ایمان کے دوحصے : محبت اور اطاعت

غلام مصطفی الازہری

جس نے محبت،دشمنی، منع اورعطا صرف اللہ کی رضاحاصل کرنےکے لیےکیا اُس کا ایمان کامل ہوگیا

اللہ،رسول اور صالحین کی محبت انسان کی فطرت میں ودیعت کردی گئی ہے ۔ اللہ رب العزت کائنات کی ہرچیز کا خالق و مالک ہےاورمربی ومحسن ہے، اسی لیے فطری طورپر ہر شئے اس کی مدح و ثنا کرتی ہے۔ اسی فطری محبت کا تقاضا ہےکہ جو ذات یاجوشئے اللہ تعالیٰ کا پتادے گی وہ اُس کی معرفت کا ذریعہ بنےگی،لہٰذااِنسان بھی اللہ کی معرفت کے لیے لازمی طورپراُس ذات یااُس شئے سے محبت کرے گا۔ 
چنانچہ انبیاومرسلین اور صالحین سے اس کی محبت بھی اسی لیے ہے،کیوں کہ یہ لوگ ہمیں اللہ تک پہنچانے میں مدد کرتے ہیں،ان ہی نیک ہستیوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنا پیغام عام بندوں تک پہنچاتاہے، اور اپنے بندوں کا تزکیہ و تطہیر بھی اُن ہی صالح بندوں کے ذریعے فرماتا ہے ۔ 
سورۂ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کواپنی معرفت و ہدایت طلب کر نے کا سلیقہ سیکھایا ہے اور اُس کے حصول کے لیے اولیائےکرام اور انبیائےکرام کو رہنمااور مقصود قرار دیاہے ۔ 
 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 
اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ۝۵ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۝۶(سورۂ فاتحہ) 
ترجمہ:یااللہ ! تو مجھے سیدھے راہ کی ہدایت دے،اُن لوگوں کی راہ کی جن پر تو نے اپنا انعام فرمایا ہے۔ 
 اللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ لوگ کون ہیں؟اس تعلق سے قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 
 وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ۝۶۹(نسا)
 یعنی جولوگ اللہ و رسول کی اتباع کرتے ہیں وہ لوگ ان کے ساتھ ہوںگے جن پر اللہ نے انعام فرمایاہے یعنی مطیع و فرماں بردارلوگ انبیا، صدیقین، شہدا اورصالحین کے ساتھ ہوں گے۔ 
 انبیا و صالحین کی اطاعت کا ذکر آیات قرآنیہ و احادیث نبویہ میں اس کے علاوہ بھی متعدد مقامات پر ہے : آیات کریمہ  میں محبت والفت قرآن کریم میں ہے:
 ۱۔قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِيْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۝۲۴(توبہ)
 ترجمہ:اے محبوب!آپ فرمادیں کہ تمہارے باپ، تمہاری اولاد،تمہارے بھائی،تمہاری عورتیں،تمہاراکنبہ، تمہاری کمائی کے مال، وہ تجارت جس میںنقصان کا خوف ہے اور تمہارے پسندیدہ مکان ،اگریہ تمام چیزیں اللہ ورسول اور اللہ کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پسند ہوں تو اللہ کے حکم کا انتظار کرو،اور اللہ تعالیٰ فاسق قوموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ 
۲۔لِتُؤْمِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهٖ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّرُوْهُ وَتُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّأَصِيْلًا ۝۹(فتح) 
ترجمہ:تاکہ تم اللہ اوراُس کے رسول پر ایمان لے آؤ، اُن کی تعظیم وتوقیرکرو،اورصبح وشام اُس کی پاکی بیان کرو۔

 احادیث کریمہ میں محبت والفت حدیث پا ک میں ہے:

 ۳۔ ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيْهِ وَجَدَ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ: أَنْ يَّكُوْنَ اللهُ وَرَسُوْلُهٗ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا،وَأَنْ يُحِبَّ المَرْءَ لَايُحِبُّهٗ إِلَّا لِلهِ، وَأَنْ يَّكْرَهَ أَنْ يَّعُوْدَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُّقْذَفَ فِي النَّارِ۔ (بخاري،باب حلاوۃ الایمان)
 ترجمہ:تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس کے اندریہ تینوں خصلتیں ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت پائے گا،یہ کہ اُس کے نزدیک اللہ ورسول سے زیادہ کوئی محبوب نہ ہو،اللہ ہی کے لیے انسان سے محبت کرے اور وہ کفر میں لوٹنے کو ایسے ہی ناپسند کرے جیسے وہ جہنم میں جانے کو ناپسند کرتا ہے۔
 ۴۔ مَنْ أَحَبَّ لِلهِ، وَأَبْغَضَ لِلهِ، وَأَعْطَى لِلهِ، وَمَنَعَ لِلهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ۔(ابو داؤد،باب الدلیل علی زیادۃ الایمان)
 ترجمہ:جس نے محبت،دشمنی،منع اورعطاصرف اللہ کی رضا حاصل کرنےکے لیےکیا اُس کا ایمان کامل ہوگیا۔

 آیات کریمہ میں طاعت وفرماں برداری

 قرآن کریم میں ہے: 
 ۱۔وَمَنْ يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَه فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا۝۷۱ (سورۂ احزاب)
 ترجمہ:جو مومن اللہ اور اُس کے رسول کی فرماںبرداری کرتا ہےوہی سب سے زیادہ کامیاب ہے۔ 
 ۲۔يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا أَطِيْعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ۝۵۹(نسا) 
ترجمہ:اے ایمان والو!اللہ،رسول اور اپنے امیر کی اطاعت کرو۔ 
۳۔وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ۝۱۵ (لقمان)
 ترجمہ:تم اس کی اتباع کرو جو میری طرف مائل ہو۔ 
 کیوں کہ اُن کی اتباع کے بغیر اوراُن کی راہ اختیار کیے بغیر ہم اللہ تک نہیں پہنچ سکتے ہیں،اورنہ ہی نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ 
 احادیث کریمہ میں طاعت وفرماں برداری حدیث پا ک میں ہے: 
۱۔عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ، فِيمَا أَحَبَّ أَوْ كَرِهَ، إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَمَنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَلَا سَمْعَ عَلَيْهِ وَلَا طَاعَةَ۔(سنن ابن ماجہ،باب :لا طاعۃ فی معصیۃ اللہ) 
ترجمہ:مسلمان پر واجب ہے کہ بات سنے اور اُس کی اطاعت بھی کرے خواہ اُسے پسندہو،یاناپسند ہو ،اوراگر گناہ کا حکم دیاجائے تو نہ بات سنے اور نہ اُس بات کی اطاعت کرے ، کیوں کہ جس کو گناہ کا حکم دیاجائے اُس پر نہ بات سننا واجب ہےاور نہ اُس کی اطاعت وفرماں برداری ۔
 دوسری حدیث پاک میں ہے: 
 إِنِّي تَارِكٌ فِيْكُمُ الثَّقَلَيْنِ مِنْ بَعْدِي:كِتَابَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي ، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتّٰى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ۔
(معجم کبیر،زیدبن ارقم انصاری)
 ترجمہ:میں اپنے بعدتمہارے درمیان دو قیمتی چیزیں چھوڑے جارہاہوں،ایک اللہ عزوجل کی کتاب(قرآن )اور دوسری اپنی عترت واہل بیت ، اور وہ کبھی بھی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوں گی جب تک کہ وہ دونوں مجھ سے حوض کوثر پر نہ ملیں۔  
غرض کہ ایمان کے دو حصے ہیں:نصف کا نام محبت ہے اور نصف کانام طاعت ۔بغیر محبت کے طاعت بے سودہے ، درخت بے ثمرہے اور بغیر طاعت کے محبت کادعویٰ ناقص و ناتمام ہے، بلکہ نفاق کی علامت ہے۔ طاعت و فرماں برداری کرنے والوں کی وہ جماعت جو جذبۂ محبت سے خالی ہواُسے ہم خارجی کہہ سکتے ہیں،کیوں کہ خارجی دین دار تھے اور علم و عمل والے بھی تھے،مگر اِنِ الْحُكْمُ اِلَّالِلهِ۝۵۷(انعام)یعنی’’اللہ کے علاوہ کسی کی حاکمیت نہیں‘‘کے علم بردار ہوئےاورامیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی امارت وسیادت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔گویا امیر کی محبت و امارت تسلیم کیے بغیر اللہ کی عبادت کرناحقیقتاً اللہ کی نہیں،بلکہ نفس پرستی ہوئی جو سخت ضلالت وگمراہی ہے۔
 اس کے مقابل میں ایک دوسری جماعت سامنے آئی جو محبتِ امیر کا خوب دم بھرتی رہی لیکن اُن کے دل جذبۂ ایثار و قربانی سے خالی رہے اور طاعت و فرماں برداری کے نام پر صرف دعویٔ محبت ِاہل بیت ہی رہا،یہ سرا سر نفاق کی نشانی ہے۔ اس جماعت کو رافضی یا شیعہ سے موسوم کیا گیا ہے۔ 
 جو شخص بھی ان دونوں صفات میں سے جس صفت کا حامل ہوگا اُس کا حشر اسی صفت والوں کے ساتھ ہوگا اگرچہ وہ کسی بھی مسلک و مشرب سے اپنا انتساب کرتاہو، صوفیائے کرام کی جماعت میں اپنا شمار کرتا ہویا اہل سنت و جماعت سے اپنے آپ کو منسوب کرتا ہو ۔ 
 آج جو لوگ اولیا سے محبت کا دم بھرتے ہیں اور اُن کی اطاعت نہیں کرتے ،فرائض و واجبات کی ادائیگی نہیں کرتے، منہیات سے نہیں بچتے اُن کے اندر صفتِ رفض پائی جاتی ہے۔جب شیعانِ علی گمراہ ہوسکتے ہیں تو شیعانِ ولی کیوں نہیں ؟ اللہ و رسول اور امیر کی اطاعت کے بغیر صرف محبت کا دم بھرنے والے یقینا ًجہنم میں جائیں گے۔ 
 اسی طرح جو لوگ اللہ و رسول سے محبت کے بغیر اپنے علم و عبادت ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں ان کے اندر خارجیت و ابلیسیت کا عنصر پایا جاتا ہے، ان کے سارے علم و عمل بے کار ہوجائیں گے ، قیامت میں ان کے منھ پر ماردیے جائیں گے اوراُنھیں افسوس کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہ آئے گا۔