أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا تَدَايَنۡتُمۡ بِدَيۡنٍ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكۡتُبُوۡهُ ‌ؕ وَلۡيَكۡتُب بَّيۡنَكُمۡ كَاتِبٌۢ بِالۡعَدۡلِ‌ ۚ وَلَا يَاۡبَ كَاتِبٌ اَنۡ يَّكۡتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ‌ فَلۡيَكۡتُبۡ ‌ۚوَلۡيُمۡلِلِ الَّذِىۡ عَلَيۡهِ الۡحَـقُّ وَلۡيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَلَا يَبۡخَسۡ مِنۡهُ شَيۡـــًٔا ‌ؕ فَاِنۡ كَانَ الَّذِىۡ عَلَيۡهِ الۡحَـقُّ سَفِيۡهًا اَوۡ ضَعِيۡفًا اَوۡ لَا يَسۡتَطِيۡعُ اَنۡ يُّمِلَّ هُوَ فَلۡيُمۡلِلۡ وَلِيُّهٗ بِالۡعَدۡلِ‌ؕ وَاسۡتَشۡهِدُوۡا شَهِيۡدَيۡنِ مِنۡ رِّجَالِكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ لَّمۡ يَكُوۡنَا رَجُلَيۡنِ فَرَجُلٌ وَّامۡرَاَتٰنِ مِمَّنۡ تَرۡضَوۡنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنۡ تَضِلَّ اِحۡدٰٮهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحۡدٰٮهُمَا الۡاُخۡرٰى‌ؕ وَ لَا يَاۡبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوۡا ‌ؕ وَلَا تَسۡـــَٔمُوۡۤا اَنۡ تَكۡتُبُوۡهُ صَغِيۡرًا اَوۡ كَبِيۡرًا اِلٰٓى اَجَلِهٖ‌ؕ ذٰ لِكُمۡ اَقۡسَطُ عِنۡدَ اللّٰهِ وَاَقۡوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَاَدۡنٰۤى اَلَّا تَرۡتَابُوۡٓا اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيۡرُوۡنَهَا بَيۡنَكُمۡ فَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ اَلَّا تَكۡتُبُوۡهَا ‌ؕ وَاَشۡهِدُوۡۤا اِذَا تَبَايَعۡتُمۡ ۖ وَلَا يُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّلَا شَهِيۡدٌ ؕ وَاِنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاِنَّهٗ فُسُوۡقٌ ۢ بِكُمۡ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ‌ ؕ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ‌ ؕ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ

ترجمہ:

اے ایمان والو ! جب تم کسی مقررہ مدت تک آپس میں قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو ‘ اور تمہارے درمیان کسی کاتب کو عدل کے ساتھ دستاویز لکھنی چاہیے اور جس شخص کو اللہ نے لکھنا سکھایا ہو اس کو لکھنے سے انکار نہیں کرنا چاہیے ‘ اور جس شخص پر قرض ہو لکھوانا اس کی ذمہ داری ہے اور اس کو اللہ سے ڈرنا چاہیے جو اس کا رب ہے ‘ اور اس (قرض) سے کچھ کم نہ کرے ‘ اور اگر مقروض کم عقل ہو یا کمزور ہو یا وہ خود لکھوانے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اسکا ولی (سرپرست) عدل سے لکھوا دے ‘ اور تم اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ بنا لو ‘ پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ‘ (ان کو گواہ بنا لو) جن کو تم گواہوں سے پسند کرتے ہو کہ ان دو میں سے کوئی ایک (عورت) اگر بھول جائے تو اس ایک کو دوسری یاد دلادے ‘ اور جب گواہوں کو (گواہی کے لیے) بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں اور (قرض) چھوٹا ہو یا بڑا اس کی میعاد تک اس (کی دستاویز) کو لکھنے میں تساہل نہ کرو ‘ اللہ کے نزدیک یہ بہت عادلانہ کاروائی ہے اور گواہی دینے لیے بہت درست طریقہ ہے اور شکوک و شبہات دور کرنیکے بہت قریب ہے ‘ ہاں ! جو تجارتی لین دین تم آپ میں دست بدست کرتے ہو اس کو نہ لکھنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور جب تم آپس میں خریدو فروخت کرو تو گواہ بنا لیا کرو ‘ اور نہ لکھنے والے کو ضرر پہنچایا جائے اور نہ گواہ کو اور اگر تم نے ایسا کیا تو وہ بیشک تمہارا گناہ ہوگا ‘ اور اللہ سے ڈرتے رہو ‘ اور اللہ تمہیں سکھاتا ہے ‘ اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے

تفسیر:

سود کے بعد تجارتی قرضوں کے تحفظات کے ذکر کی مناسبت :

اس سے پہلی آیتوں میں صدقہ دینے اور سود نہ لینے کا حکم دیا تھا اور اس آیتوں میں کاروبار اور تجارت میں لین دین کے احکام بیان فرمائے ہیں ‘ صدقہ دینا اور سود نہ لینا مال میں کمی کا سبب ہے اور تجارت ‘ مال میں افزائش کا سبب ہے ‘ اس سے پہلے رکوع میں سود قرض ‘ قرض کی جائز صورت ہے۔ صدقہ اور قرض میں ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک اور تعاون ہے اور سود میں سنگ دلی اور سرکشی ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے سود کو حرام کر کے مال میں اضافہ کرنیکے ناجائز طریقہ سے روکا اور تجارت کو حلال کرکے مال میں اضافہ کرنیکے جائز طریقہ کی طرف رہنمائی کی۔

مال کے مذموم یا محمود ہونے کا مدار :

اس آیت کو آیت مداینہ کہتے ہیں یہ قرآن مجید کی سب سے طویل آیت ہے ‘ اس میں مال کو محفوظ کرنیکا طریقہ بتایا ہے کہ جب کسی چیز کو مدت معینہ کے ادھار پر فروخت کیا جائے تو بائع اور مشتری کسی تیسری فریق سے لکھوا لیں کہ کتنی رقم ادا کرنی ہے اور کب ادا کرنی ہے اور اس دستاویز پر دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنا لیا جائے اور اگر فریقین سفر میں ہوں جہاں کاتب اور گواہ میسر نہ ہوں تو مقروض بائع کے پاس اپنی کوئی چیز رہن رکھ کر اس کے قبضہ میں دے دے۔

ان آیات سے معلوم ہوا کہ اسلام کے نزدیک مال و دولت کوئی بری چیز نہیں ہے بہ شرطی کہ وہ مال فی نفسہ حلال ہو ‘ حلال ذرائع سے حاصل کیا گیا ہو اور اس مال کو جائز اور نیکی کے راستوں میں خرچ کیا جائے اس لیے اسلام نے کسب حلال اور تجارت کی حوصلہ افزائی کی ہے جیسا کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت دی ہے کہ کاروبار کرنے والے اپنے مال کو محفوظ کرنے کیلیے کیا طریقے اختیار کریں اور ادھار مال فروخت کرتے وقت خریدار سے کس قسم کے تحفظات حاصل کریں ‘ ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(آیت) ” فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ “۔ (الجمعہ : ١٠)

ترجمہ : پھر جب نماز پڑھ لی جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل کو طلب کرو ‘۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مال و دولت کو اللہ کا فضل فرمایا ہے۔

اور امام عبدالرزاق روایت کرتے ہیں :

حضرت ایوب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اپنے اہل کو سوال سے روکنے کے لیے (رزق) حلال کی طلب میں نکلے وہ بھی اللہ کے راستہ میں ہے اور جو شخص اپنے آپ کو سوال سے روکنے کے لیے (رزق) حلال کی طلب میں نکلے وہ نکلے وہ بھی اللہ کے راستہ میں ہے۔ (المصنف ج ٥ ص ٢٧٢۔ ٢٧١ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ)

اور جو شخص مال کو اللہ کی راہ میں نیکی کے راستہ میں خرچ نہ کرے وہ مال مذموم ہے ‘ اس کے متعلق فرمایا :

(آیت) ” الذی جمع مالا وعددہ۔ یحسب ان مالہ اخلدہ۔ کلا لینبذن فی الحطمۃ۔ وما ادرک ما الحطمۃ۔ نار اللہ الموقدۃ۔ التی تطلع علی الافدۃ “۔۔ (الہمزہ : ٧۔ ٢)

اور امام عبدالرزاق روایت کرتے ہیں :

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص مال کو کثیر بنانے کی طلب میں نکلے وہ شیطان کے راستہ میں ہے۔ (المصنف ج ٥ ص ٢٧٢۔ ٢٧١ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! جب تم کسی مقررہ مدت تک آپس میں قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔ (البقرہ : ٢٨٢)

بیع مطلق اور بیع سلم کی تعریفات :

اس آیت میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ جب وہ خریدو فروخت کا کوئی معاملہ ادھار پر کریں تو اس کے تحفظ کے لیے اس کو لکھ لیں اور اس پر گواہ بنالیں ‘ اس آیت میں دین کا ذکر ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت بیع سلم کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ اس لیے ہم بیع مطلق ‘ بیع سلم ‘ دین اور قرض کی تعریفات کو ذکر کریں گے۔ جب باہمی رضا مندی سے ایک چیز کا دوسری چیز سے تبادلہ کیا جائے تو اس کو بیع کہتے ہیں ‘ اس میں سودے کو مبیع اور اس کی قیمت کو ثمن کہتے ہیں۔ بیع تین قسم کی ہے ‘ کسی چیز کو نقد قیمت دے کر خریدا جائے ‘ کسی حاضر چیز کو مدت معینہ کے ادھار پر خریدا جائے یہ دونوں قسمیں جائز ہیں ‘ تیسری قسم یہ ہے کہ کسی ادھار (غائب) چیز کو ادھار پر خریدا جائے مثلا زید کے عمرو پر دس سیر گندم واجب ہیں ‘ اور خالد کے بکر پر پندرہ سیر جو واجب ہیں تو زید ‘ خالد کو اپنے وہ دس سیر گندم فروخت کردے جو عمرو کے ذمہ ہیں اور اس کے معاوضہ میں خالد سے وہ پندرہ سیر جو لے لے جو خالد کے بکر کے ذمہ ہیں ‘ اس کو بیع الدین بالدین یا بیع الکالئی بالکالئی کہتے ہیں ‘ یہ بیع جائز نہیں ہے ‘ نقد کو عربی میں عین کہتے ہیں ‘ اور ادھار کو دین کہتے ہیں۔ اس آیت میں بیع کی دوسری قسم کا ذکر ہے جس میں ایک عوض نقد ہو اور دوسرا مدت معینہ کے ادھار پر ہو اگر مبیع (سودا) نقد ہو اور ثمن (قیمت) مدت معینہ کے ادھار پر ہو تو یہ بیع مطلق ہے اور اگر ثمن نقد ادا کردی جائے اور بیع کو ایک مدت معینہ کے بعد وصول کیا جائے تو اس کو بیع سلم کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس کے نزدیک یہ آیت خاص بیع سلم کے متعلق نازل ہوئی ہے۔

امام ابن جریر روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہ آیت گندم کی بیع سلم کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (گندم کی قیمت کی پیشگی ادائیگی کردی جائے اور فصل کٹنے کے بعد گندم کو وصول کیا جائے) اس میں گندم کی مقدار بھی معلوم ہو اور اس کی مدت بھی معلوم ہونی چاہیے۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ٧٦ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :

حضرت حکیم بن حزام (رض) بیان کرتے ہیں کہ (میں نے عرض کیا :) یا رسول اللہ ! میرے پاس کوئی شخص ایک چیز خریدنے کے لیے آتا ہے جو میرے پاس نہیں ہے ‘ آیا میں اس کے لیے بازار سے چیز خرید لوں ؟ آپ نے فرمایا : جو چیز تمہارے پاس موجود نہیں ہے اس کو فروخت مت کرو۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ‘ ١٣٩ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

اس حدیث کی بناء پر جو چیز موجود نہ ہو اس کو فروخت کرنا جائز نہیں ہے لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ضرورت کی بناء پر بیع سلم کی اجازت دی ہے۔ امام مسلم روایت کرتے ہیں۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں آئے تو لوگ ایک یا دو سال کی مدت پر پھلوں میں بیع سلم کرتے تھے تو آپ نے فرمایا : جو شخص کھجوروں میں بیع سلم کرے اس کا کیل معلوم ہو اور وزن معلوم ہو (یعنی مقدار معلوم ہو) اور اس کی مدت معلوم ہو۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ٣١ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

بیع سلم کی شرائط :

بیع سلم کو بیع سلف بھی کہتے ہیں : سلم اور سلف کا معنی ہے : تسلیم اور تقدیم ‘ کسی چیز کو پہلے دینا ‘ اور اس کو سپرد کرنا ‘ شریعت میں بیع سلم اس عقد کو کہتے ہیں جس میں ثمن پہلے واجب ہو اور مبیع بعد میں میعاد مقرر پر واجب ہو۔

علامہ عبداللہ بن محمود موصلی حنفی لکھتے ہیں :

ہر وہ چیز جس کی صفت اور مقدار کو منضبط کرنا ممکن ہو اس کی بیع سلم جائز ہے ‘ ورنہ نہیں بیع سلم کی شرائط یہ ہیں : اس چیزوں کو معین کیا جائے : جنس ‘ نوع ‘ وصف ‘ مدت ‘ مقدار ‘ جس جگہ مبیع کو سپرد کیا جائے ‘ کیل ‘ وزن اور عدد کی تعیین کرنا ‘ اور عقد کے بعد علیحدگی سے پہلے ثمن پر قبضہ کرنا ضروری ہے ‘ اس چیز میں بیع سلم صحیح نہیں ہے جو عقد کے وقت سے لے کر تسلیم کرنے کی مدت تک موجود نہ رہے ‘ نہ جواہر میں صحیح ہے ‘ حیوان ‘ اس کے گوشت اور اس کے اعضاء میں بھی صحیح نہیں ہے ‘ خشک سمندری مچھلی میں صحیح ہے ‘ کسی معین شہر کے غلہ میں بیع سلم صحیح نہیں ہے ‘ اگر کپڑے کا طول اور عرض معین کردیا جائے تو صحیح ہے ‘ جس چیز میں بیع سلم کی گئی ہے اس میں قبضہ سے پہلے تصرف کرنا صحیح نہیں ہے اور نہ اس کے ثمن میں قبضہ سے پہلے تصرف کرنا صحیح ہے۔

(الاختیار ج ٢ ص ٣٨۔ ٣٣‘ مطبوعہ دار فراس للنشر والتوزیع ‘ مصر)

دین اور قرض کی تعریفیں اور ان کا فرق :

علامہ شامی لکھتے ہیں :

جو چیز کسی عقد ‘ یا کسی چیز کے ضائع یا ہلاک کرنے سے کسی کے ذمہ واجب ہوگئی ہو ‘ یا کسی چیز کو قرض لینے کی وجہ سے کسی کے ذمہ لازم ہوگئی ہو وہ دین ہے ‘ دین قرض سے عام ہے ‘ دین میں مدت کا مقرر کرنا واجب ہے عام ازیں کہ مدت معلوم ہو یا مجہول ہو ‘ لیکن اگر جہالت معمولی ہو جیسے فصل کی کٹائی یا دانہ کو بھوسے سے الگ کرنے کا وقت تو یہ جائز ہے اور اگر غیر معمولی ہو تو جائز نہیں ہے ‘ جیسے جب آندھی آئے گی ‘ ” ہدایہ وغیرہ میں ہے کہ معمولی جہالت دین میں برداشت کی ہے۔ (رد المختار ج ٤ ص ١٦٦‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

نیز علامہ شامی لکھتے ہیں :

اور قرض میں مدت کا تعین کرنا لازم نہیں ہے ‘ یعنی اگر قرض میں مدت کا تعین کردیا جائے تو وہ غیر لازم ہونے کے باوجود صحیح ہے ‘ اور قرض دینے والامدت کا تین کرنے کے بعد اس سے رجوع کرسکتا ہے ‘ لیکن ” ہدایہ “ میں یہ کہا ہے کہ قرض میں مدت کا تعین کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ قرض ابتداء اعارہ ہے اور انتہاء معاوضہ ہے اور ابتداء کے اعتبار سے اس میں مدت کا تعین کرنا لازمی نہیں ہے جیسا کہ عاریۃ چیز دینے میں ہے اور انتہاء کے اعتبار سے اس میں مدت کا تعین کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ قرض انتہاء معاوضہ ہے ‘ اگر کسی قرض دینے والے نے ایک درہم ایک ماہ بعد ایک درہم واپس لیا تو یہ ایک درہم کی ایک درہم کے عوض ایک ماہ کے ادھار پر بیع ہوگی اور یہ ربا النسیئۃ (سود) ہے اس لیے قرض میں مدت کا تعین کرنا جائز نہیں ہے۔ (رد المختار ج ٤ ص ‘ ١٧٠ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ علاء الدین حصکفی لکھتے ہیں :

لغت میں قرض کا معنی ہے : جس کو تقاضا کرنے کے لیے دیا جائے اور شرع میں اس کا معنی ہے : جو مثلی چیز تقاضا کرنے کے لیے دی جائے ‘ مثلی سے مراد وہ مکیل ‘ موزون اور معدود چیز ہے یعنی اس چیز کی مثل میں ایسا فرق نہ ہو جس سے قیمت مختلف ہوجائے جیسے انڈا اور اخروٹ وغیرہ ‘ اس لیے درہم ‘ دینار ‘ اخروٹ ‘ انڈے ‘ گوشت ‘ روٹی ‘ کاغذ اور سکون وغیرہ میں قرض کا لین دین جائز ہے۔ (درمختار علی ھامش رد المختار ج ٤ ص ١٧٢۔ ١٧١ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

آیت مداینہ کے حکم کا تمام دیون کا شامل ہونا :

علامہ ابوبکر جصاص حنفی لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے خبر دی ہے کہ بیع سلم جس میں مدت مقررہ کے بعد مبیع کی ادائیگی کی جاتی ہے وہ بھی اس آیت کے عموم میں داخل ہے ‘ لہذا ہر وہ دین جس میں مدت مقرر ہو وہ اس آیت میں مراد ہے خواہ وہ کسی منافع کا بدل ہو یا کسی معین چیز کا عوض ہو اس لیے جس اجرت اور مہر کی میعاد مقرر ہو ‘ اسی طرح عقد خلع ‘ قتل عمد کی دیت اور بدل کتابت جن کی ادائیگی کی میعاد مقرر ہو وہ سب اس آیت سے مراد ہیں کیونکہ یہ وہ دیون ہیں جو کسی عقد سے ثابت ہیں اور ان میں ادائیگی کی میعاد مقرر ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے جو دین کے لکھنے اور اس پر گواہ بنانے کا حکم دیا ہے وہ ان تمام عقود اور دیون پر لاگو ہے ‘ اسی طرح گواہوں کا عدد اور ان کے جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں وہ بھی ان تمام عقود میں جاری ہوتے ہیں کیونکہ اس آیت کے الفاظ کسی ایک دین کے ساتھ خاص نہیں ہیں اسی وجہ سے جب نکاح میں عورت کا مہر دین موجل ہو تو اس پر دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنایا جاتا ہے ‘ اسی طرح عقد اجارہ ‘ بدل صلح وغیرہ تمام دیون کے عقود میں اسی طرح حکم جاری ہوجائے گا۔ (احکام القرآن ج ١ ص ٤٨٤۔ ٤٨٣‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

دین پر مبنی عقود کی دستاویز لکھوانے ‘ اس پر گواہ بنانے یارہن رکھنے کا شرعی حکم :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے معاملہ کو لکھنے اور اس پر گواہ بنانے کا حکم دیا ہے ‘ اس کے متعلق علامہ جصاص لکھتے ہیں :

فقہاء کا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اس آیت میں دین کے معاملہ کو لکھنے ‘ اس پر گواہ بنانے اور اس کے لیے کسی چیز کو رہن رکھنے کا جو حکم دیا ہے یہ حکم استحباب ‘ ہماری بہتری اور خیر خواہی ‘ ارشاد اور دین اور دنیا میں احتیاط کے لیے ہے اور اس میں کوئی چیز بھی واجب نہیں ہے ‘ اور ابتداء سے آج تک تمام امت مسلمہ تمام شہروں میں دین پر مبنی عقود بغیر کسی کو گواہ بنائے کرتی رہی ہے ‘ اور ہر دور میں علماء ‘ فقہاء اور اہل فتوی حضرات کو اس کا علم ہوتا تھا اور ان میں سے کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا ‘ اگر اس قسم کے ادھار کے معاملات کی دستاویز لکھنا یا اس پر گواہ بنانا ‘ یا رہن رکھنا واجب ہوتا تو اس کے ترک پر اعتراض کیا جاتا اور یہ اس کی دلیل ہے کہ یہ امور مستحب ہیں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد سے لے کر آج تک یہی منقول ہے اور اگر صحابہ اور تابعین ان عقود پر لازما گواہ بناتے تو یہ چیز تواتر سے منقول ہوتی (احکام القرآن ج ١ ص ٤٨٢‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ بنالو ‘ پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں (ان کو گواہ بنالو) جن کو تم گواہوں سے پسند کرتے ہو ‘ کہ ان دو میں سے کوئی ایک (عورت) اگر بھول جائے تو اس ایک کو دوسری یاد دلادے (البقرہ : ٢٨٢)

شہادت کا لغوی اور اصطلاحی معنی :

علامہ ابن اثیر الجزری لکھتے ہیں :

جس چیز کا مشاہدہ کیا ہو یا جس پر کوئی شخص حاضر ہو اس کی خبر دینا لغت میں شہادت ہے۔ (نہایہ ج ٢ ص ٥١٤‘ مطبوعہ ایران ‘ ١٣٦٤ ھ)

علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :

بصیرت سے یا آنکھوں کے ساتھ دیکھنے سے جس چیز کا علم حاصل ہو اس کی خبر دینے کو شہادت کہتے ہیں۔ (المفردات ص ٢٦٨‘ مطبوعہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

علامہ بویطی شافعی لکھتے ہیں :

جو شخص کسی جگہ حاضر ہو یا اس نے کبھی کسی چیز کو دیکھا ہو اس کی یقینی خبر دینے کو شہادت کہتے ہیں اور کبھی اس چیز کو خبر کو شہادت کہتے ہیں جس کا اس کو یقین ہو یا وہ چیز مشہور ہو۔ (شرح المہذب ج ٢٠ ص ٢٢٥‘ مطبوعہ بیروت)

علامہ ابن ہمام حنفی لکھتے ہیں :

کسی حق کو ثابت کرنے کے لیے ” میں گواہی دیتا ہوں “ کے الفاظ کے ساتھ مجلس قضاء میں سچی خبر دینا شہادت ہے۔ (فتح القدیر ج ٦ ص ٤٤٦‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ سکھر)

علامہ ابن نجیم نے لکھا ہے کہ ” اشھد “ کا لفظ اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ لفظ قسم کو متضمن ہے گویا کہ گواہ یہ کہتا ہے کہ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ میں نے یہ واقعہ اسی طرح دیکھا ہے اور اب میں اس کی خبردے رہا ہوں۔

شہادت کی اقسام :

(الف) عینی شہادت : یعنی گواہ آنکھوں سے دیکھے ہوئے کسی واقعہ کو بیان کرے ‘ یہی شہادت فیصلہ کن ہوتی ہے (ہدایہ اخیرین ص ١٥٩)

(ب) سمعی شہادت : یعنی گواہ کسی چیز کو سن کر اس کی شہادت دے ‘ جن امور کا تعلق مسموعات سے ہو ‘ ان میں سمعی شہادت اتنی ہی معتبر ہوتی ہے جتنی عینی شہادت ہے۔ (ہدایہ اخیرین ص ١٦٠)

(ج) شہادت علی الشہادت : اصل گوہ کسی شخص کو اپنی شہادت پر شاہد بنائے تب یہ گواہ اصل کی شہادت دے سکتا ہے۔ (ہدایہ اخیرین ص ١٥٨)

قرآن مجید کی روشنی میں شہادت کا بیان :

شہادت کے ساتھ دو حکم متعلق ہوتے ہیں ایک تحمل شہادت ہے اور دوسرا اداء الشہادت۔ تحمل شہادت کا مطلب کسی وقوعہ کا معائنہ کرکے اس کو سمجھ کر منضبط کرنا۔ ١ (ڈاکٹر وہبہ زحیلی ‘ الفقہ الاسلامی واداۃ ج ٦ ص ٥٥٨‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ) اور اداء الشہادت کا مطلب ہے : اس شہادت کو قاضی کے سامنے ادا کرنا تحمل شہادت کے متعلق قرآن مجید کی یہ آیات ہیں :

(آیت) ” واستشھدوا شھیدین من رجالکم ‘ فان لم یکونا رجلین فرجل وامراتن ممن ترضون من الشھدآء “۔ (البقرہ : ٢٨٢)

اور اپنے مردوں سے دو گواہ بناؤ پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ‘ ان گواہوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو۔

(آیت) ‘ وا واشھدوا اذاتبایعتم “۔ (البقرہ : ٢٨٢)

ترجمہ : اور جب تم خریدو فروخت کرو تو گواہ بنالو “۔

(آیت) “ واشھدوا ذوی عدل منکم “۔ (الطلاق : ٢)

ترجمہ : اور اپنوں میں دو عادل (نیک) شخصوں کو گواہ بنالو “۔

اور اداء شہادت کے متعلق قران مجید کی یہ آیات ہیں :

(آیت) “ واقیموا الشھادۃ للہ “۔ (الطلاق : ٢)

ترجمہ : اور اللہ کی خاطرشہادت ادا کرو۔

(آیت) ” ولایاب الشھدآء اذا ما دعوا “۔ (البقرۃ : ٢٨٢)

ترجمہ : اور جب گواہوں (گواہی کے لیے) بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں۔

(آیت) ” ولاتکتموا الشھادۃ، ومن یکتمھا فانہ اثم قبلہ “۔ (البقرۃ : ٢٨٢)

ترجمہ : اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو گواہی چھپاتا ہے تو بیشک اس کا دل گنہ گار ہے۔

شہادت کا حکم :

علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں کہ تحمل شہادت اور اداء شہادت دونوں فرض کفایہ ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ” ولایاب الشھدآء ادا مادعوا “۔ اور جب گواہوں کو گواہی کے لیے بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں “ نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (آیت) ” ولاتکتموا الشھادۃ، ومن یکتمھا فانہ اثم قبلہ “۔ (البقرۃ : ٢٨٢) اور گواہی نہ چھپاؤ اور جو گواہی چھپائے تو بیشک اس کا دل گنہ گار ہے “ نیز اس لیے کہ شہادت ایک امانت ہے اور باقی امانتوں کی طرح اس کا ادا ہونا لازم (المغنی ج ١٠ ص ٣٥٤‘ مبطوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

علامہ ابوالحسن مرغینانی (صاحب ” ہدایہ “ ) لکھتے ہیں : شہادت کا ادا کرنا واجب ہے ‘ اور جب مدعی شاہد کو بلائے تو شہادت کو چھپانا جائز نہیں ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ” ولایاب الشھدآء اذا ما دعوا “۔ (البقرۃ : ٢٨٢) اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (آیت) ” ولاتکتموا الشھادۃ ، “۔ (البقرۃ : ٢٨٢) اور مدعی کا گواہ کو طلب کرنا اس لیے شرط ہے کہ یہ مدعی کا حق ہے ‘ سو باقی حقوق کی طرح یہ بھی موقوف ہے ‘ اور حدود میں شہادت دینے پر گواہ کو طلب کرنا اس لیے شرط ہے کہ یہ مدعی کا حق ہے ‘ سو باقی حقوق کی طرح یہ بھی طلب پر موقوف ہے ‘ اور حدود میں شہادت دینے پر گواہ کو اختیار ہے کہ خواہ ستر کرے خواہ اظہار کرے کیونکہ دونوں چیزوں میں ثواب ہے پردہ پوشی میں بھی اور اقامت حدود میں بھی اور ستر افضل ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ہزال (رض) سے فرمایا : کاش تم اپنے کپڑے سے اس کا ستر کرلیتے۔ (سنن ابوداؤد، ج ٢ ص ٢٤٥) اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے کسی مسلمان کی پردہ پر شی کی اللہ تعالیٰ اس کی دنیا اور آخرت میں پردہ پوشی کرے گا۔ (بخاری ج ١ ص ٣٣٠) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام سے حدود ساقط کرنے کے بارے میں جو روایات منقول ہیں ان سے ستر کا افضل ہونا صراحۃ معلوم ہوتا ہے (ہدایہ اخیرین ص ١٥٨ مطبوعہ مکتبہ شرکتہ علمیہ ‘ ملتان)

علامہ مرغینانی کی عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مطلقا ستر افضل ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے ‘ اگر کوئی شخص گناہ کرنے کے بعد اس پر نادم ہو تو اس کی پردہ پوشی کرنا افضل ہے اور جو شخص علی الاعلان بدکاری کرتا ہو جس سے حدود الہیہ کا احترام مجروح ہوتا ہو تو پھر اس کے خلاف شہادت دینا افضل ہے۔

علامہ ابن ہمام لکھتے ہیں کہ تحمل شہادت میں مسلمان کے حق کا تحفظ ہے اور مسلمان کے حق کا تحفظ کرنا اولی ہے ‘ اور تحمل شہادت سے انکا کرنا خلاف اولی یا مکروہ تنزیہی ہے اور قرآن مجید کی جن آیات میں شہداء کا لفظ آیا ہے اس سے مراداداء شہادت کرنے والا ہے کیونکہ شہادت تحمل کرنے والے کو شاہد مجازا کہا جاتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب شاہد کو مدعی بلائے تو شہادت ادا کرنا فرض ہے اور تحمل شہادت کرنا مستحب ہے (فتح القدیر ج ٦ ص ٤٤٧۔ ١٤٦‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ سکھر)

شہادت کی تعریف ‘ رکن اور سبب وغیرہ کا بیان :

مجلس قضاء میں کسی شخص کے حق کو ثابت کرنے کے لیے لفظ ” اشھد “ (میں گواہی دیتا ہوں) کے ساتھ سچی خبر بیان کرنا شہادت ہے۔ (فتح القدیر)

شہادت کا رکن لفظ ” اشھد “ ہے یعنی میں گواہی دیتا ہوں۔ (تبیین الحقائق)

شہادت کو ادا کرنے کا سبب یہ ہے کہ مدعی گواہ سے شہادت طلب کرے یا مدعی از خود گواہی دے جب کہ گواہ کو یہ علم ہو کہ مدعی کو اپنے حق پر شہادت کا علم نہیں ہے اور اس کے گواہی نہ دینے کی صورت میں مدعی کے حق کے ضائع ہونے کا خدشہ ہو۔

شہادت کا حکم یہ ہے کہ شہادت کے بعد قاضی پر واجب ہے کہ اس شہادت کے مطابق فیصلہ کرے۔ (عنایہ)

تحمل شہادت کی شرائط :

شہادت کی شرائط دو قسم کی ہیں ‘ تحمل شہادت (حصول شہادت) کی شرائط اور ادائیگی شہادت کی شرائط ‘ تحمل شہادت کی شرائط یہ ہیں کہ جس وقت گواہ کسی وقوعہ کو دیکھ رہا ہے اور گواہی کو حاصل کررہا ہے تو وہ شخص مجنون نہ ہو ناسمجھ بچہ نہ ہو اور یہ شخص بصیر ہو ‘ لہذا اندھے کا تحمل شہادت کرنا جائز نہیں ہے ‘ نیز مشہود بہ (جس چیز کی گواہی دینی ہے) کا وہ خود مشاہدہ کرے کسی اور کے مشاہدہ کا تحمل نہ کرے ‘ البتہ بعض اشیاء میں لوگوں سے سن کر تحمل شہادت کرنا بھی جائز ہے۔ (بدائع الصنائع) تحمل شہادت کے لیے بلوغ ‘ حریت ‘ اسلام اور عدالت (نیک چلنی) شرط نہیں ہے حتی کہ اگر تحمل شہادت کے وقت وہ سمجھ دار بچہ ہو یا غلام ہو یا کافر ہو یا فاسق ہو پھر بچہ بالغ ہوجائے یا غلام آزاد ہوجائے یا کافر مسلمان ہوجائے یا فاسق توبہ کرلے اور پھر وہ قاضی کے پاس شہادت دیں تو ان کی شہادت قبول کی جائے گی۔ (البحرالرائق)

بلحاظ شاہد ادائیگی شہادت کی شرائط :

شہادت ادا کرنے کے لیے شاہد میں عقل ‘ بلوغ ‘ بصر اور نطق (گویائی) کی شرط ہے اور یہ کہ اس کو حد قذف نہ لگی ہو (یہ شرط احناف کے نزدیک ہے) اور یہ کہ وہ محض اللہ کے لیے شہادت سے اس کا مقصد نہ کسی نفع کو حاصل کرنا ہو اور نہ کسی ضرر کو در کرنا ہو اور یہ کہ اس مقدمہ میں وہ شخص خود فریق نہ ہو اور یہ کہ اداء شہادت کے وقت اس کو مشہود بہ کا علم ہو اور وہ اس کو یاد ہو (یہ شرط امام ابوحنیفہ کہ نزدیک ہے صاحبین کے نزدیک یہ شرط نہیں ہے) (بدائع الصنائع)

عدالت کی تعریف :

گواہوں کا عادل (نیک) ہونا قاضی پر وجوب قبول کے لیے شرط ہے ‘ نفس شہادت کے جواز کے لیے گواہوں کا عادل ہونا شرط نہیں ہے۔ (البحرالرائق) امام ابوحنیفہ کے نزدیک عدالت ظاہریہ شرط ہے اور عدالت حقیقیہ جو تزکیہ شہود اور تعدیل سے ثابت ہوتی ہے وہ امام اعظم کے نزدیک شرط نہیں ہے اور امام ابویوسف اور امام محمد کے نزدیک عدالت حقیقیہ شرط ہے۔ (البدائع الصنائع) اس زمانہ میں فتوی صاحبین کے قول پر ہے۔ (کافی) امام ابویوسف سے جو عدالت کی تفسیر منقول ہے وہ یہ ہے کہ شہادت میں عدل یہ ہے کہ شاہد کبائر سے مجتنب ہو اور صغائر پر اصرار کرنے والا نہ ہو اور اس کی نیکیاں اس کی برائیوں سے زیادہ ہوں اور اس کی درست باتیں اس کی غلط باتوں سے زیادہ ہوں ‘ یہ عدالت کی سب سے بہترین تفسیر ہے۔ (نہایہ)

عورت کی شہادت کے متعلق فقہاء اسلام کی نظریات :

(١) زنا کے اثبات کے لیے چار آزاد مسلمان مردوں کی گواہی ضروری ہے اور اس میں عورتوں کی گواہی جائز نہیں ہے۔ علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ ‘ امام مالک ‘ امام شافعی ‘ اور امام احمد بن حنبل کا یہی نظریہ ہے۔ ١ (علامہ موفق الدین ابو محمد بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ ‘ المغنی ج ١٠ ص ١٥٥ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ ‘ )

علامہ بن ہمام حنفی۔ ٢ (علامہ کمال الدین ابن ہمام متوفی ٨٦١ ھ فتح القدیر ج ٦ ص ٤٥٠‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ سکھر)

علامہ یحی بن شرف نووی۔ ٣ (علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی ٦٧٦ ھ ‘ روضۃ الطالبین وعمدۃ المفتین ج ١١ ص ٢٥٢‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

اور علامہ ابن رشد مالکی نے بھی اس کی تصریح کی ہے۔ ٤ (قاضی ابوالولید محمد بن احمد بن رشد مالکی اندلسی متوفی ٥٩٥ ھ ‘ بدایۃ المجتہد ج ٢ ص ٣٤٨‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت)

(٢) بقیہ حدود اور قصاص میں کم از کم دو آزاد اور مسلمان مردوں کی گواہی ضروری ہے اور عورتوں کی گواہی جائز نہیں ہے۔ علامہ ابن قدامہ حنبلی نے تصریح کی ہے کہ امام امام ابوحنیفہ ‘ امام مالک ‘ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کا یہی نظریہ ہے۔ ٥ (علامہ موفق الدین ابو محمد بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ ‘ المغنی ج ١٠ ص ١٥٠ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ ‘ )

(٣) عطاء اور حماد سے منقول ہے کہ تین مردوں کی گواہی بقیہ حدود اور قصاص کے اثبات کے لیے کافی ہے۔ یہ حضرات حدود اور قصاص کو بھی اموال پر قیاس کرتے ہیں۔ (المغنی ج ١٠ ص ‘ ١٥٦۔ ١٥٥ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ ‘ )

(٤) شیخ ابن حزم نے فقہاء اربعہ کے اجماع کی مخالفت کی ہے ‘ وہ کہتے ہیں کہ حدود اور قصاص میں عورت کی شہادت مطلقا مقبول ہے چناچہ اٹھ عورتوں کی گواہی سے زنا ثابت ہوجائے گا اور بقیہ حدود اور قصاص میں عورت ایک مرد اور دو عورتیں یا چار عورتیں گواہی دیں تو وہ ثابت ہوجائیں گے۔ (المحلی ج ٩ ص ٣٩٦۔ ٣٩٥‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المینریہ ’ ١٣٥٢ ھ)

(٥) تمام علماء کا اس پر اجماع ہے کہ قرض اور کاروباری معاملات میں ایک مرد کے ساتھ دو عورتوں کی شہادت جائز ہے ‘ علامہ ابن قدامہ حنبلی نے اس کی تصریح کی ہے (المغنی ج ١٠ ص ‘ ١٥٨ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ ‘ )

علامہ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ فقہاء احناف کے نزدیک مالی حقوق کے علاوہ میں مثلا نکاح ‘ طلاق ‘ وصیت ‘ عدت ‘ حوالہ ‘ وقف اور صلح وغیرہ میں بھی ایک مرد کے ساتھ دو عورتوں کی شہادت جائز ہے یعنی حدود اور قصاص کے سوا تمام معاملات میں ایک مرد کے ساتھ دو عورتیں کو گواہ بنانا جائز ہے اور امام مالک اور شافعی کے نزدیک ان معاملات میں عورت کو گواہ بنانا جائز نہیں ہے اور امام احمد کے اس میں دو قول ہیں (فتح القدیر ج ٦ ص ٤٥١‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ سکھر)

(٦) وہ تمام امور جن پر مرد مطلع نہیں ہوتے ‘ مثلا حیض ‘ عدت ‘ رضاعت ‘ ولادت ‘ بکارت ‘ اور عورتوں کے عیوب وغیرہ ان میں صرف ایک عورت کی گواہی بھی جائز ہے ‘ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جن چیزوں کو دیکھنے کی مرد استطاعت نہیں رکھتے ان میں عورتوں کی گواہی جائز ہے۔ (مصنف عبدالرزاق)

علامہ مرغیبانی حنفی۔ ٦ (علامہ ابوالحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی متوفی ٥٩٣‘ ھ ہدایہ اخیرین ص ١٥٥ ھ ‘ مطبوعہ مکتبہ شرکۃ علمیہ ملتان)

شارح المہذب شافعی۔ ٧ (شرح المہذب ج ٢٠ ص ٢٥٦‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت)

علامہ ابن قدامہ حنبلی۔ ٨ (علامہ موفق الدین ابو محمد بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ ‘ المغنی ج ١٠ ص ١٦١ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ ‘ )

اور علامہ ابن رشد مالکی۔ ٩ (قاضی ابوالولید محمد بن احمد بن رشد مالکی اندلسی متوفی ٥٩٥ ھ ‘ بدایۃ المجتہد ج ٢ ص ٣٤٨‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) وغیرہم نے اس کی تصریح کی ہے۔

مالی معاملات میں ایک مرد کے مقابلہ میں دو عورتوں کی شہادت مقرر کرنے کی وجوہات :

عورتوں کی شہادت کے متعلق فقہاء اسلام کے مذاہب بیان کرنے کے بعد ہم دو چیزوں کی وضاحت کریں گے۔ ایک یہ کہ قرض کے لین دین اور کاروباری معاملات میں ایک مرد کی گواہی کے مقابلہ میں دو عورتوں کی گواہی کو کیوں مشروع کیوں مشروع کیا گیا ہے اور دوم یہ کہ حدود اور قصاص میں عورتوں کی گواہی کا کیوں اعتبار نہیں کیا گیا۔

سب سے پہلے یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ جس بات میں دو مرد میسر نہ آنے کی صورت میں ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنانے کا حکم دیا ہے ‘ یہ اختیاری شہادت کا بیان ہے یعنی یہ وہ صورت نہیں ہے کہ جب کسی ہنگامی ‘ ناگہانی یا اضطراری واقعہ میں کسی مالی معاملہ یا کسی انسانی حق میں موقع پر موجود کسی شخص کی گواہی کو اس معاملہ یا حق کے ثبوت میں پیش کرنا ہو ایسے کسی ہنگامی اور ناگہانی واقعہ میں ایک مسلمان عورت تو الگ رہی ‘ کفار کی شہادت سے بھی وہ معاملہ یا حق ثابت ہوجائے گا قرآن مجید کی زیر بحث جس آیت میں ایک مرد کے مقابلہ میں دو عورتوں کو گواہ بنانے کا حکم دیا گیا ہے ‘ اس میں یہ ہدایت کی گئی کہ جب تم اپنے قصد اور اختیار سے اپنے کسی کاروباری معاملہ یا قرض کے لین دین پر گواہ بنانا چاہو تو اپنی پسند اور مرضی سے گواہ بناؤ اور وہ دو مسلمان مرد ہیں یا ایک مسلمان مرد اور دو مسلمان عورتیں ہیں۔

اب رہا یہ سوال کہ توسع اور اختیار کی حالت میں ایک مرد کے مقابلہ میں دو عورتیں کیوں رکھی گئی ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ عدالت میں مدعی علیہ کے خوف گواہی دینا بہت بڑی جرأت ‘ حوصلہ اور دلیری کی بات ہے ‘ کیونکہ جس فریق کے خلاف گواہی دی جاتی ہے ‘ فطری طور پر وہ فریق اس گواہ کا دشمن ہوجاتا ہے اور فریق مخالف ‘ گواہ کو ڈراتا اور دھمکاتا ہے اور مختلف ہتھکنڈوں سے اس کو مرعوب اور متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ عورتیں جب گواہی دینے کے لیے آتی ہیں تو رونے لگتی ہیں یا کوسنا شروع کردیتی ہیں یا وکیل مخالف کے اعتراضات سے گھبرا کر بےربط اور اول فول باتیں کرنا شروع کردیتی ہیں۔

یہ ایک حقیقت ثابتہ ہے کہ عورتیں مردوں سے فطرۃ کمزور ہوتی ہیں اور ان میں مردوں کی بہ نسبت جرأت اور حوصلہ بہت کم ہوتا ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ عورتوں کو سپہ سالار ‘ جنرل اور کمانڈر نہیں بنایا جاتا ‘ دنیا میں معدودے چند عورتیں پائلٹ ہیں اور بالعموم ساری دنیا میں عورتوں کو پائلٹ نہیں بنایا جاتا ‘ غرض ہمت ‘ دلیری اور شجاعت کے تمام کام مردوں کے سپرد کیے جاتے ہیں اور عورتوں کو ان کاموں سے الگ رکھا جاتا ہے۔ چونکہ فریق مخالف کے خلاف گواہی دینا بہت جرأت اور حوصلہ کا کام ہے ‘ اس وجہ سے اسلام نے یہ کام اصالۃ اور بالذات دو مردوں کے سپرد کیا ہے اور اگر کسی عقد اور معاملہ کے وقت دو مرد میسر نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنانے کا حکم دیا ہے ‘ کیونکہ عین ممکن ہے کہ عدالت میں فریق مخالف کی جرح یا اس کے خوف سے عورت اپنی طبعی کمزوری سے گھبرا کرا کچھ کا کچھ کہہ دے تو دوسری عورت اس کو صحیح بات یاد دلا دے ‘ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

(آیت) ” ان تضل احدھما فتذکر احدھما الاخری “۔ (البقرہ : ٢٨٢)

ترجمہ : تاکہ ایک عورت بھول جائے تو دوسری اس کو یاد دلادے۔

علامہ قرطبی اس آیت کی تفسیر میں ضلال کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

شہادت میں ضلال یہ ہے کہ ایک چیز یاد رہے اور دوسری یاد نہ رہے اور انسان سرگشتہ و حیران ہو۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٣ ص ٣٩٧ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

وکلاء بیان کرتے ہیں کہ پچانوے فی صد مقدمات میں جب عورتیں گواہی کے لیے پیش ہوتی ہیں تو یا رو پڑتی ہیں یا گھبرا کر اول فول باتیں کرتی ہے یا کوسنا شروع کردیتی ہیں۔ اس کے مقابلہ میں مرد فطرۃ قوی ‘ جرأت مند اور دلیر ہوتا ہے اور فریق مخالف کے دباؤ سے مرعوب اور متاثر نہیں ہوتا اس لیے وہ عدالت میں حوصلہ ہارے بغیر ٹھیک ٹھیک گواہی پیش کرتا ہے۔ اسلام نے جو نظام حیات پیش کیا ہے وہ چونکہ فطرتی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اس وجہ سے اس نے ایک مرد کے مقابلہ میں دو عورتوں کو گواہی رکھی ہے تاکہ گواہی کے موقعہ پر ان دونوں عورتوں کو ایک دوسری سے طمانیت خاطر رہے اور ڈھارس بندھی رہے اور جب کوئی عورت بوکھلا جائے اور گھبراہٹ میں کچھ کا کچھ کہنے لگے تو دوسری عورت اس کو صحیح بات یاد دلا دے ایک مرد کی گواہی کے مقابلہ میں دو عورتوں کی گواہی کو مقرر کرنے کا دوسرا سبب یہ ہے کہ تجارتی مال کی پیچیدگیوں ‘ لین دین کی باریکیوں اور قرض کی ضروری شرائط اور قیود سے عام طور پر مرد پوری طرح واقف ہوتے ہیں ‘ اس کے برخلاف عورت چونکہ فطری اور شرعی طور پر صرف امور خانہ داری کی ماہر ہوتی ہے اور عام دنیاوی معاملات میں وہ براہ راست ملوث نہیں ہوتی اور اس کی باریکیوں سے کماحقہ واقف ہوتی ہے اس وجہ سے کسی لین دین اور معاہدہ کے وقت فریق مخالف یہ چاہتا ہے کہ اس کے معاملہ پر زیادہ سے زیادہ تجربہ کار اور اہل شخص گواہی دے اس لیے وہ چاہتا ہے کہ اولین مرحلہ میں دو مردوں کو گواہ بنایا جائے اور اگر دو مرد میسر نہ آسکیں تو ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنادیا جائے تاکہ اس کے معاہدہ پر زیادہ سے زیادہ بہتر گواہی پیش کی جاسکے اور اسلام چونکہ دین فطرت ہے اس لیے اس نے انسانی فطرت کے قریب گواہی کا یہ ضابطہ مقرر کیا ہے۔

تیسری وجہ یہ ہے کہ عورت چونکہ فطرۃ منفعل مزاج ہوتی ہے ‘ اس لیے فریق مخالف کے وکیل کی جرح کے موقع پر اس کا اصل مؤقف سے پر قائم رکھنے کے لیے ایک اور گواہ کی ضرورت ہے تاکہ جب وہ منفعل یا متاثر ہو کر اصل مؤقف سے پھسلنے لگے تو دوسری گواہ اس کو سنبھال سکے اور اس کو بروقت اصل مؤقف یاد دلا دے۔

وہ امور جن میں صرف عورت کی گواہی معتبر ہے :

مذکور الصدر بحث سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ مالیات کے اختیاری معاملات میں ایک مرد کے مقابلہ میں دو عورتوں کی گواہی مشروع اور مقرر کرنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اسلام کے نزدیک عورت آدھی اس انسان ہے یا وہ حقیر یا کم درجہ کی مخلوق ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فطرۃ منفعل مزاج ہے یا مرد کے مقابلہ میں جرأت اور حوصلہ کم رکھتی ہے یا اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ وہ عادۃ فطرۃ گھریلو معاملات اور امور خانہ داری میں ماہر ہوتی ہے اور مالیاتی نظام کی باریکیوں اور کاروباری نزاکتوں سے واقف اور ان امور کی ماہر نہیں ہوتی اس لیے ایک مرد کے مقابلہ میں دو عورتوں کی گواہی مشروع اور مقرر کی گئی ہے ورنہ جن معاملات پر اس کی دسترس ہوتی ہے یعنی عورتوں سے متعلق معاملات ‘ ان میں تنہا ایک عورت کی گواہی ہی مشروع اور مقرر کی گئی ہے۔ اگر اسلام کے نزدیک عورت آدمی انسان ہوتی یا ساقط الاعتبار ہوتی تو عورتوں کے مخصوص معاملات میں صرف ایک عورت کی گواہی کو کیوں کافی قرار دیا جاتا اب ہم قارئین کے سامنے ایسی احادیث پیش کررہے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ عورتوں کے مخصوص معاملات میں صرف عورتوں کی گواہی کافی ہے۔ امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت عقبہ بن حارث (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی ‘ ایک اور عورت نے آکر کہا : میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے ‘ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں جا کر یہ واقعہ عرض کیا ‘ آپ نے فرمایا : تم اس عورت کو اب نکاح میں کس طرح رکھ سکتے ہو جب کہ یہ شہادت ہوچکی ہے۔ اس عورت کو طلاق دے دو ۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٣٦٣‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ صرف ایک عورت نے یہ شہادت دی کہ اس نے حضرت عقبہ بن حارث (رض) اور ان کی زوجہ کو دودھ پلایا ہے اور صرف اسی ایک عورت کی شہادت پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عقبہ بن عامر کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دیں ‘ ہرچند کہ فقہاء احناف اور دیگر ائمہ کے نزدیک یہ حدیث استحباب پر محمول ہے ‘ اور رضاعت میں صرف ایک عورت کی شہادت پر فیصلہ کرنا واجب نہیں ہے تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رضاعت میں ایک عورت کی شہادت پر فیصلہ کردیا۔

نیز جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ مرد جن امور کو دیکھنے کے شرعا مجاز نہیں ہیں ان امور میں تنہا عورتوں کی شہادت پر فیصلہ کردیا جائے گا بلکہ صرف ایک عورت کی شہادت پر بھی فیصلہ کردیا جائے گا۔ امام عبدالرزاق روایت کرتے ہیں۔

ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ ابن شہاب نے کہا : اس بات پر سنت کے مطابق عمل ہوتا رہا ہے کہ عورتوں کے بچہ جننے ‘ نومولود بچہ کے رونے اور عورتوں کے ان معاملات میں جن پر مرد مطلع نہیں ہوتے اور صرف عورتیں ہی ان معاملات کی نگہبان ہوتی ہیں ان میں صرف عورتوں کی شہادت جائز ہے ‘ پس جب بچہ جننے والی ایک مسلمان عورت گواہی دے یا ایک عورت سے زیادہ عورتیں نومولود کے رونے کی گواہی دیں تو یہ شہادت جائز ہے۔ (المصنف ج ٨ ص ٣٣٣‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ)

نیز امام عبدالرزاق روایت کرتے ہیں

ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے نومولود کے رونے میں ایک عورت کی شہادت کو جائزقرار دیا۔ (المصنف ج ٨ ص ٣٣٤‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ)

قعقاع بن حکیم بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ تنہا عورتوں کی شہادت حمل اور حیض وغیرہ صرف ان امور جائز ہے جن پر صرف عورتیں ہی مطلع ہوتی ہیں۔ (المصنف ج ٨ ص ٣٣٣‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ)

امام شعبی اور حسن بصری نے کہا کہ جن امور پر مرد مطلع نہیں ہوتے ان میں ایک عورت کی شہادت بھی جائز ہے۔ (المصنف ج ٨ ص ٣٣٣‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ)

عورت کی شہادت کو نصف شہادت قرار دینے کی حکمتیں :

مذکورالصدر احادیث ‘ آثار ‘ اقوال تابعین اور ائمہ مذاہب کی تصریحات سے یہ واضح ہوگیا کہ جو امور عورتوں کے ساتھ مخصوص ہوتے ہیں ‘ ان میں ان میں صرف ایک عورت کی شہادت پر بھی فیصلہ کرنا جائز ہے اس لیے یہ اعتراض صحیح نہیں ہے کہ مالی معاملات کی اختیاری گواہی میں چونکہ ایک مرد کی گواہی کے مقابلہ میں دو عورتوں کی گواہی رکھی گئی ہے اس لیے اسلام نے عورت کو آدھا انسان قرار دیا ہے یا اس کی گواہی کو کمتر قرار دیا ہے ‘ اگر اسلام کے نزدیک عورت آدھا انسان ہوتی یا وہ ذلیل اور حقیر ہوتی تو ان معاملات میں صرف ایک عورت کی گواہی پر فیصلہ کا مدار کیوں رکھا جاتا ؟

اگر مرد یہ اعتراض کریں کہ بعض نسوانی معاملات میں ان کی شہادت اصلا معتبر نہیں ہے ‘ جب کہ ان معاملات میں عورتوں میں سے ایک عورت کی گواہی قبول کرلی جاتی ہے تو مردوں کو اسلام نے بالکل ساقط الاعتبار کردیا اور ان کو آدھے انسان کا درجہ بھی نہیں دیا تو کیا مردوں کا یہ اعتراض درست اور معقول ہوگا ؟ نہیں ! بلکہ یہی کہا جائے گا کہ جن دنیاوی معاملات میں مردوں کو شہادت کی اہلیت ہے وہاں مردوں کی شہادت قبول کی جاتی ہے اسلام نے جس صنف کی شہادت کا جس جگہ اعتبار کیا ہے وہ عین حکمت اور فطرت کے مطابق ہے۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم :

مزید غور فرمائیے کہ اثبات زنا میں دو کے بجائے چار مردوں کی گواہی مقرر کی گئی ہے ‘ اب کیا مرد یہ کہہ سکتے ہیں کہ جناب ہماری گواہی تو آدھی کردی گئی ہے کیونکہ باقی حدود اور معاملات میں دو مردوں کی گواہی کافی ہوتی ہے اور اب زنا میں بجائے دو کے چار مردوں کی گواہی ضروری کی گواہی ضروری قرار دی گئی ہے تو گویا دو مردوں کو ایک کے قائم مقام کیا ہے اور یہ مردوں کو آدھا انسان قرار دینا ہے، اس کے جواب میں بھی یہی کہا جائے گا کہ چونکہ زنا کی سزا بہت سخت رکھی گئی ہے جس میں شادی شدہ زانی کو رجم کردیا جاتا ہے اس لیے اس کے ثبوت کی بھی کڑی شرط رکھی ہے اور ثبوت زنا کو چار مسلمان مردوں کی گواہی پر موقوف کیا گیا ہے۔

پھر یہ چیز بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ شہادت دینا کوئی حق یا انعام نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو عورتیں کہہ سکتی تھیں کہ ہمارا حق کم کردیا گیا ہے ‘ عدالت میں جا کر فریق مخالف کے خلاف گواہی دینا اور اس کی دشمنی مول لینا یہ تو ایک ابتلاء اور مصیبت ہے ‘ بعض اوقات شہادت دینے کے لیے ایک شہر سے دوسرے شہر جانا پڑتا ہے اور سفر کی صعوبتیں اٹھانی پڑتی ہیں۔ اسلام میں صنف نازل پر جیسے اور احسانات کیے ہیں کہ اس پر معاش اور بچوں کی کفالت کا بوجھ نہیں رکھا ‘ ایام حیض میں نمازوں کا مکلف نہیں کیا ‘ حالت حیض ‘ حمل اور رضاعت میں روزے قضاء کرنے کی سہولت دی ہے ‘ اسی طرح اسلام کا عورتوں پر یہ بھی احسان اور انعام ہے کہ اس پر شہادت ادا کرنے کا بوجھ کم سے کم رکھا ہے ‘ حدود اور قصاص کے معاملات جن کی گواہی دینے میں زیادہ خطرہ اور مشقت ہے ان میں اس کو شہادت کا بالکل مکلف نہیں کیا اور مالی معاملات میں اس کے بوجھ کو کم کردیا ہے اور جو بوجھ ایک مرد پر ڈالا جاتا ہے وہ دو عورتوں پر تقسیم کردیا۔ (الحمد للہ علی احسانہ وانعامہ “۔

اس مسئلہ کے دیگر پہلوؤں کو جاننے کے لیے ” شرح صحیح مسلم “ جلد خامس کا مطالعہ فرمائیں ‘ ہم نے وہاں اس مسئلہ کے اور پہلوؤں پر بھی بحث کی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب گواہوں کو (گواہی کے لیے) بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں۔ (البقرہ : ٢٨٢)

گواہی کے لیے بلائے جانے پر گواہوں کے جانے کا شرعی حکم :

اگر کسی معاملہ پر متعدد گواہ ہیں تو ہر گواہ کا گواہی دینا واجب نہیں ہے ‘ بلکہ یہ وجوب کفائی ہے ‘ ان میں سے کسی بھی دو گواہوں نے گواہی دے دی تو باقی سب سے وجوب ساقط ہوجائے گا اور اگر کسی نے گواہی نہیں دی تو سب گنہ گار ہوں گے اور اگر کسی معاملہ پر صرف دو گواہ ہوں تو ان کا گواہی دینا متعین ہے اور جب ان کو گواہی کے لیے بلایا جائے تو ان کا جانا واجب ہے اور نہ جانا مکروہ تحریمی ہے۔

علامہ ابوالحیان اندلسی لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) ‘ قتادہ اور ربیع وغیرہ نے کہا ہے کہ جب گواہوں کو گواہی کے لیے بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں ‘ عطاء اور حسن بصری نے کہا : یہ ممانعت تحریم کے لیے نہیں ہے ‘ گواہ کے لیے گواہی دینا اور نہ گواہی دینا دونوں جائز ہیں ‘ شعبی نے کہا : اگر اس کے علاوہ اور کوئی گواہ نہیں ہے تو اس پر گواہی دینا متعین ہے ورنہ اس کو اختیار ہے ‘ مجاہد ‘ عکرمہ ‘ سعید بن جبیر وغیرہ نے کہا : کہ اگر وہ اس سے پہلے شہادت دے چکے ہیں تو جب ان کو اداء شہادت کیلیے بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں ‘ نقاش نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح مروی ہے اور اگر یہ روایت صحیح ہے تو پھر اس سے عدول نہیں کیا جائے گا اور اداء شہادت سے انکار کی ممانعت تحریمی ہوگی۔

حسن بصری نے کہا : مسلمانوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا مستحب ہے ‘ اگر گواہ زیادہ ہوں اور مدعی کے حق میں معطل ہونے کا خدشہ نہ ہو تو جس گواہ کو بلایا گیا ہے اس کا جانا مستحب ہے ‘ اور کسی عذر کی وجہ سے ان کا نہ جانا بھی جائز ہے اور اس میں گناہ نہیں ہے اور اگر گواہ کو یہ خدشہ ہو کہ اس کے نہ جانے سے کسی کا حق معطل ہوجائے گا تو پھر اس کا شہادت دینے کے لیے جانا واجب ہے۔ (البحر المحیط ج ٢ ص ٣٧٥ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور نہ کسی لکھنے والے کو ضرر پہنچایا جائے اور نہ گواہ کو اور اگر تم نے ایسا کیا تو وہ بیشک تمہارا گناہ ہوگا۔ (البقرہ : ٢٨٢)

کاتب اور گواہ کے ضرر کا بیان :

اس آیت کی دو قرأتیں ہیں ‘ ایک قرأت کے مطابق معنی یہ ہے کہ نہ کاتب کو ضرر پہنچایا جائے نہ گواہ کو ‘ اس قرأت کے مطابق صاحب حق کو اس سے منع کیا گیا ہے کہ وہ کاتب اور گواہ کو ان کے کاموں سے روک کر انہیں لکھنے اور گواہی دینے کے لیے مجبور کریں یا ان کو اس سلسلہ میں ہونے والے اخراجات ادا نہ کریں یا لکھنے اور گواہی دینے میں جو ان کا وقت خرچ ہو اس کا معاوضہ ان کر ادا نہ کریں۔

اور دوسری قرأت کے مطابق معنی یہ ہے کہ کاتب اور گواہ صاحب حق کو ضرر نہ پہنچائیں ‘ مثلا کاتب صاحب حق کے املاء کرانے کے خلاف کچھ کا کچھ لکھ دے ‘ یا گواہ اپنی طرف سے گواہی میں کچھ بڑھا دے یا کچھ کم کردے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر تم سفر میں ہو (اور تمہیں دین پر مبنی کوئی معاملہ کرنا ہو) اور تمہیں دستاویز لکھنے والا نہ ملے تو قبضہ دی ہوئی رہن (کی بنا پر دین کا معاملہ کرو) پھر اگر تم کو ایک دوسرے پر اعتبار ہو تو جس پر اعتبار کیا گیا ہے اسے چاہیے کہ وہ اس کی امانت ادا کردے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے۔ (البقرہ : ٢٨٣)

سفر میں حضر میں رہن رکھنے کا جواز :

اس آیت میں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اگر تم سفر میں ہو اور تم نے کسی شخص سے کوئی چیزادھار خریدنی ہے اور بائع کو تحفظ فرہم کرنے کے لیے تمہیں دوران سفر کاتب یاگواہ دستیاب نہ ہوں تو بائع کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اپنی کوئی چیز اس کے پاس رہن رکھ دو اور اور مقبوضہ کے لفظ میں یہ اشارہ ہے کہ بائع اس چیز پر صرف قبضہ کرے گا ‘ وہ اس میں تصرف کرنے اور اس سے استفادہ کرنے کا مجاز اور مختار نہیں ہے ‘ بعض فقہاء تابعین نے یہ کہا ہے کہ اگر کاتب موجود ہو تو پھر کسی چیز کو گروہ رکھنا جائز نہیں ہے۔

امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ضحاک نے کہا : اگر کوئی شخص سفر میں ہو اور وہ مدت معینہ کے ادھار پر کسی چیز کی بیع کرے اور اس کو کاتب نہ ملے تو اس کے لیے رہن پر قبضہ کرنا جائز ہے اور اگر کاتب ہو تو پھر اس کے لیے رہن پر قبضہ کرنا جائز نہیں ہے۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ٩٢ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

اور بعض فقہاء تابعین نے یہ کہا ہے کہ صرف سفر میں رہن رکھنا جائز ہے اور حضر میں رہن رکھنا جائز نہیں ہے۔

امام ابن جریر روایت کرتے ہیں :

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ رہن پر قبضہ کرنا صرف سفر میں جائز ہے ‘ حضر میں جائز نہیں ہے۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ٩٢ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

لیکن یہ دونوں قیدیں اتفاقی ہیں اور ان کا مفہوم مخالف معتبر نہیں ہے ‘ علامہ ابوبکر جصاص حنفی لکھتے ہیں :

تمام اہل علم کے نزدیک یہ حکم اس طرح نہیں ہے اور تمام شہروں کے فقہاء اور عامۃ السلف کے نزدیک شہر میں بھی کسی چیز کا گروی رکھنا جائز ہے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ٥٢٣‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو کے بدلہ اپنی زرہ رہن رکھی ‘ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جو کی روٹی اور پرانی چربی لے کر گیا اور میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا : آل محمد کے پاس صبح اور شام کے لیے صرف ایک صاع ہے۔ (چار کلو گرام)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زرہ گروی رکھ کر ایک یہودی سے طعام خریدا (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٣٤١ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک یہودی سے مدت معینہ کے ادھار پر طعام خریدا اور اپنی زرہ گروی رکھ دی ‘ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں ایک یہودی کے پاس اپنی زرہ گروی رکھی اور اس سے اپنے اہل کے لیے جو خریدے۔ (سنن ابن ماجہ ص ‘ ١٧٥‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

رہن کی تعریف اور رہن سے فائدہ اٹھانے میں مذاہب فقہاء :

رہن کا معنی ہے : گروی رکھنا ‘ اصطلاح شرع میں اس کا معنی ہے : دوسرے کے مال کو اپنے حق میں اس لیے روکنا ‘ کہ اس کے ذریعہ سے اپنے حق کو کلا یا جزء وصول کرنا ممکن ہو ‘ رہن میں رکھی ہوئی چیز کو مرہون ‘ رہن رکھنے والے کو راہن اور جس کے پاس کوئی چیز رہن رکھی جائے اس کو مرتہن کہتے ہیں ‘ عقد رہن بالاجماع جائز ہے۔ (ہدایہ اخیرین ص ٥١٦‘ مطبوعہ شرکۃ علمیہ ‘ ملتان)

امام ابوحنیفہ ‘ امام مالک اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک رہن شدہ چیز سے نفع حاصل کرنا جائز نہیں ہے ‘ اور امام شافعی کے نزدیک جائز ہے ‘ ان کی دلیل یہ حدیث ہے ‘ امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رہن شدہ سواری پر اس کے خرچ کے بدلہ میں سواری کی جائے گی اور اس کے تھنوں سے دودھ نکال کر پیا جائے گا اور جو اس پر سواری کرے گا یا پئے گا خرچ اس کے ذمے ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٣٤١‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

علامہ بدرالدین عینی حنفی اس حدیث کے جواب میں لکھتے ہیں :

اس حدیث سے ابراہیم نخعی ‘ امام شافعی اور ظاہریہ (غیرمقلدین) نے اس پر استدلال کیا ہے کہ رہن رکھوانے والا (مقروض) سواری پر اپنے خرچ کے باعث سواری کرے گا اور اس کو دودھ پئے گا ‘ ابن حزم نے ” محلی “ میں لکھا ہے کہ رہن رکھوانے والا جس طرح رہن رکھوانے سے پہلے اس سے منافع حاصل کرتا تھا اسی طرح رکھوانے کے بعد بھی اس چیز سے منافع حاصل کرتا رہے گا اور اس سے کسی منفعت کو روکا نہیں جائے گا اور رہن شدہ جانور پر سواری کرنے اور اس کا دودھ پینے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جس طرح پہلے یہ منافع رہن رکھوانے والے کے لیے تھے اب بھی رہیں گے ‘ ہاں ! اگر وہ ان جانوروں کو ضائع کرے تو پھر وہ ان پر خرچ نہیں کرے گا ‘ اور رہن رکھنے والا (راہن) ان پر خرچ کرے گا اور وہی اس پر سواری کرنے اور اس سے دودھ پینے کا نفع بھی حاصل کرے گا ‘ اور اس کی رقم کو اس کے قرض میں محسوب نہیں کیا جائے گا ‘ قرض کم ہو یا زیادہ اور یہ اس لیے کہ رہن رکھوانے والے کی ملکیت مرہون میں باقی ہے اور وہ مرہون چیز اس کی ملکیت سے خارج نہیں ہوئی لیکن اس جانور پر سواری کرنا اور اس کا دودھ دوہنا خصوصیت سے اس شخص کا حق ہے جو اس جانور پر خرچ کرے جیسا کہ حضرت ابوہریرہ (رض) کی اس حدیث میں ہے۔

امام ابوحنیفہ ‘ امام ابویوسف ‘ امام محمد ‘ امام مالک اور ایک روایت میں امام احمد نے یہ کہا ہے کہ رہن رکھوانے والے کا رہن سے نفع حاصل کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ رہن رکھنے کے منافی ہے ‘ رہن کا معنی ہے : دائمی طور پر کسی چیز کو محبوس کرنا ‘ لہذا وہ اس سے نفع اٹھانے کا مالک نہیں ہے ‘ اور مر ہوں سے خدمت طلب کرنا ‘ اس پر سواری کرنا ‘ اس کا دودھ دوہنا اور اس میں سکونت رکھنا وغیرہ اس کے لیے جائز نہیں ہے ‘ اور رہن رکھنے والے کے سوا اور اس کی اجازت کے بغیر کسی اور کے ہاتھ پر مرہون کو فروخت کرنا بھی اس کے لیے جائز نہیں ہے ‘ اور اگر اس نے فروخت کردیا تو یہ مرتہن (رہن رکھنے والے) کی اجازت پر موقوف ہے ‘ اگر اس نے اجازت دے دی تو یہ فروخت کرنا جائز ہوگا اور اب قیمت اس کے پاس رہن ہوگی ‘ اس طرح مرتہن کے لیے بھی رہن سے نفع حاصل کرنا جائز نہیں ہے ‘ حتی کہ اگر غلام رہن ہو تو وہ اس سے خدمت طلب نہیں کرے گا ‘ سواری کا جانور ہو تو اس پر سواری نہیں کرے ‘ اگر کپڑا ہو تو اس کو نہیں پہنے گا ‘ مکان ہو تو اس میں سکونت نہیں کرے گا اور مصحف ہو تو اس کو تلاوت نہیں کرے گا ‘ اور راہن (رہن رکھوانے والے) کی اجازت کے بغیر مرتہن کے لیے فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔ امام طحاوی، نے کہا ہے کہ علماء کا اس پر اجماع ہے کہ رہن کا خرچ راہن کے ذمہ ہے اور اس پر خرچ کرنا مرتہن کی ذمہ داری نہیں ہے اور جس حدیث سے امام شافعی نے استدلال کیا ہے وہ مجمل ہے ‘ اس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کون رہن پر سواری کرے گا اور کون اس کا دودھ پئے گا ‘ پس مخالف کے لیے یہ کہاں سے جائز ہوگیا کہ اس کو راہن کے ساتھ مخصوص کر دے نہ کہ مرتہن کے لیے اور بغیر دلیل کے اس کو ان میں سے کسی ایک کے ساتھ خاص کردینا جائز نہیں ہے ‘ اور ہشیم نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب سواری کا جانور رہن تو مرتہن پر اس کو چارہ ڈالنا لازم ہے اور اس کے تھنوں سے دودھ نکالا جائے گا اور اس کا خرچ اس کے ذمہ ہے جو اس کا ددوھ پئے گا ‘ اور اس پر سواری کرے گا ‘ اس حدیث سے یہ متعین ہوگیا کہ ” صحیح بخاری “ کی حدیث میں سواری کرنے اور دودھ پینے کے منافع مرتہن پر محمول ہیں نہ کہ راہن پر ‘ مرتہن رہن پر سواری کرے گا اور اس کا دودھ نکالے گا اور اس کے معاوضہ میں اس کا خرچ اٹھائے گا ‘ ہمارے نزدیک یہ حکم اس وقت تھا جب سود لینا مباح تھا اور اس قرض سے منع نہیں فرمایا تھا جس میں نفع لیا جائے ‘ اور نہ غیر مساوی چیزوں کی بیع سے منع فرمایا تھا ‘ اس کے بعد آپ نے سود کو حرام کردیا اور ہر اس قرض سے منع فرمایا دیا جس سے کوئی منفعت حاصل ہو ‘۔

علماء کا اس پر اجماع ہے کہ رہن کا خرچ راہن کے ذمہ ہے مرتہن کے ذمہ نہیں ہے اور مرتہن کیلیے رہن کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ رہن کا تقاضا یہ ہے کہ راہن اس کو مرتہن کے قبضہ میں دے دے اور پھر اس سے سروکار نہ رکھے اسی لیے اس پر اجماع ہے کہ اگر راہن اپنی لونڈی رہن رکھ دے تو وہ اس سے مباشرت نہیں کرسکتا ‘ نیز امام طحاوی نے شعبی سے روایت کیا ہے کہ رہن سے کوئی نفع حاصل نہیں کیا جائے گا۔ (عمدۃ القاری ج ١٣ ص ‘ ٧٤۔ ٧٣ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)

علامہ علاء الدین حصکفی لکھتے ہیں :

رہن سے نفع حاصل کرنا مطلقا جائز نہیں ہے ‘ اس سے خدمت لے سکتا ہے ‘ نہ اس میں سکونت کرسکتا ہے ‘ نہ اس کو پہن سکتا ہے ‘ نہ اس کو کرایہ پردے سکتا ہے نہ کسی کو عاریۃ دے سکتا ہے ‘ نہ راہن نہ مرتہن ‘ ہاں ! اگر راہن مرتہن کو یا مرتہن راہن کو اجازت دے دے تو پھر جائز ہے ‘ کہا گیا ہے کہ مرتہن کے لیے اجازت کے باوجود نفع لینا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ سود ہے ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سود اس وقت ہوگا جب رہن کے عقد میں یہ شرط ہو کہ مرتہن اس سے نفع حاصل کرے گا ‘ ورنہ سود نہیں ہے ‘ ” اشباہ “ اور ” جواہر “ میں مذکور ہے کہ راہن نے مرتہن کے لیے درخت کے پھلوں کا کھانا ‘ یا گھر میں رہنا یا بکری کا دودھ پینا مباح کردیا اور اس نے یہ منافع حاصل کیے تو وہ اس کا ضامن نہیں ہوگا ‘ نیز ” اشباہ “ میں لکھا ہے کہ مرتہن کے نفع حاصل کرنا مکروہ ہے۔ (درمختار علی ھامش رد المختار ج ٥ ص ٣١١۔ ٣١٠ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

رہن کی شرائط اور ضروری مسائل :

عقد رہن ایجاب اور قبول سے منعقد ہوتا ہے ‘ مثلا راہن یہ کہے کہ تمہارا دین جو میرے ذمہ ہے اس کے مقابلہ میں ‘ میں نے یہ چیز تمہارے پاس رکھی ‘ رہن کی شرائط حسب ذیل ہیں :

(١) راہن اور مرتہن عاقل ہوں ‘ ناسمجھ بچے اور مجنون کا رہن رکھنا صحیح نہیں ہے۔

(٢) رہن کسی شرط پر معلق نہ ہو اور اس کی اضافت وقت کی طرف کی جائے۔

(٣) جو چیز غیر منقسم اور غیر متمیز ہو اس کو رہن رکھنا صحیح نہیں ہے ‘ مثلا کوئی شخص یہ کہے کہ میں اپنا آدھا مکان رہن رکھتا ہوں اور آدھے کی تحدید اور تعیین نہ کرے۔

(٤) جس چیز کو رہن رکھا ہے وہ قابل فروخت ہو اور وہ چیز اس وقت موجود ہو اور مال متقوم ہو ‘ درخت پر جو پھل نہیں لگے ‘ جانور کے پیٹ میں جو بچہ ہے اور مردار اور خون ایسی حرام چیزوں کو رہن رکھنا جائز نہیں ہے۔

مرہون چیز کی مالیت مرتہن کی ضمان میں ہوتی ہے اور خود وہ چیز مرتہن کے پاس امانت ہوتی ہے ‘ ان کے فرق کی وضاحت اس طرح ہے کہ اگر مرتہن مرہون کو راہن سے خریدلے ‘ تو اس چیز پر مرتہن کا قبضہ خریداری کے قائم مقام نہیں ہوگا کیونکہ یہ اس کے قبضہ میں امانت ہے ‘ اور خریداری کے لیے قبضہ ضمان چاہیے ‘ اور مرہون کا خرچ راہن کے ذمہ ہے ‘ مرتہن کے ذمہ نہیں ہے ‘ اگر مرہون غلام تھا اور وہ مرگیا تو اس کی تجہیز وتکفین راہن کے ذمہ ہے ‘ اگر مرہون چیز راہن کے پاس ہلاک ہوجائے تو دین اور اس چیز کی قیمت میں جو مقدار کم ہوگی اس کو ہلاک قرار دیا جائے گا ‘ مثلا ہزار روپے دین کے مقابلہ میں دو ہزار روپے کا گھوڑا گروی رکھا تھا تو گھوڑا ہزار روپے کے مقابلہ میں ہلاک ہوگیا اور اب مرتہن راہن کو کچھ نہیں دے گا اور اگر صورت مفروضہ میں گھوڑے کی قیمت پانچ سوروپے تھی تو ہزار روپے رہن میں سے پانچ سو روپے ساقط ہوگئے اور باقی ماندہ پانچ سو روپے راہن کے ذمہ واجب الادا ہیں ‘ اور اگر دین اور مرہون کی مالیت برابر ہو مثلا اس صورت میں گھوڑا ہزار روپے کا ہو تو کسی کے ذمہ کچھ واجب نہیں ہے۔

اگر مرتہن نے دین میں کوئی ایسا تصرف کیا جس سے وہ چیز ہلاک ہوگئی یا اس میں نقصان پیدا ہوگیا تو وہ اس کا ضامن ہوگا ‘ یعنی اس کا تاوان ادا کرے گا ‘ مثلا ایک شیروانی دو ہزار کی تھی ‘ مرتہن نے راہن کی اجازت سے اس کو پہنا اور اس پر داغ دھبے لگ گئے ‘ جس سے وہ ہزار روپے کی رہ گئی تو اس ہزار روپے کی کمی کا تاوان مرتہن راہن کو ادا کرے گا ‘ اور اس نے وہ دھلنے کے لیے دی اور دھوبی نے گم کردی تو وہ دوہزار روپے گا ضامن ہوگا ‘ اگر مرتہن نے راہن کی اجازت کے بغیر رہن سے فائدہ اٹھایا اور وہ چیز ہلاک ہوئی تو بھی مرتہن کو تاوان ادا کرنا ہوگا ‘ مرہون کی حفاظت کا خرچ مثلا جانوروں کے چارے کا خرچ یا باغ میں پانی لگانے اور پھل توڑنے کے اخراجات وغیرہ یہ راہن کے ذمہ ہیں۔ (عالم گیری ج ٥ ص ٤٣٤۔ ٤٣٢‘ ردالمختار ج ٥ ص ٣١٢۔ ٣٠٧‘ ہدایہ اخیرین ص ٥٢٠۔ ٥١٦‘ ملخصا)

فقہاء نے یہ نہیں لکھا کہ گروی رکھے ہوئے جانوروں کے دودھ کی آمدنی اور باغ کے پھلوں کی آمدنی کا کون مالک ہوگا ‘ مرتہن تو اس کا مالک نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ سود ہے ‘ اس لیے ظاہر ہے کہ اس آمدنی کا مالک راہن ہی ہوگا ‘ کیونکہ ” درمختار “ میں مذکور ہے کہ مرتہن کی اجازت سے راہن کی اجازت سے راہن مرہون سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر اگر تم کو ایک دوسرے پر اعتبار ہو تو جس پر اعتبار کیا گیا ہے اسے چاہیے کہ وہ اس کی امانت ادا کرے ‘ اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے۔ (البقرہ : ٢٨٣)

اعتماد کی صورت میں وثیقہ لکھوانے ‘ گواہ بنانے اور گروی رکھنے کو ترک کرنے کی رخصت :

یعنی اگر دائن کو مقروض کی امانت داری پر اعتماد ہو اور وہ دستاویز لکھنے کسی کو گواہ بنانے اور قرض کے مقابلہ میں کسی چیز کو گروی رکھنے کے بغیر اپنا مال مقروض کے حوالے کر دے یا اپنا مال اس کو فروخت کردے تو مقروض پر لازم ہے کہ وہ دائن کے اعتماد پر پورا اترا اور اس کی امانت اس کو ادا کردے اور یہ امر وجوب کے لیے ہے اور اس پر اجماع ہے کہ قرضوں کا ادا کرنا واجب ہے حاکم کو چاہے کہ وہ مقروض کو قرض ادا کرنے کا حکم دے اور مقروض کو قرض ادا کرنے پر مجبور کرے۔

احادیث کی روشنی میں دین اور قرض کے ضرروی مسائل :

امام بخاری روایت کرتے ہیں۔

حضرت ابوہریرہ (رض) سے بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے لوگوں سے اموال لیے اور وہ ان کا ادا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا تو اللہ تعالیٰ ان اموال کو اس کی طرف سے ادا کر دے گا اور جس نے لوگوں کے مال لیے درآں حالیکہ وہ ان کو تلف کرنے کا ارادہ رکھتا تھا اللہ تعالیٰ اس شخص کو تلف کردے گا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٣٢١‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :

یعنی جس شخص نے کوئی تقصیر نہیں کی اس کی نیت قرض ادا کرنے کی تھی لیکن اس کو اتنے پیسے دسیتاب نہیں ہوئے یا اس کو اچانک موت آگئی اور اس کو قرض ادا کرنے کی مہلت نہیں ملی حالانکہ اس کی نیت ادا کرنے کی تھی تو اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کی طرف سے قرض خواہ ادائیگی کر دے گا اور اس کا مطالبہ بھی نہیں ہوگا اور جیسا کہ طریقہ ہے کہ اگر مقروض نے قرض ادا نہ کیا ہو تو اس کی نیکیاں قرض خواہ کو دے دی جاتی ہیں یا قرض خواہ کے گناہ مقروض کے نامہ اعمال میں ڈال دیے جاتے ہیں اس کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہوگا اور جس شخص کی نیت یہ ہو کہ دائن کو اس کا مال نہیں دے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے جسم کو ضائع کر دے گا یا اس کے مال کو ضائع کر دے گا یا آخرت میں اس کو عذاب دے گا۔

امام ابن ماجہ اور امام حاکم نے محمد بن علی سے روایت کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن جعفر لوگوں سے قرض لیتے تھے ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے : جب تک مقروض قرض کو ادا نہ کرے اللہ مقروض کے ساتھ ہوتا ہے ‘ اس حدیث کی سند حسن ہے ‘ نیز امام حاکم نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ جس بندہ کی نیت قرض کو ادا کرنا ہو ‘ اس کے ساتھ اللہ کی مدد ہوتی ہے۔ (فتح الباری ج ٥ ص ٥٤ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میرے پاس احد پہاڑ جتنا سونے ہو تو مجھے اس سے خوشی نہیں ہوگی کہ میرے پاس تین دن تک میں سے کوئی چیز رہے ماسوا اس کے جس کو میں قرض کی ادائیگی کے لیے رکھ لو۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٣٢١‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سختی کے ساتھ قرض کا تقاضا کیا آپ کے اصحاب نے اس کو مارنے یا ڈانٹنے کا ارادہ کیا ‘ آپ نے فرمایا : اس کو چھوڑ دو ‘ کیونکہ صاحب حق کو بات کرنے کی گنجائش ہوتی ہے اور اس کیلیے اونٹ خریدو اور اس کا قرض ادا کردو صحابہ نے کہا : جتنی عمر کا اونٹ اس کو ادا کرنا ہے اس سے زیادہ کامل رہا ہے آپ نے فرمایا وہی خرید لو اور اس کو ادا کردو ‘ کیونکہ تم میں بہترین شخص وہ ہے جو اچھی طرح قرض ادا کرے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٣٢١ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مدت پوری ہونے کے بعد قرض کا مطالبہ کرنا جائز ہے اور قرض خواہ کا مطالبہ میں سختی کرنا بھی درست ہے اور مقروض کو اس کی سختی کا جواب سختی سے نہیں دینا چاہیے اور مقروض اصل قرض سے زیادہ ادا کرے تو مستحسن ہے بشرطیکہ قرض خواہ کی طرف سے اس کا مطالبہ نہ ہو ورنہ حرام ہے اور اچھے جائز کاموں کے لیے قرض لینے درست ہے اور امام کے لیے بیت المال پر قرض لینا جائز ہے اور جو شخص امام کے ساتھ بدتمیزی کے ساتھ پیش آئے وہ تعزیر کا مستحق ہے الا یہ کہ امام معاف کردے اس حدیث میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زبردست حوصلہ ‘ حلم ‘ تواضع اور آپ کے خلق عظیم کا بیان ہے۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں یہ دعا کرتے تھے کہ اللہ میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ کسی شخص نے کہا : آپ قرض سے بہت پناہ مانگتے ہیں ‘ آپ نے فرمایا : جب انسان مقروض ہوتا ہے تو وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٣٢٢ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) عنہبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غنی کا (قرض کی ادائیگی میں) تاخیر کرنا ظلم ہے (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٣٢٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور گواہی نہ چھپاؤ اور جو شخص گواہی چھپائے اس کا دل گناہ آلودہ ہے۔ (البقرہ : ٢٨٣)

گواہی دینے کا وجوب اور دل کی طرف گناہ کی اضافت کی حکمتیں :

یہ نہی تحریم ہے اور گواہی کا چھپانا حرام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر وعید معلق فرمائی ہے کہ جو شخص گواہی کو چھپائے گا اس کا دل گناہ آلودہ ہے ‘ گواہی چھپانے کا معنی یہ ہے کہ انسان گواہی ادا کرنے سے اپنے آپ کو روک لے ‘ اور گواہی چھپانا اس وقت حرام ہے جب اس کے گواہی نہ دینے سے صاحب حق کا حق ضائع ہوجائے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جو شخص گواہی چھپائے گا اس کا دل گناہ آلودہ ہے ‘ اور گناہ کی اضافت دل کی طرف کی ہے کیونکہ شہادت چھپانے اور اس کو ادا نہ کرنے کی نیت کا تعلق دل سے ہے ‘ اور جب کسی فعل کی اضافت کسی عضو کی طرف کی جاتی ہے تو اس میں زیادہ تاکید ہوتی ہے ‘ جیسے کہتے ہیں : میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا ‘ اور میرے دل میں فلاں کی محبت ہے اور خصوصا دل کی طرف اضافت اس لیے کی ہے کہ دل انسان کے اجزاء میں اشرف اجزاء اور رئیس اعضاء ہے اور اس کا فعل باقی اعضاء کی بہ نسبت زیادہ عظیم ہے ‘ اور ایک توجیہ یہ کی گئی ہے کہ گناہ کی اضافت دل کی طرف اس لیے کی ہے کہ یہ گمان نہ کیا جائے کہ شہادت چھپانے کے گناہ کا تعلق صرف زبان کے ساتھ ہے اور یہ معلوم ہوجائے کہ گناہ کا اصل سرچشمہ اور معدن انسان کا دل ہے۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت نعمان بن بشیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سنو ! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے ‘ جب وہ صحیح ہو تو پورا جسم صحیح ہوتا ہے اور جب وہ خراب ہوتا ہے تو پورا جسم خراب ہوتا ہے ‘ سنو ! وہ قلب ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ١٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

یا قلب کی طرف اضافت اس لیے کی ہے کہ گناہ کا اثر قلب میں ظاہر ہوتا ہے۔

امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پیدا ہوجاتا ہے ‘ اگر وہ توبہ کرے ‘ اس کام سے باز آجائے اور استغفار کرے تو اس کا دل صاف ہوجاتا ہے اور اگر وہ زیادہ گناہ کرے تو اس کے دل میں اور سیاہ نکتے پیداہو جاتے ہیں اور یہی وہ رین (ران) ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔

(آیت) ” کلا بل ران علی قلوبھم ماکانوا یکسبون “۔۔ (المطففین : ١٤)

ترجمہ : ہرگز نہیں بلکہ ان کے کاموں نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا۔ (سنن ابن ماجہ ص ٣١٣‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اس حدیث کو امام احمد نے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند احمد ج ٢ ص ٢٩٧‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

وثیقہ لکھنے ‘ گواہ بنانے اور رہن رکھنے کے اسرار اور حکمتیں :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مدعت معینہ کے ادھار پر کی جانے والی بیع کی دستاویز لکھنے ‘ اس بیع پر گواہ بنانے اور مقروض کی کسی چیز کو گروی رکھنے کا جو حکم دیا ہے اور وہ دین اور دنیا کی صلاح پر مبنی ہے ‘ دنیا کی صلاح یہ ہے کہ اگر اس بیع کو لکھا نہ جائے تو اس میں اختلاف ‘ تنازع اور فساد ہوسکتا ہے اور انسان کے ہاتھ سے دین اور دنیا جاتی رہے گی ‘ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے : تم ایک دوسرے کے ساتھ نزاع نہ کرو ورنہ تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ (الانفال : ٤٦) اور جب خریدو فروخت کے معاملات لکھے ہوئے ہوں گے اور ان پر گواہ موجود ہوں گے تو کوئی فریق دوسرے فریق کے حق کا انکار نہیں کرسکے گا اور نہ اس کے حق کوئی کمی کرسکے گا اور یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسی بیع کرنے سے منع فرمایا دیا جس میں مبیع یا ثمن کی مقدار مجہول ہو یامبیع یا ثمن کو ادا کرنے کی مدت مجہول ہو ‘ کیونکہ اس جہالت کی وجہ سے فریقین میں اختلاف اور نزاع ہوگا ‘ اور یہ اختلاف آپس میں لڑائی جھگڑے ‘ کینہ بغض اور عداوت کا موجب ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کو حرام کرنے کا بھی یہ سبب بیان کیا ہے کہ ان کی وجہ سے عداوت اور بغض پیدا ہوتا ہے (المائدہ : ٩٠) ۔

نیز اللہ تعالیٰ نے دستاویز لکھنے ‘ گواہ بنانے اور رہن رکھنے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ بائع کا مال محفوظ رہے اور خریدار کی نادہندگی سے مامون رہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد جگہ یہ حکم دیا ہے کہ مال کی حفاظت کی جائے اور اس کو ضائع ہونے سے بچایا جائے ارشاد فرمایا :

اور کم عقلوں (ناسمجھ یتیموں) کو ان کے (وہ) مال نہ دو (جو تمہاری تحویل میں ہیں) جن (اموال) کو اللہ نے تمہاری گزر اوقات کا ذریعہ بنایا ہے۔ (النساء : ٥)

نیز فرمایا : اور وہ لوگ جو خرچ کرتے وقت نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ تنگی سے کام لیتے ہیں اور ان کا خرچ میانہ روی اور اعتدال سے ہوتا ہے۔ (الفرقان : ٦٧) اور حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تمہاری تین عادتوں کو ناپسند کرتا ہے قیل وقال کرنا ‘ بہ کثرت سوال کرنا اور مال ضائع کرنا۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٧٥) خلاصہ یہ ہے کہ قرآن اور سنت کا منشاء یہ ہے کہ مسلمان آپس میں اختلاف اور نزاع نہ کریں اور اس کی وجہ سے باہمی عداوت اور بغض میں مبتلا نہ ہوں اور مسلمان اپنے مالوں کو ضائع ہونے سے بچائیں اور ان کی حفاظت کریں اور بیع کی دستاویز لکھنے اس پر گواہ بنانے اور قیمت کے مقابلہ میں مقروض کا مال گروی رکھنے سے یہ دونوں امرحاصل ہوتے ہیں اس لیے اس آیت میں وثیقہ لکھنے ‘ گواہ بنانے اور رہن رکھنے کا حکم دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے تمام اسرار اور حکمتوں کو وہی خوب جانتا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 282