حدیث نمبر :164

روایت ہے عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک خط کھینچا پھر فرمایا کہ یہ اﷲ کا راستہ ہے ۱؎ پھر اس کے دائیں بائیں اور لکیریں کھینچیں اور فرمایا یہ مختلف راستے ہیں جن میں سے ہر راستہ پر شیطان ہے جو ادھر بلا رہا ہے۲؎ اوریہ آیت تلاوت فرمائی:”اَنَّ ہٰذَا صِرٰطِیۡ مُسْتَقِیۡمًا فَاتَّبِعُوۡہُ “الایہ اسے احمد،نسائی اور دارمی نے روایت کیا۔

شرح

۱؎ سبحان اﷲ! کیا نفیس تعلیم ہے،دین حق کو قرآن شریف میں صراط مستقیم فرمایا گیا یعنی سیدھا راستہ جو نہایت آسانی سے رب تک پہنچاد ے،حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے خط کھینچ کر اس کی مثال دکھادی۔یہاں سبیل اﷲ سے مرادسچے اعتقاد اور نیک اعمال ہیں۔خیال رہے کہ شریعت اورطریقت کے چاروں سلسلے حنفی شافعی یا قادری،چشتی وغیرہ ایک ہی طریقہ ہیں جنہیں اہل سنت کہا جاتا ہے کیونکہ انکے عقائد یکساں ہیں۔اعمال میں فروعی اختلاف جیسا صحابہ کا آپس میں اختلاف ہوا کرتا تھا۔یہ کعبۂ ایمان کے چار راستے ہیں،یاسمندر نبوت تک پہنچنے والے چار دریا ان کے علاوہ دیگر مذاہب ٹیڑھے راستہ ہیں کہ وہ عقائد میں مختلف ہیں۔

۲؎ یہاں شیطان سے مراد یا تو ان مذاہب کے موجد ہیں جیسے قادیانیت کے لیئے غلام احمد اور چکرالویت کے لیئے عبداﷲ،یا ان دینوں کے مبلغین یا اس سے مراد خود ابلیس ہی ہے۔قرآن نے سرکش جنات اور گمراہ کن انسانوں کو شیاطین فرمایا ہے۔