أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مِنۡ رَّبِّهٖ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ‌ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلٰٓٮِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِهٖ‌ ۚ وَقَالُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا‌ ۖ غُفۡرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيۡكَ الۡمَصِيۡرُ

ترجمہ:

ہمارے) رسول اس (کلام) پر ایمان لائے جو ان کی طرف انکے رب کی طرف سے نازل ہوا اور مومن (بھی ایمان لائے) اللہ پر اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر سب (یہ کہتے ہوئے) ایمان لائے کہ ہم (ایمان لانے میں) ان رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے ‘ اور انہوں نے کہا : ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی ‘ اے ہمارے رب ! ہم تیری بخشش کے طالب ہیں ‘ اور (ہمیں) تیری ہی طرف لوٹنا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ہمارے) رسول اس (کلام) پر ایمان لائے جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے نازل ہوا ‘ اور مومن (بھی ایمان لائے) ۔ (البقرہ : ٢٨٥)

سورة بقرہ کے افتتاح اور اختتام کی مناسبت :

اس سورت کی ابتداء میں بھی اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کی صفات بیان فرمائی تھیں کہ وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں ‘ نماز قائم کرتے ہیں ‘ اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں ‘ اور جو اس (کلام) پر ایمان لاتے ہیں جو آپ پر نازل کیا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا ‘ اور یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ آخرت میں فلاح پانے والے ہیں ‘ اور سورت کے اختتام میں بھی مومنوں کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ اس کلام پر ایمان لاتے ہیں جو آپ پر نازل کیا گیا ہے اور کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور اے ہمارے رب ! ہم تیری مغفرت کے طالب ہیں اور تیری ہی طرف ہمیں لوٹنا ہے۔ الایۃ

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ پر اس کے فرشتوں پر ‘ اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر سب (یہ کہتے ہوئے) ایمان لائے کہ ہم (ایمان لانے میں) ان رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ (البقرہ : ٢٨٥)

اللہ ‘ فرشتوں ‘ کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانے کے ذکر کی ترتیب :

اس آیت میں پہلے اللہ پر ایمان لانے کا ذکر کیا ہے ‘ کیونکہ ہر ذی عقل سب سے پہلے وجود صانع پر استدلال کرتا ہے اس کے بعد فرشتوں پر ایمان لانے کا ذکر ہے ‘ کیونکہ اللہ اور بندوں کے درمیان فرشتے واسطہ ہیں ‘ اس لیے ان کا دوسرے درجہ میں ذکر ہے ‘ پھر کتابوں پر ایمان لانے کا ذکر ہے ‘ کیونکہ کتابیں وہ وحی ہیں جن کو فرشتہ اللہ سے لے کر نبیوں تک پہنچاتا ہے اس لیے ان کا تیسرے مرتبہ میں ذکر ہے ‘ اس کے بعد رسولوں پر ایمان لانے کا ذکر ہے ‘ کیونکہ وہی وحی کے انوار سے اقتباس کرتے ہیں اس لیے ان کا چوتھی جگہ ذکر ہے۔

اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لانے میں ان رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے ‘ جیسے یہود اور نصاری نے فرق کیا کہ بعض نبیوں پر ایمان لائے اور بعض پر ایمان نہیں لائے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 285