أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الٓمّٓ

 

 

ترجمہ:

الف لام میم

تفسیر:

سورة بقرہ کی آخری اور سورة آل عمران کی ابتدائی آیتوں میں مناسبت :

سورة بقرہ کی آخری آیت یہ تھی : ” تو ہمارا (مالک اور مدد گار) ہے سو کافروں کے خلاف ہماری مدد فرما “۔ اس دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے سورة آل عمران پیش کردی جس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اللہ تعالیٰ نے ایسی آیات نازل فرمائیں۔ جن کی وجہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجران کے عیسائیوں پر غلبہ حاصل فرمایا : اس طرح اس دعا کی استجابت ظاہر ہوئی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ٩ ھ میں نجران سے ساٹھ عیسائیوں کا ایک وفد آیا ان کا سردار عاقب عبدالمسیح تھا اور ان کا عالم ابو حارثہ بن علقمہ تھا انہوں نے کئی روز مدینہ میں قیام کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق مناظرہ کرتے رہے۔ وہ کبھی کہتے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ ہیں کبھی کہتے وہ اللہ کے بیٹے ہیں اور کبھی کہتے کہ وہ تین میں کے تیسرے ہیں ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو یہ بتاتے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ صفات ہیں اور یہ صفات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) میں نہیں ہیں وہ یہ تسلیم کرتے اور عنادا انکار کرتے۔ آخر انہوں نے کہا کیا آپ حضرت عیسیٰ کو کلمۃ اللہ اور اس کی (پسندیدہ) روح نہیں مانتے ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں۔ سو اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے شروع میں اسی سے زیادہ آیات ان کے رد میں نازل فرمائیں اور عیسائیوں کی بدعقیدگیوں کا رد فرمایا اور اللہ تعالیٰ کے لیے جو وہ بیٹے اور بیوی اعتقاد رکھتے ہیں اس کا قوی دلائل سے رد فرمایا اور حضرت مریم اور ان کے بیٹے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی پیدائش کا تفصیل سے ذکر فرمایا اور جب ان تمام دلائل کے باوجود عیسائی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مباہلہ کی دعوت دی لیکن وہ آپ سے مباہلہ کرنے کی جرات نہ کرسکے۔

دوسری مناسبت کی وجہ یہ ہے کہ سورة بقرہ کی آخری آیتوں میں فرمایا تھا : ” رسول اللہ پر ان کے رب کی طرف سے جو کلام نازل کیا گیا وہ اس پر ایمان لائے اور مومنین بھی ایمان لائے “ اس لیے آل عمران کی ابتدائی آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی صفات ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہونے والی کتاب کی صفات اور آپ کے علاوہ دیگر رسولوں پر نازل ہونے والی کتابوں کی صفات بیان کی گئیں۔

سورة آل عمران کی ابتدائی آیتوں کا شان نزول اور نصاری نجران کے ساتھ آپ کے مناظرہ کا بیان :

جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ سورة آل عمران کی ابتدائی آیات نجران کے عیسائیوں کے رد میں نازل ہوئی ہیں امام ابن حریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ربیع بیان کرتے ہیں کہ نصاری رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے متعلق بحث کرنے لگے اور کہنے لگے بتائیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ کون ہے ؟ اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور بہتان باندھا حالانکہ اللہ تعالیٰ کی کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی بیٹا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ ہر بیٹا اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے ‘ انہوں نے کہا کیوں نہیں ! آپ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب زندہ ہے اور اس کو موت نہیں آئے گی اور عیسیٰ (علیہ السلام) پر فنا آئے گی ‘ انہوں نے کہا کیوں نہیں ! آپ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب ہر چیز کو قائم کرنے والا ہے اس کی حفاظت کرنے والا ہے اور اس کو رزق دینے والا ہے۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں ! آپ نے فرمایا کیا عیسیٰ (علیہ السلام) ان میں کسی چیز پر قدرت رکھتے ہیں ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز مخفی نہیں ہے نہ زمین میں نہ آسمان میں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ! آپ نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کے علم دیئے بغیر عیسیٰ (علیہ السلام) کو کسی چیز کا علم ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں ! آپ نے فرمایا ہمارے رب نے ماں کے پیٹ میں جس طرح چاہا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی صورت بنائی کیا تم کو اس کا علم ہے ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ! آپ نے فرمایا کیا تم کو علم ہے کہ ہمارا رب نہ کھانا کھاتا ہے نہ پانی پیتا ہے نہ اس کو حدث (وضو ٹوٹنا) لاحق ہوتا ہے انہوں نے کہا کیوں نہیں ! آپ نے فرمایا کیا تم کو معلوم نہیں کہ حضرت عیسیٰ اپنی ماں کے پیٹ میں اس طرح رہے جس طرح عورتوں کو حمل ہوتا ہے۔ پھر ان کو وضع حمل ہوا جس طرح عورتوں کو وضع حمل ہوتا ہے جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تو ان کو غذا دی گئی جس طرح بچہ کو غذا دی جاتی ہے۔ پھر وہ کھانا کھاتے تھے پانی پیتے تھے اور ان کو حدث (وضو ٹوٹنا) لاحق ہوتا تھا ‘ انہوں نے کہا کیوں نہیں ! آپ نے فرمایا پھر جس شخص کی یہ صفات ہوں وہ خدا یا خدا کا بیٹا کیسے ہوسکتا ہے۔ (آپ پہلے فرماچکے تھے کہ ہر بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے اور آپ نے جو بعد میں تقریر کی اس سے واضح ہوگیا کہ ممکن واجب کے ‘ حادث قدیم کے اور محتاج مستغنی کے مشابہ نہیں ہوسکتا) آپ کی اس تقریر سے وہ جان گئے کہ حضرت عیسیٰ خدا کے بیٹے نہیں ہوسکتے لیکن انہوں نے عنادا ” انکار کیا تب اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل فرمائیں الف لام میم۔ اللہ ہے اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں وہ ہمیشہ سے زندہ ہے اور تمام نظام عالم کو قائم کرنے والا ہے۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ١٠٩۔ ١٠٨ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الف ‘ لام ‘ میم۔ (آل عمران : ١)

الف ‘ لام ‘ میم حروف مقطعات ہیں بعض علماء نے کہا : سورت کی ابتداء میں ان حروف کو تنبیہہ کے لیے لایا گیا ہے جیسے ” الا اور ” یا “ کو مخاطب کی تنبیہہ کے لیے لایا جاتا ہے۔ بعض دوسرے علماء نے ان حروف کی اور تاویلات کی ہیں۔ لیکن تحقیق یہ ہے کہ یہ حروف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان ایک راز ہیں ‘ اس لیے اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کو ان کا علم ہے یا جن عرفاء کاملین کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ سے ان حروف کا علم عطا ہوا۔ اس کی پوری تحقیق اور مفصل بحث ہم سورة بقرہ میں بیان کرچکے ہیں۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 1