أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوۡمٍ لَّا رَيۡبَ فِيۡهِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ

ترجمہ:

اے ہمارے رب ! بیشک تو لوگوں کو اس دن جمع فرمانے والا ہے جس کے وقوع میں کوئی شک نہیں ہے، بیشک اللہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ،

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ہمارے رب بیشک تو لوگوں کو اس دن جمع فرمانے والا ہے جس کے وقوع میں کوئی شک نہیں ہے بیشک اللہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ (آل عمران : ٩)

خلف وعد کا محال ہونا اور خلف وعید کا جائز ہونا :

علماء راسخین نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ وہ ہدایت دینے کے بعد ان کے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرے اور ہدایت یافتہ ہونے اور دلوں میں کجی نہ ہونے کا ثمرہ قیامت کے دن ظاہر ہوگا اس لئے انہوں نے کہا کہ وہ قیامت کے دن پر یقین رکھتے ہیں ‘ اور جزاء اور سزا کے جاری ہونے کے لئے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے پر ایمان رکھتے ہیں ‘ اور قیامت کے دن پر اعتقاد رکھنے کی وجہ سے ہی انہوں نے یہ دعا کی تھی کہ اے اللہ ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرنا۔

” بیشک اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا “ اللہ تعالیٰ صالحین کو نیک کاموں پر انعام دینے کی جو خبر دی ہے اس کو وعد کہتے ہیں اور فساق مومنین کو برے اعمال پر سزا دینے کی جو خبر دی ہے اس کو وعید کہتے ہیں ‘ اس پر اتفاق ہے کہ خلف وعد محال ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے نیکوکاروں سے جو ثواب عطا فرمانے کا وعدہ کیا ہے وہ اس کے خلاف نہیں کرے گا ‘ کیونکہ کریم جب کسی انعام کا وعدہ کرلے تو اس کے خلاف نہیں کرتا ‘ اور اگر وہ اس وعدہ کے خلاف کرے تو یہ اس کا عیب شمار کیا جاتا ہے اور اللہ عیب سے پاک ہے ‘ اور اگر مجرم کو سزا کی خبر دے اور پھر اس کو سزا نہ دے اور اپنی وعید کے خلاف کرے تو اس پر اس کی مدح کی جاتی ہے اور اسے اس کے محاسن میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے لئے خلف وعید جائز ہے ” مثلا اللہ تعالیٰ نے سود خوروں ‘ قاتلوں اور جھوٹوں پر عذاب کی وعید سنائی ہے لیکن اس کے باوجود یہ جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وعید کے خلاف کرے اور کسی مسلمان کو ان گناہوں پر عذاب نہ دے۔ اب یہ سوال ہوگا کہ اگر خلف وعید کو مان لیا جائے تو اللہ تعالیٰ کے کلام کا کاذب ہونا لازم آئے گا اور اللہ تعالیٰ کے کلام کا کاذب ہونا محال ہے اس کا جواب یہ ہے کہ خلف وعید سے کذب لازم نہیں آتا کیونکہ جن آیات میں عذاب کی وعید بیان کی گئی ہے وہ عدم عفو کے ساتھ مقید ہیں یعنی اللہ تعالیٰ قاتل اور سود خور کو دوزخ کا عذاب دے گا بہ شرطی کہ اس کو معاف نہ کرے اس لئے اگر اللہ تعالیٰ نے فساق مومنین کو معاف کردیا اور عذاب نہیں دیا تو اس کا کلام جھوٹا نہیں ہوگا۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 9