أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَخۡفٰى عَلَيۡهِ شَىۡءٌ فِى الۡاَرۡضِ وَلَا فِى السَّمَآءِ

ترجمہ:

بیشک اللہ پر کوئی چیز مخفی نہیں ہے زمین میں اور نہ آسمان میں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک اللہ پر کوئی چیز مخفی نہیں ہے زمین میں اور نہ آسمانوں میں وہی ہے جو ماؤں کے پیٹ میں جس طرح چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے وہ بہت غالب بڑی حکمت والا ہے۔ (آل عمران : ٦۔ ٥)

علم محیط اور قدرت کاملہ پر الوہیت کی بناء کی وجہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا خدا نہ ہونا۔

اللہ تعالیٰ تمام کلیات اور جزئیات اور ہر بڑی اور چھوٹی چیز کا جاننے والا ہے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آسمان اور زمین کا ذکر فرمایا ہے حالانکہ اس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جن چیزوں کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں ان میں سب سے بڑی چیز آسمان اور زمین ہے سو یہ آیت اللہ تعالیٰ کے کمال علم پر دلالت کرتی ہے اور یہ جو فرمایا ہے وہ ماؤں کے پیٹ میں جس طرح چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے تو یہ آیت اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت پر دلالت کرتی ہے اور کمال علم اور کامل قدرت پر ہی الوہیت کا مدار ہے کیونکہ مخلوق کو پیدا کرنا اس کو قائم رکھنا ان کی ضروریات اور ان کی بہتری کی چیزوں کو فراہم کرنا اور ان کے اعمال کا محاسبہ کرنا اور اس کے مطابق ان کو جزاء اور سزا دینا یہ تمام امور وہی انجام دے سکتا ہے جس کا علم ہر شے پر محیط ہو اور اس کو ہر چیز پر قدرت ہو۔

اس آیت میں عیسائیوں کا رد کیا گیا ہے کیونکہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کہتے تھے اور ان کا شبہ یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) غیب کی خبریں دیتے تھے یہ ان کا کمال علم ہے ‘ اور وہ مردوں کو زندہ کرتے تھے یہ کمال قدرت ہے۔ اور علم اور قدرت کے کمال پر ہی مدار الوہیت ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس شعبہ کو زائل فرمایا ہے کہ الہ (خدا) وہ ہے جس کو ہر چیز کا علم ہو دوچار غیب کی باتیں جان لینے سے کوئی شخص خدا نہیں ہوتا جب کہ وہ دوچار باتیں بھی خدا کی بتائی ہوئی ہوں۔ اور یہ بالکل بدیہی بات ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تمام چیزوں کو جاننے والے نہیں تھے۔ اسی طرح دو چار چیزیں بنا دینے سے کوئی خدا نہیں ہوتا جب کہ ان کا بنانا بھی خدا کی دی ہوئی قدرت سے ہو۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی ماں کے پیٹ میں ان کی صورت بنائی اور جس طرح چاہا ان کی صورت بنائی اس عمل میں ان کا کوئی اختیار نہیں تھا پھر وہ خدا کیسے ہوسکتے ہیں ! اللہ تعالیٰ نے علم اور قدرت کے بیان کے بعد فرمایا اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں پہلے دلیل بیان کی پھر دعوی کا ذکر فرمایا پھر فرمایا وہ عزیز اور حکیم ہے حکمت کا معنی ہے ہر چیز کو اس کی مناسب جگہ پر رکھنا یہ اس کے علم محیط کا تقاضا ہے اور عزیز کا معنی ہے غالب اور یہ اس کی قدرت کا تقاضا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 5