حدیث نمبر :166

روایت ہے حضرت بلال ابن حارث مزنی سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو میری مردہ سنت کو جو میرے بعد فنا کردی گئی زندہ کرے ۲؎ اسے ان تمام کی برابر ثواب ہوگا جو اس پر عمل کریں اس کے بغیر کہ ان عاملوں کے ثواب سے کچھ کم ہو۳؎ اور جو گمراہی کی بدعت ایجاد کرے جس سے اﷲ رسول راضی نہیں ۴؎ اس پر ان سب کی برابر گناہ ہوگا جو اس پر عامل ہوں اور یہ ان کے گناہوں سے کچھ کم نہ کرے گا اسے ترمذی نے روایت کیا۔

شرح

۱؎ آ پ صحابی ہیں، ۵ ھ؁ میں وفد مدینہ میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام لائے،۸۰سال کی عمر پاکر ۶۰ ھ؁ میں وفات پائی،مدینہ منورہ کے پاس مقام ستغری میں قیام تھا۔

۲؎ یعنی جس سنت کو لوگوں نے چھوڑ دیا ہو اس پر خود بھی عمل کرے اور دوسرے کو بھی عمل کی رغبت دلائے جیسے زمانۂ موجودہ ہیں داڑھی رکھنا۔

۳؎ کیونکہ یہ اﷲ کا بندہ اس سنت کے زندہ کرنے میں لوگوں کے طعنے اور مذاق برداشت کرتا ہے،سنت کی خاطرسب سختیاں جھیلتا ہے،لہذا بڑا غازی ہے۔جو بھلائی کے موجد کو ثواب ملتا ہے وہی بھلائی کے پھیلانے والے کو۔

۴؎ یہاں بدعت موصوف ہے اور ضلالت صفت اور جب نکرہ نکرے کی صفت ہو تو تخصیص کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔یہاں ضلالت کی قید بدعت حسنہ کو نکالنے کے لیئے ہے۔(مرقاۃ)یعنی بری بدعتوں کا موجد مجرم ہے جیسے اردو میں نماز و اذان یا اور تمام خلاف سنت کام۔اور اچھی بدعتوں کا موجد ثواب کا مستحق ہے جیسے علم صرف ونحو کے موجد،اسلامی مدرسے،عرس بزرگان،میلاد شریف اور گیارہویں شریف اور گیارہویں شریف کی مجالس کے موجد،اس کی بحث پہلےگزر چکی یہ حدیث تقسیم بدعت کی اصل ہے اس کا ذکر”کتاب العلم” میں بھی آئے گا۔

حدیث نمبر :167

اور ابن ماجہ نے کثیر ابن عبداللہ ابن عمرو سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ۱؎

شرح

۱؎ کثیر ابن عمرو باتفاق راوی ضعیف ہے،امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ بہت جھوٹا آدمی تھا اس کے دادا عمرو ابن عوف صحابی ہیں،قدیم الاسلام ہیں انہی کے بارے میں یہ آیتِ کریمہ اتری”تَوَلَّوۡا وَّ اَعْیُنُہُمْ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمْعِ “آپ مدینہ منورہ میں رہے اورحضرت امیرمعاویہ کے زمانہ میں وفات پائی،جنگ بدر میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ تھے۔