محبت الٰہی

اصغر علی مصباحی

اللہ رب العزت کی محبت اور اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے محبت ، ایک ایسی نعمت ہے جو دین ودنیا ہر جگہ فلاح ونجات کے لیے کافی ہے۔ذیل میں کچھ احادیث کریمہ پیش کی جارہی ہیں جن سے محبت الٰہی کی اہمیت وافادیت بخوبی واضح ہوتی ہے:
 ۱۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا:
 یارسول اللہ! قیامت کب آئےگی؟ 
اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
مَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ قَالَ: حُبُّ اللهِ وَرَسُوْلِهٖ، قَالَ: فأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ۔(صحيح مسلم،باب المرء مع من احب )
 ترجمہ:تم نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ 
اس نے عرض کیا کہ دل میں اللہ اُس کے رسول کی محبت کوبسارکھی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت میں تم اُسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم کو محبت ہے ۔ 
۲۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کابیان ہےکہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا : زَارَ رَجُلٌ أَخًالَهٗ فِي قَرْيَةٍ فَأرْصَدَ اللهُ لَهٗ مَلَكاً عَلٰى مَدْرَجَتِهٖ، فَقال: أَيْنَ تُرِيْدُ؟ قَال: أَخًا لِّي فِي هٰذِهِ الْقَرْيَةِ، فَقَالَ: هَلْ لَهٗ عَلَيْكَ مِن نِعْمَةٍ تَرُبُهَا؟ قَالَ: لَا، إِنِّي أُحِبُّهٗ فِي اللهِ، قَال: فَإنِّی رَسُوْلُ اللهِ إِلَيْكَ أنَّ اللهَ أَحَبَّكَ كَمَاأَحْبَبْتَهٗ۔(الادب المفرد، باب الرجل یحب قوماولمایلحق بہم )
 ترجمہ: ایک شخص اپنے بھائی کی زیارت کے لیے دوسری بستی میں گیا تو اللہ تعالیٰ نے راستے میں ایک فرشتے کو بھیجا،اس فرشتے نے پوچھاکہ کہاں کا ارادہ ہے؟اس شخص نے جواب دیا کہ اس بستی میں میرا ایک بھائی رہتا ہے اُسی سے ملنے جا رہا ہوں۔فرشتے نے کہاکہ کیا تمہارے اوپر اُس کا کوئی احسان ہے جسے تم چکا نا چاہتے ہو؟اُس نے کہا نہیں، بلکہ میں اس سے صرف اللہ کے لیے محبت کرتاہوں۔فرشتے نے کہاکہ میں اللہ کا فرستادہ ہوں، اللہ تعالیٰ بھی تم سے اُسی طرح محبت کرتا ہے جس طرح تم اللہ کے لیے اس سے محبت کرتے ہو ۔ 
 ۳۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 إِذَا أَحَبَّ اللهُ العَبْدَ نَادٰى جِبْرِيْلَ: إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحْبِبْهٗ، فَيُحِبُّهٗ جِبْرِيْلُ، فَيُنَادِي جِبْرِيْلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ، إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوْهُ، فَيُحِبُّهٗ أَهْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يُوْضَعُ لَهُ القَبُوْلُ فِي الأَرْضِ۔ (صحیح بخاری،باب ذکر الملائکۃ) 
ترجمہ:جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرئیل کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو،توحضرت جبرئیل اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ،پھر حضرت جبرئیل آسمان والوں سے کہتےہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاںبندے سے محبت کرتاہے تم بھی اس سے محبت کرو،توآسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر وہ دنیا میں سب کی آنکھوں کا تارا ہوجاتا ہے۔
 اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک لشکر کا امیر بنا کر روانہ کیا، وہ اپنے ساتھیوںکی امامت کرتا اورہر رکعت قُلْ ہُوَ اللہُ پر ختم کرتا۔ 
جب اس کے ساتھی واپس ہوئے تواُنھوں نےوہ ساری باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوبتائیں۔
 اس پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : 
 سَلُوْهُ لِأَيِّ شَيْءٍ يَصْنَعُ ذٰلِكَ؟فَسَأَلُوْهُ، فَقَالَ: لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمٰنِ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أَخْبِرُوْهُ أَنَّ اللهَ يُحِبُّهٗ۔ (صحیح مسلم،باب فضل قراءۃ قل ھواللہ احد) 
ترجمہ:اس سے دریافت کروکہ وہ ایسا کیوں کرتا تھا ؟ لوگوں نے دریافت کیا تو اُس نے جواب دیاکہ وہ ایسااس لیے کرتا تھاکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی صفتیںبیان کی گئی ہیں، چنانچہ میں چاہتا ہوں کہ اسی سے اپنی رکعت ختم کروں۔
 یہ سن کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُسے بتادوکہ اللہ تعالیٰ اُس سے محبت فرماتا ہے ۔ 
۴۔حضرت عمروبن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
 إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: قَدْ حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَحَابُّوْنَ مِنْ أَجْلِي، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِيْنَ يَتَصَافُّحوْنَ مِنْ أَجْلِي، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِيْنَ يَتَزَاوَرُوْنَ مِنْ أَجْلِي، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِيْنَ يَتَبَاذَلُوْنَ مِنْ أَجْلِي، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِيْنَ يَتَنَاصَرُوْنَ مِنْ أَجْلِي۔ (مسند احمد،عمروبن عبسہ ) 
ترجمہ: اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جو لوگ میری وجہ سے آپس میں محبت کرتے ہیں ،ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں، زیارت کے لیےجاتے ہیں ، ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیںایسے لوگوں کے لیے میری محبت ثابت ہوچکی ہے۔
 ۵۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
إنَّ عِظَمَ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ، وَإِنَّ اللهَ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ، فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا وَمَنْ سَخِطَ فَلَهُ السَّخَطُ۔ (شعب الایمان،فی ای الناس اشدبلاء ) 
ترجمہ:اللہ کا انعام واکرام آزمائش کے مطابق ملتاہے، واقعی اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اُسے کسی آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے،پھرجو اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہتاہےاُس کو اللہ تعالیٰ کی رضا ملتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے فیصلے سے نا خوش رہتا ہےاللہ تعالیٰ بھی اُس سےناخوش رہتا ہے ۔ 
۶۔حضرت عبداللہ بن یزیدخطمی انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعامیں یہ فرمایا کرتے تھے: 
اللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يَنْفَعُنِي حُبُّهٗ عِنْدَكَ، اللّٰهُمَّ مَا رَزَقْتَنِي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهٗ قُوَّةً لِّي فِيْمَا تُحِبُّ، اللّٰهُمَّ وَمَا زَوَيْتَ عَنِّي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهٗ فَرَاغًا لِّي فِيْمَا تُحِبُّ۔ (سنن ترمذي،حدیث:۳۴۹۱ )
 ترجمہ:یااللہ! مجھے اپنی محبت عطا فرمااور اُس کی محبت عطا فرما جس کی محبت تیرے نزدیک نفع بخش ہو۔یا اللہ! تونے مجھے میری پسند کے مطابق جورزق عطا فرمایا اُسے اپنی محبوب چیز کے لیے قوت بخش بنا اور جو تونے میری پسندیدہ چیز کو روک رکھاہے اس کے ذریعےاپنی محبوب چیز میں شامل کرکے مجھےفارغ کر دے۔
 ۷۔حضرت سعدبن وقاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِيَّ، الْغَنِيَّ، الْخَفِيّ۔ (صحيح مسلم،کتاب الزہد والرقائق) 
ترجمہ:یقیناً اللہ تعالیٰ متقی ،مالداراور گمنام بندے کو محبوب رکھتا ہے ۔ 
۸۔ حضرت معاذ بن جبل بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: المُتَحَابُّوْنَ فِي جَلَالِي لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّوْنَ وَالشُّهَدَاءُ۔ (سنن ترمذی،باب الحب فی اللہ) 
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے فرما یاکہ میری عظمت وجلال کی خاطر آپس میں محبت کرنے والوں کے لیے نور کے منبر ہوںگے جسے دیکھ کر انبیا اور شہدابھی رشک کریں گے۔ 
۹۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
 إِنَّ اللهَ قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَخْلَاقَكُمْ، كَمَا قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي الدُّنْيَا مَنْ يُّحِبُّ وَمَنْ لَا يُحِبُّ، وَلَايُعْطِي الدِّيْنَ إِلَّا لِمَنْ أَحَبَّ، فَمَنْ أَعْطَاهُ اللهُ الدِّينَ، فَقَدْ أَحَبَّهٗ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ، لَايُسْلِمُ عَبْدٌ حَتّٰى يَسْلَمَ قَلْبُهٗ وَلِسَانُهٗ، وَلَا يُؤْمِنُ حَتّٰى يَأْمَنَ جَارُهٗ بَوَائِقَهٗ، قَالُوْا:وَمَا بَوَائِقُهٗ يَا نَبِيَّ اللهِ؟ قَالَ: غَشْمُهٗ وَظُلْمُهٗ، وَلَا يَكْسِبُ عَبْدٌ مَالًا مِنْ حَرَامٍ، فَيُنْفِقَ مِنْهُ فَيُبَارَكَ لَهٗ فِيْهِ، وَلَا يَتَصَدَّقُ بِهٖ فَيُقْبَلَ مِنْهُ، وَلَايَتْرُكُ خَلْفَ ظَهْرِهٖ إِلَّا كَانَ زَادَهٗ إِلَى النَّارِ، إِنَّ اللهَ عَزَّوَجَلَّ لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ، وَلٰكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ، إِنَّ الْخَبِيْثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيْثَ ۔ (مسند احمد،مسندعبداللہ ابن مسعود) 
 ترجمہ:اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان رزق کی طرح اخلاق کو تقسیم کردیاہے ،اللہ تعالیٰ دنیا اُسے بھی دیتا ہے جس سےمحبت کرتاہے اور اُسے بھی دیتاہےجس سے محبت نہیں کرتا، لیکن دین صرف اُسی کودیتا ہے جس سے محبت کرتا ہے ،لہٰذا جسے اللہ نے دین دیایقیناًاس سے محبت کی۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے !کوئی بندہ مسلم ہوہی نہیں سکتاجب تک کہ اس کا دل اور اُس کی زبان سلامت نہ رہے، اور مومن ہوہی نہیں سکتا جب تک کہ اس کاپڑوسی اس کی آفتوںسے سلامت نہ رہے۔
 صحابہ کرام نے عرض کیاکہ یانبی اللہ! پڑوسی کی آفتیں کیا ہیں ؟آپ نے فرمایاکہ یہ پڑوسی کودھوکہ دینا اوراُس پر ظلم کرناہے۔جوکوئی حرام کی کمائی کرکےاُس کو خرچ کرتا ہے، تاکہ اس میں برکت ہو،یاصدقہ کرتا ہےکہ وہ قبول ہو، اور اپنے وارثوں کے لیے چھوڑتاہے تو یہ سب اُس کو دوزخ ہی کی طرف لے جانے والے ہیں ،کیوںکہ اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا، بلکہ برائی کو اچھائی سے مٹاتا ہے، اس لیےکہ برائی، برائی کو نہیں مٹا سکتی ۔