أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ الۡحَىُّ الۡقَيُّوۡمُؕ

ترجمہ:

اللہ ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، وہ ہمیشہ سے زندہ ہے اور تمام نظام عالم کو قائم کرنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ ہے اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ سے زندہ ہے اور تمام نظام عالم کو قائم کرنے والا ہے۔ (آل عمران : ٢)

سورة بقرہ میں آیت الکرسی کی تفسیر میں اس آیت کی تفسیر بیان کی جا چکی ہے ‘ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کا معنی ہے مستحق عبادت ” حی “ کا معنی ہے صاحب حیات ‘ اور حیات کا معنی ہے ایسی صفت جو احساس ‘ حرکت بالارادہ اور علم کے ساتھ اتصاف کو مستلزم ہو اور ” قیوم “ کا معنی ہے ہر چیز کو قائم کرنے والا ‘ اس کے وجود اور بقاء کی حفاظت کرنے والا اور اس کے حقوق کی رعایت کرنے والا۔

موجودانجیل کی شہادت سے حضرت مسیح کا خدایا خدا کا بیٹا نہ ہونا :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتادیا ہے کہ وہ ہے جو ہمیشہ سے زندہ ہے ہمیشہ زندہ رہے گا وہ تمام نظام عالم کو قائم کرنے والا ہے لہذا سب اس کے محتاج ہیں وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ موجودہ انجیل میں لکھا ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ کو بھوک لگتی تھی ان سولی دی گئی اور وہ درد سے چلائے۔ اور ظاہر ہے جس کا یہ حال ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا۔

متی کی انجیل میں ہے :

اور صبح کو پھر شہر جارہا تھا اسے بھوک لگی۔ متی باب : ٢١ آیت : ١٨۔

اور راہ چلنے والے سر ہلا ہلا کے اس کو لعن طعن کرتے اور کہتے تھے۔ اے مقدس کے ڈھانے والے اور تین دن میں بنانے والے اپنے تئیں بچا۔ اگر تو خدا کا بیٹا ہے توصلیب پر سے اتر آ۔ متی باب : ٢٧ آیت : ٤٠۔ ٣٩۔

اور تیسرے پہر کے قریب یسوع نے بڑی آواز میں کے ساتھ چلا کر کہا کہ ایلی۔ ایلی لما شبقتنی ؟ یعنی اے میرے خدا ! اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ؟ متی باب : ٢٧ آیت ٤٦۔

یسوع نے پھر بڑی آواز کے ساتھ چلا کر جان دے دی۔ متی باب : ٢٧ آیت : ٥٠۔

ان قتباسات کو پڑھ کر کوئی صاحب عقل یہ باور نہیں کرسکتا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) خدا یا خدا کے بیٹے تھے البتہ ضد اور ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 2