “ اور ” عزم “ کی تحقیق “۔

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : جب میرا بندہ گناہ کا ” ھم “ (ارادہ) کرے تو اس کا گناہ نہ لکھو ‘ اور اگر وہ اس گناہ کو کرلے تو ایک گناہ لکھ دو اور جب وہ نیکی کا ” ھم “ کرے اور اس نے ابھی وہ نیکی نہ کی ہو تو اس کی ایک نیکی لکھ دو ‘ اور اگر وہ اس نیکی کو کرلے تو اس کی دس نیکیاں لکھ دو ۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل نیکیاں اور برائیاں لکھتا ہے ‘ سو جو شخص نیکی کا ” ھم “ کرے اور ابھی اس نیکی کو نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اپنے پاس اس کو ایک مکمل نیکی لکھ لیتا ہے ‘ اور اگر وہ اس نیکی کو کرلے تو اس کے لیے دس نیکیوں سے لے کر سات سو نیکیوں تک لکھ دیتا ہے اور اگر وہ گناہ کا ” ھم “ کرے اور اس گناہ کو نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی ایک مکمل نیکی لکھ دیتا ہے اور اگر وہ گناہ کا ” ھم “ کرے اور وہ گناہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کا ایک گناہ لکھ دیتا ہے (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٧٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

علامہ یحییٰ بن شرف نووی لکھتے ہیں :

امام مازری نے کہا : قاضی ابوبکر بن الطیب کا مذہب یہ ہے کہ جس نے دل سے معصیت کا عزم کیا وہ اپنے اعتقاد اور عزم میں گنہ گار ہوگا ‘ اور اگر اس نے معصیت کا عزم نہیں کیا ‘ وہ معصیت صرف اس کے ذہن میں آئی اس کا ذہن میں استقرار نہیں ہوا تو یہ ” ھم “ ہے اور ھم اور عزم میں فرق کیا جاتا ہے (اگر کسی کام میں راجح جانب کرنے کی ہو اور مرجوح سا خیال نہ کرنے کا ہو تو یہ ” ھم “ ہے اور اگر کام نہ کرنے کی مرجوح جانب بھی ختم ہوجائے اور اس کام کو کرنے کا سو فیصد ارادہ ہوجائے خواہ نفع ہو یا نقصان تو اس کو عزم کہتے ہیں) بہت سے فقہاء اور محدثین نے اس قاعدہ کی مخالفت کی ہے اور ظاہر حدیث پر عمل کیا ہے۔

قاضی عیاض نے کہا کہ عامۃ السلف ‘ فقہاء اور محدثین کا وہی مذہب ہے جو قاضی ابوبکر کا مذہب ہے ‘ کیونکہ احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ دل کے عمل پر بھی مواخذہ ہوتا ہے لیکن انہوں نے کہا ہے کہ اگر کوئی برائی کا عزم کرے تو ایک برائی لکھ لی جاتی ہے اور اگر برائی کا ” ھم “ کرے تو برائی نہیں لکھی جاتی کیونکہ ” ھم “ کے بعد عمل نہیں کیا جاتا اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ عمل نہ کرنے کی وجہ خوف الہی ہو لیکن نفس اصرار اور عزم معصیت ہے ‘ اس لیے عزم کے بعد ایک معصیت لکھ دی جاتی ہے اور اگر عزم کے بعد اس پر عمل کرلیا تو دوسری معصیت لکھ لی جائے گی اور گر اس نے عزم معصیت کے بعد خدا کے خوف سے اس معصیت کو ترک کردیا تو ایک نیکی لکھ دی جائے گی۔

معصیت کے ” ھم “ کے بعد معصیت نہیں لکھی جاتی کیونکہ ” ھم “ میں نفس اپنے آپ کو اس معصیت پر آمادہ نہیں کرتا ‘ نہ اس کا عقد ‘ عزم اور نیت کرتا ہے ‘ متکلمین نے اس میں بحث کی ہے کہ جب وہ اس معصیت کو خوف خدا کے علاوہ کسی اور وجہ سے ترک کرے ‘ مثلا لوگوں کے خوف کی وجہ سے ترک کرے تو اس کی نیکی لکھی جائے گی یا نہیں ‘ بعض علماء نے کہا : اب اس کی نیکی نہیں لکھی جائے گی ‘ لیکن یہ قول ضعیف ہے۔ (شرح مسلم ج ١ ص ‘ ٧٩۔ ٧٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

قرآن مجید کی نصوص قطعیہ اور احادیث صریحہ سے یہ ثابت ہے کہ معصیت کے عزم ‘ عقد اور گناہ کی نیت سے مواخذہ ہوتا ہے خواہ اس پر عمل کیا جائے یا نہیں۔

دل کے افعال پر مواخذہ کی تحقیق :

قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین امنوا لہم عذاب الیم فی الدنیا والاخرۃ “۔ (النور : ١١٩)

ترجمہ : بیشک جو لوگ یہ پسند کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں بےحیائی کی بات پھیلے ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے۔

اس آیت میں صرف دل کے عمل پر عذاب کی وعید ہے۔

(آیت) ” یایھا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ‘ ان بعض الظن اثم “۔ (الحجرات : ١٢)

ترجمہ : اے ایمان والو ! بہت سے گمانوں سے بچو ‘ بیشک بعض گمان گناہ ہیں۔

اس آیت میں بدگمانی کو گناہ قرار دیا ہے اور وہ دل اور ذہن کا فعل ہے۔

(آیت) ” ولا تعزموا عقدۃ النکاح “۔ (البقرہ : ٢٣٥)

ترجمہ : اور (عدت کے دوران) عقد نکاح کا عزم نہ کرو “۔

نیز امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوبکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب دو مسلمان تلواروں سے مقابلہ کرتے ہیں ‘ تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں ‘ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ قاتل تو ہوا مقتول کا کیا گناہ ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ بھی اپنے مقابل کے قتل پر حریص تھا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث سے یہ بھی واضح ہوا کہ جس طرح مسلمان کو قتل کرنا گناہ کبیرہ ہے اسی طرح مسلمان کو قتل کرنے کا عزم کرنا بھی گناہ ہے۔

قرآن مجید اور حدیث شریف کی تصریحات کے علاوہ مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ حسد کرنا ‘ مسلمانوں کو حقیر جاننا اور ان سے کینہ اور بغض رکھنا حرام ہے ‘ اور یہ تمام دل کے افعال ہیں ‘ ان دلائل سے یہ واضح ہوگیا کہ معصیت کا عزم بھی معصیت ہے خواہ اس عزم کے بعد معصیت کا ارتکاب کرے یا یا نہ کرے ‘ البتہ معصیت کا ” ھم “ معصیت نہیں ہے۔

” ھم “ اور ” عزم “ کی مزید وضاحت کے لیے یہ جاننا چاہیے کہ ذہن میں وارد ہونے والے امور کی پانچ قسمیں ہیں۔

علامہ احمد صاوی مالکی لکھتے ہیں۔

(١) ہاجس : اچانک کسی چیز کا خیال آئے۔

(٢) خاطر : کسی چیز کا بار بار خیال آئے۔

(٣) حدیث نفس : جس چیز کا خیال آئے ذہن اس کی طرف راغب ہو اور اس کے حصول کے لیے منصوبہ بنائے۔

(٤) ھم : غالب جانب اس چیز کو حاصل کرنے کی ہو اور مغلوب سا خیال ہو کہ اس کو حاصل نہ کیا جائے ‘ کیونکہ ہوسکتا ہے اس سے ضرر ہو۔

(٥) عزم : مغلوب جانب بھی زائل ہوجائے اور اس چیز کے حصول کا پختہ ارادہ ہو ‘ وہ اپنے نفس کو اس کے حصول پر آمادہ کرلے اور اس کی نیت کرلے۔

اگر کسی شخص کے ذہن میں خیال آئے تو ہاجس ‘ خاطر ‘ حدیث نفس اور ہم کے مرتبہ میں اس سے مواخذہ نہیں ہوتا ‘ البتہ اگر گناہ کا عزم کرلے تو وہ مستحق مواخذہ ہے ‘ خواہ اس کے بعد گناہ کا فعل نہ کرے۔ (تفسیر الصاوی ج ١ ص ٩٩‘ مطبوعہ داراحیاء الکتب العربیہ ‘ مصر)

اس کی تفصیل یہ ہے کہ کسی انسان کا کوئی دشمن ہو اور ایک دن اس کے ذہن میں اچانک اس کو قتل کرنے کا خیال آئے تو یہ ھاجس ہے ‘ اور اگر باربار اس کو قتل کرنے کا خیال آئے تو یہ خاطر ہے اور جب اس کا ذہن اس کے قتل کی طرف راغب ہو اور وہ اس کے قتل کا منصوبہ بنائے کہ اس کو مثلا پستول سے قتل کرے گا اور فلاں جگہ سے پستول کو حاصل کرے گا تو یہ حدیث نفس ہے ‘ اور جب وہ اس کو قتل کرنے کا ارادہ کرلے اور غالب جانب اس کو قتل کرنے کی ہو لیکن مغلوب سایہ خیال ہو کہ وہ کہیں پکڑا نہ جائے اس لیے نہ قتل کرے تو بہتر ہے تو یہ ھم ہے اور جب یہ مغلوب جانب بھی زائل ہوجائے اور وہ یہ طے کرلے کہ اس کو قتل کرنا ہے خواہ وہ پکڑا کیوں نہ جائے اور اس کے بدلہ میں قتل کیوں نہ کردیا جائے اور اس کو قتل کرنے کی نیت کرے تو یہ عزم ہے پہلے چار مرتبوں پر اس سے مواخذہ نہیں ہوگا لیکن جب وہ قتل کرنے کا عزم کرلے گا تو اس عزم پر مواخذہ ہوگا خواہ اس نے قتل نہ کیا ہو ‘ مثلا وہ شخص اس کو قتل کرنے گیا لیکن جب وہ اس کے گھر گیا تو معلوم ہوا کہ وہ اپنی طبعی موت سے ابھی ابھی مرا ہے اب ہرچند کہ اس نے قتل نہیں کیا لیکن اس نے بہرحال اس کو قتل کرنے کی نیت کرلی تھی اس لیے اس نیت کی وجہ سے اس کی گرفت ہوگی۔

ھاجس ‘ خاطر اور حدیث نفس کے مرتبہ میں معصیت پہلی امتوں پر بھی معاف تھی اور اس امت پر بھی معاف ہے ‘ لیکن پچھلی امتوں کا ” ھم “ پر مواخذاہ ہوتا تھا اس امت پر ” ھم “ معاف ہے البتہ اگر معصیت کا عزم کرلیا جائے تو اس امت پر بھی مواخذہ ہوگا۔

معصیت کی حدیث نفس مذموم ہے اور نیکی کی حدیث نفس جائز بلکہ مستحسن ہے خواہ حالت نماز ہو۔

امام بخاری بیان کرتے ہیں :

حضرت عمر (رض) نے کہا : میں نماز کی حالت میں لشکر کی صفیں مرتب کرتا رہتا ہوں۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ١٦٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دینی امور کے متعلق نماز میں سوچ وبچار اور غور وفکر کرنا جائز ہے۔

امام بخاری ‘ امام مسلم ‘ امام ابو دادؤد ‘ امام ترمذی ‘ امام نسائی ‘ اور امام ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت اپنے دل میں جن کاموں کے منصوبے بناتی ہے۔ (حدیث نفس) جب تک ان کی بات نہ کرے یا ان پر عمل نہ کرے ‘ اللہ تعالیٰ اس سے درگزر فرماتا ہے۔

امام فریابی ‘ امام عبد بن حمید اور امام ابن المنذر ‘ محمد بن کعب قرضی سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ نے جس نبی اور رسول کو مبعوث کیا اور اس پر کتاب نازل کی۔ اس پر یہ آیت نازل فرمائی : جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تم اس کو ظاہر کرو یا تم اس کو چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا ‘ پس جس کو چاہے گا اس کو بخش دے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا ‘ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ سابقہ امتوں نے اپنے نبیوں اور رسولوں سے اس حکم کو ماننے سے انکار کیا اور کہا : ہمارے دلوں میں جو باتیں آئیں اور ہم ان پر عمل نہ کریں تو ہم سے ان پر کیسے گرفت ہوگی ‘ سو وہ کافر اور گمراہ ہوگئے اور جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانو پر بھی یہ آیت اسی طرح دشوار ہوئی جس طرح پچھلی امتوں پر دشوار ہوئی تھی ‘ انہوں نے کہا : یارسول اللہ ! ہمارے دلوں میں جو باتیں آئیں اور ہم ان پر عمل نہ کریں کیا پھر بھی ہم سے ان باتوں پر مواخذہ ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! تم سنو اور تم اطاعت کرو ‘ اور جب مسلمانوں نے یہ کہا کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے حدیث نفس (دل کی باتوں) پر محاسبہ کو ساقط کردیا ‘ جب تک کہ وہ اس پر عمل نہ کرلیں اور ان کو انہیں کاموں کا مکلف کیا جن کی وہ طاقت رکھتے تھے اور جب انہوں نے کہا : اے ہمارے رب ! نسیان اور خطا پر ہماری گرفت نہ کرنا تو ان سے نسیان اور خطا پر مواخذہ کو ساقط کردیا اور جب انہوں نے کہا : اے ہمارے رب ! ہم پر ایسے سخت احکام کا بوجھ نہ ڈالنا جیسے سخت احکام پچھلی امتوں پر تھے ‘ تو ان کو ایسے سخت احکام کا مکلف نہیں کیا گیا ‘ اور ان کو معاف کردیا ‘ ان کی مغفرت کی اور ان کی مدد فرمائی (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٣٧٤۔ ٣٧٣ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

تکلیف مالایطاق پر استدلال اور اس کا جواب :

علامہ ابوالحیان اندلسی لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے : ” جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے ‘ تم اس کو ظاہر کرو یا تم اس کو چھپاؤ‘ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا “ انسان اپنے دل میں جن وسوسوں اور حدیث نفس کو چھپاتا ہے وہ اس میں داخل نہیں ہیں ‘ کیونکہ ان سے قلب کو فارغ کرنا اس کی طاقت اور اختیار میں نہیں ہے ‘ البتہ جس چیز کا وہ اعتقاد کرتا ہے اور اس کا عزم کرتا ہے وہ اس میں داخل ہے ‘ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اس آیت کو تلاوت کیا اور کہا : اگر اللہ تعالیٰ نے اس پر ہمارا مواخذہ کیا تو ہم ہلاک ہوجائیں گے ‘ پھر وہ رونے لگے ‘ جب حضرت ابن عباس (رض) سے اس کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمان پر رحم کرے ‘ جس طرح ان کو رنج ہوا ہے مسلمانوں کو بھی اس طرح رنج ہوا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا ‘ ان روایات کی بناء پر بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے لیکن زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں محکم ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال کا محاسبہ کرے گا اور انہوں نے جن کاموں کا پختہ عزم کیا ہے خواہ انہوں نے وہ کام نہیں کیے ان کا بھی محاسبہ کرے گا اور مؤمنین کی مغفرت فرما دے گا اور کفار اور منافقین کا مواخذہ فرمائے گا ‘ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : دل میں جو خواطر اور وساوس آتے ہیں ان کی سزا میں دنیا میں مصائب اور آلام پہنچتے ہیں۔ بعض علماء نے اس آیت سے تکلیف مالایطاق پر استدلال کیا ہے کیونکہ خواطر قلب سے بچنا انسان کی طاقت میں نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا مکلف کیا ہے ‘ ابن عطیہ نے کہا : یہ استدلال صحیح نہیں ہے کیونکہ خواطر قلب کی یہاں تاویل نیات ‘ عزائم اور اعتقادات سے کی گئی ہے اور وہ انسان کے اختیار میں ہیں۔ (البحر المحیط ج ٢ ص ٧٥٤ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 283