اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل و احسان ہے کہ اس نے ہمیں سب سے اشرف اور بہترین مخلوق بناکرپیدا فرمایا اور طرح طرح کی اپنی قیمتی نعمتوں سے نوازا، لیکن سب سے بڑی نعمت جو ہم انسانوں کو عنایت کیا وہ ایمان کی دولت ہے، جس کی وجہ سے تمام امتوں میں ہم بہترین اُمت قرارپائے اورمومن کہلانے کا حقدار بنے۔ 
سوال یہ ہے کہ مومن کے اوصاف کیا ہیں اور اُس کی نشانیاں کیاہیں؟ 
اس تعلق سے اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے: 
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْاوَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ۝۱۵ ( حجرات ) 
ترجمہ:ایمان والے وہی ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لائے، ُاس کےبعد کوئی شک نہیں کیا،اوراپنی جان و مال سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا،وہی لوگ حقیقت میںسچے مومن ہیں ۔ 
اللہ رب العزت نے اس آ یت کریمہ میںاپنےمو من بندوںکی نشانی بتائی ہے کہ مومن وہی انسان ہے جو اللہ رب العزت اوراُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتاہے اوراِس تعلق سےکبھی کسی شک میں نہیںپڑتا،اور اپنی جان ومال سے اللہ کی راہ میں جہادبھی کرتاہے۔ 
ایمان کا مطلب 
ایمان کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول پر اُس کی ذات و صفات کے اعتبار سےایمان لایاجائے۔ 
اللہ رب العزت پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ایک جانے،اس کی صفات و کمالات کودل سے مانے، اس کے احکام دل سے قبول کرے اور اُس کی طاعت و فرماں برداری کو اپنے اوپر لازم کرلے ۔ 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اُن کی رسالت و نبوت میں کوئی شک نہ کرے ، اُن کی اتباع وپیروی کو اپنے اوپر لازم کرلے ،اُن کی حد درجہ تعظیم کرے،اپنی جان سے زیادہ اُن سے محبت کرےاور اُن سے اپنا قلبی لگا ئو مضبوط رکھے۔ 
شک نہ کرنے کا مطلب 
شک نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مومن کواللہ اوراُس رسول پرایسایقین حاصل ہو جیسے دھوپ دیکھنے کے بعد ہمیں سورج کا یقین ہو جاتا ہے،بلکہ اس سے بھی زیادہ۔نیزایسا یقین حاصل ہوجیسے ہمیں اس بات کا یقین ہوتاہے کہ دس کا عدد تین کے عدد سے بڑا ہوتاہے،لاکھ کو ئی کہے کہ دس کا عدد تین کے عدد سے چھوٹا ہوتاہے اور وہ اپنے اس دعوی پر دلیل بھی دے،پھر بھی ہمارے اس یقین میں فرق نہیں آئے گا کہ دس تین سے بڑا ہوتاہے، اسی طرح ایمان کا بھی حال ہے کہ جب ہم اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لے آئیں تو اُن کی ہر بات پر ایسا ہی مضبوط اورپختہ یقین ہو ناچا ہیے۔ 
جان سے جہاد کا مطلب 
جان سےجہاد کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنی جان کو اللہ و رسول کی اطاعت وتابعدادی میں کھپادے۔ جس طرح ہم اپنے اہل و عیال کے لیے پریشانیاں برداشت کرتے ہیں اور اُنھیں خوش رکھنے کے لیے سخت سے سخت تکلیف اٹھا لیتے ہیں، ایسے ہی اپنے مالک ومولیٰ کو خوش رکھنے کے لیے اور اُس کے احکام کی تابعدادی کرنےکے لیے جو بھی پریشانیاں اور مشکلات آجائیں اُن کوبرداشت کریں لیکن اللہ ورسول کی ناراضگی مول نہ لیں، اپنی طبیعت اور مزاج کے عیش وآرام کاخیا ل بالکل نہ رکھیں ۔ 
مال سے جہادکا مطلب 
مال سے جہاد کا مطلب یہ ہے کہ اپنے مال ودولت میں سے ضروریات زندگی کے علاوہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے۔ 
اب رہایہ سوال کہ کتنامال خرچ ہو؟تو نفلی صدقے میں کوئی مقدار متعین نہیں،یہ توہرمومن کے ایمان کے معیارپر موقوف ہے،اوریہ ظاہربات ہے کہ جس کا ایمان جتنامضبوط اور پختہ ہو گا،اس کے پاس اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا جذبہ اتنا ہی زیادہ ہو گا ۔ 
انسان دنیاوی فائدے کے لیے دنیا وی کاموں میں بے دریغ اوربے تحاشامال ودولت لٹادیتا ہے اور اُسے ذرہ برابربھی افسوس نہیں ہو تا،جب کہ اس کا فائدہ صرف دنیا ہی تک محدود رہتاہے،اور وہ بھی یقینی نہیں مگر وہی شخص اللہ کی راہ میں تھوڑاسامال بھی خرچ کرنے میں افسوس کرنے لگتا ہے۔ حالاںکہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کےبڑے فائدے ہیں، جس کاہم میںسے کوئی اندازہ نہیں کرسکتا۔ 
جو کچھ اللہ کی راہ میںخرچ کیاجاتاہے، اللہ رب العزت اُس کی مثال دیتے ہوئےارشاد فرماتا ہے: 
كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍوَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ۝۲۶۱ ( بقرہ) 
ترجمہ: اُس کی مثال اس دانے کی طرح ہے جس سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے،پھراللہ تعالیٰ چاہے تو اُس میں کئی گنا اضافہ بھی کر سکتا ہے ۔ 
اس آیت میں اللہ رب العزت نے کھلی ہو ئی مثال کے ذریعے ہمیںیہ سمجھا دیا کہ ہم جتنا بھی مال اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے اس کا سات سو گنا اجر ہمیں ملے گا اور اللہ چا ہے تو اس اجر کو کئی گنازیادہ کر سکتا ہے ۔ 
کسی بزرگ کا قول ہے کہ انفاق سے نفاق ختم ہو تا ہے۔ یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے دل کا نفاق ختم ہو تا ہے۔ 
چوںکہ ہم آخرت کا فائدہ اور وہاں کی نعمت نہیں دیکھ رہے ہیں، اس لیے ا س کا احساس اور شوق نہیں اور دنیا کا فائدہ دِکھتا ہے، اس لیے اس طرف ہم زیادہ بھاگتے ہیں مگر یاد رکھیے کہ دنیا کی چیزوں سے کہیں زیادہ ایک مومن کو آخرت کی نعمتوں پر یقین ہو نا چاہیے کیو ںکہ اس کی خبر خو د خالق کائنات دے رہا ہے، جس کی بات کی سچائی اور حقیقت میں شک کرنا بھی کفر ہے۔ اُسے بلا چون وچرا دل سے تصدیق کرنا ہی ایمان ہے، چاہے وہ ہمیں نظر آئے یا نہ آئے ، اس لیے کہ اہل ایمان کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں ۔ 
اس تفصیل کی روشنی میں ہر مومن کو اپنے اپنے ایمان کا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ سچے مومن ہیں یا صرف زبان سے محض ایمان کا دعوی کر رہے ہیں؟سچے مومن کی کسوٹی کیا ہے؟ ہمیں قرآن نے بتادیاہے اس پر اپنے آپ کو آزمائیں۔ 
اگر ہم حقیقت میں ایمان سے دور ہیں تو ہمیں کامل ایمان حاصل کرنے کے لیے صراط مستقیم پر چلنا پڑے گا اور سچوں کی صحبت اختیا ر کرنی پڑے گی۔

بشکریہ الاحسان میڈیا انڈیا