آسیہ مسیح کا کیس اور ملکی پس منظر

مذہب کو نقصان پہنچانے کے لئے عالمی طاقتیں جس ایشو کو چاہتی ہیں اٹھا دیتی ہیں…

آج جب یہ خبر مجھ تک پہنچی کہ آسیہ مسیح کے ایک وکیل نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو پھر ضروری ہوا کہ کچھ حالات سے آگاہی حاصل کی جائے.

آپ میں سے کتنے لوگ آسیہ مسیح کے 7 سات وکیلوں کے نام جانتے ہیں.؟

کیا ان سات وکیلوں میں سے کسی ایک نام کو آپ جانتے ہیں؟

کتنے لوگ اس کے خاوند کے نام سے واقف ہیں؟

کچھ حقائق جانیے اور پھر افراتفری پھیلانے کا فیصلہ کیجئے

جنوری 2018 تک کے اعداد و شمار کے مطابق سپریم کورٹ میں اس وقت 38000 کیسز کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ میں اس وقت موجود کیسز کی تعداد ملک میں سب سے زیادہ ہے جو کہ 150000 سے زائد ہے

پشاور ہائی کورٹ میں اس وقت 30000 کیسز جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ میں صرف 6000 کیسز کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں البتہ 16000 کیسز کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔

ان اڈھائی250.000 لاکھ کیسز میں 40 کیس کسی طرح کے جھوٹا دعوئ، نبوت یا گستاخی رسول، توہین صحابہ کرام کے ان پر الزامات ہیں یا مجرم قرار دیے گئے ہیں.

لیکن آپ ان 40 مجرموں یا ملزموں میں سے کسی ایک کا نام بھی نہیں جانتے ہوں گے کیونکہ عدالتیں جانیں اور ان کا کام.. مگر جب عالمی مداخلت ہوتی ہے تو پھر آسیہ مسیح جیسے کیس جنم لیتے ہیں……

اگر افسوس کرنا ہے تو عالمی دنیا پر کیجیے جو آئے دن کوئی نہ کوئی نیا ایشو ہمارے لئے پیدا کردیتے ہیں…

ھماری بعض دوست ملکی حالات کو ڈینجرس قرار دیتے ہیں حالانکہ ایسا ہرگز کچھ بھی نہیں..

آسیہ مسیح سے جب گستاخی سرزد ہوئی تو دیہاتی لوگوں نے امام مسجد سے بہتر کسی کو نہ جانا.

امام مسجد نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بجائے اس کے کہ کوئی جذباتی فیصلہ کرتے رات کو مقامی آبادی کے لوگوں کو جمع کیا اور صورتحال سے آگاہ کیا گاؤں کے معززین نے آسیہ بی بی کو جرگہ میں بلانے کا فیصلہ کیا اس نے جرگہ میں آکر اپنے جرم کا اقرار کیا…

اور پھر یہ فیصلہ ہوا کہ کوئی شخص اس کو ہرگز کچھ نہیں کہے گا بلکہ اس کو پولیس کے سپرد کیا جائے گا اور مقدمہ درج کروایا جائے گا…

پھر ننکانہ صاحب پولیس کے پاس گئے تو انہوں نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا اس کی وجہ یہ تھی کہ مشرف دور میں عالمی دباؤ کی وجہ سے توہین رسالت کے کیس کا اندراج انتہائی مشکل بنا دیا گیا تھا کہ اور کچھ نہیں تو اس کا اندراج ہی مشکل ترین ہوں….

اندراج کا طریقہ کار یہ ہے کہ ڈپٹی کمیشنر کی اجازت ہوگی تو کیس درج ہوگا پھر مرحلہ تفتیش کا آئے….

تو “اے، ایس، آئی ” یا “ایس، ایچ، او” اس کی تفتیش نہیں کرے گا بلکہ کم از کم ” ایس، پی کے” درجے کا شخص اس کی تفتیش کرے گا…

بہر حال لوگوں کی دوڑ دھوپ کے بعد کیس کا اندراج ہوا اور اس کی تفتیش ایس پی سید محمد امین بخاری صاحب کے سپرد کی گئی

اور یہ بات بھی ریکارڈ بھی ہے کہ” ایس، پی” سید محمد امین بخاری صاحب ایک ایماندار آفیسر کے طور پر صرف صوبہ پنجاب میں ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے گنے چنے ایماندار لوگوں میں ان کا شمار ہوتا تھا جو بغیر کسی دباؤ کے فیصلہ کرنے میں مشہور تھے.

ایس پی سید محمد امین بخاری صاحب نے مجسٹریٹ سے باقاعدہ اس کی اپروول لی اور لیڈیز کانسٹیبل کو ساتھ لیا اور اس کی مکمل انکواری کی جس میں ملزمہ نے اقبال جرم کیا گواہان کے بیانات قلمبند کئے اور رپورٹ تیار کردی اور اس رپورٹ کے مطابق وہ مجرم قرار پائی.

رپورٹ جب سیشن کورٹ میں آئی تو آسیہ مسیح کی طرف سے سپریم کورٹ کے سات/ 7 چوٹی کے وکیل پیش ہوئے.

اور ڈیڑھ سال تک مقدمہ چلا ڈیڑھ سال کے بعد سیشن کورٹ کے جج نوید اقبال کی عدالت میں ملزمہ” آسیہ مسیح” کو مجرمہ قرار دے دیا گیا کیونکہ اس نے پہلے اعتراف کیا ایس پی سید محمد امین بخاری کے سامنے. پھر سیشن کورٹ میں اقرار کیا، اور تیسرا گاؤں کی ساری برادری کے سامنے بھی وہ اقرار کر چکی تھی سیشن کورٹ نے تمام گواہان اور اس کے اعترافی بیان کی بنیاد پر 8 نومبر 2010 کو سزائے موت سنائی.

ایک بات جو انتہائی اہم اور توجہ طلب ہے کہ اس ڈیڑھ سال کے دورانیہ میں نہ کہیں کوئی اس کے خلاف جلوس نکلا نہ کوئی جلسہ ہوا نہ پریس کانفرنس ہوئی نہ کسی طرح کا دباؤ ڈالا گیا..

حتیٰ کہ جو اقلیتوں کے حقوق کا رونا روتے ہیں ان کو یہ بات یاد رکھنا چاہیے اس کو انصاف کے لیئے عدالت تک پہنچایا گیا….

اگر گاؤں میں ایسے کوئی اٹھ کر اس کو قتل کردیتا تو پھر آپ کا ری ایکشن کیا ہوتا..

مگر اسی دورانیے میں سلمان تاثیر خصوصی پروٹوکول میں آسیہ مسیح کو ملتا ہے اور اس کو بے گناہ قرار دیتا ہے، میڈیا پر اس کو لے کر آتا ہے اور میڈیا سے گزارش کرتا ہے کہ بھرپور کوریج دی جائے،

جب کے اصول و ضابطہ یہ تھا اگر وہ بے گناہ تھی بجائے خصوصی پروٹوکول اور میڈیا میں اچھالنے کے سیشن کورٹ کے جج نوید اقبال کے خلاف پٹیشن دائر کرتے یا. “ایس، پی سید محمد امین کے خلاف کاروائی کا اعلان کرتے…

مگر سارا سلمان تاثیر نے میڈیا اور عالمی طاقتیں اور اپنے عہدے کا استعمال کر کے روح اور طرف موڑنا چاہا جس کی وجہ سے پھر اگلے سارے حالات پیدا ہوئے….

پھر غالبا دو سال یا کچھ کم و بیش عرصے کے بعد ہائی کورٹ میں اپیل ہوئی ہائی کورٹ میں جسٹس سید شہباز علی صاحب اور جسٹس محمد انوارالحق صاحب کی عدالت میں اس کا کیس سنا گیا….

اور ان دونوں جج صاحبان نے فیصلہ کے پیرا نمبر17 میں لکھا کہ سید امین بخاری “ایس، پی” اور سیشن court اور پورے گاؤں کے سامنے اقبالی بیان کی وجہ سے اور گواہوں کو سننے کی وجہ سے عدالت اس کی سزا کو برقرار رکھنے کا حکم جاری کرتی ہے..

مگر اب حالات یہ بنے کہ سپریم کورٹ نے ایس پی سید محمد امین بخاری، سیشن court ،اور ہائی کورٹ، کے فیصلے کو مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوئے اپنی من مانی پر فیصلہ تحریر کیا جس کی وجہ سے سارے شکوک و شبہات پیدا ہوئے اور حالات اس نہج تک پہنچے……

اگر آپ اس ساری گفتگو میں مولانا سمیع الحق مرحوم کے آخری بیان کو بھی شامل کرلیں جو انہوں نے عمران خان سے ملاقات کے وقت عمران خان کو کہی تھی تو بات مزید واضح ہوجائے گی….

تحریر ::– محمد یعقوب نقشبندی اٹلی