مومن کےاوصاف

جہانگیر حسن مصباحی

جوشخص نرمی سے محروم رہا وہ ہرطرح کی بھلائی سے محروم ہوگیا

اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی چیزیں پیداکی ہیں اُن کی کچھ نہ کچھ خاصیتیں ہیں،اُن کےکچھ اوصاف اور علامتیں ہیں جن کی بنیادپر اُنھیں پہچاننا بہت ہی آسان ہے۔

مثال کے طورپر شکر کی خاصیت میٹھاہوناہے اور نمک کی خاصیت نمکین ہونا ہے ،تو شکر بہرحال میٹھاہی ہوگا اور نمک بہرحال نمکین ہی ہوگا،اُسی طرح ہرمومن کی یہ خاصیت ہے کہ وہ اچھے اخلاق وکردارکا مالک ہو۔

اب چوں کہ اچھےاخلاق و کردارکا مالک ہوناایک مومن کی خاصیت ٹھہری توجو مومن اچھے اخلاق وکردارکا مالک نہیں وہ اگرچہ دنیامیں خودکومومن کہتاکہلواتاہے،لیکن اللہ ورسول کے نزدیک مومن کہلانے کاحق دارنہیں۔

 ذیل میں چنداحادیث کریمہ پیش کی جارہی ہیں،تاکہ یہ اندازہ کیاجاسکےکہ اچھے اخلاق وکردارمیںکون کون سے اوصاف  اوراچھائیاں شامل ہیں:

 ۱۔ خندہ پیشانی سے ملنااورسلام کرنا

حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا:

لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا،وَلَوْ أَنْ تَلْقَ أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ۔ (مسلم،باب:استحباب طلاقۃ الوجہ عنداللقاء)

ترجمہ:خیر کو ذرہ برابر بھی حقیرنہ سمجھو،اگرچہ اپنے بھائی سے خندہ پیشانی ہی سے ملناہو۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ۔ (مسلم،باب:بیان انہ لایدخل الجنۃ الا المومنون)

 ترجمہ:آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔

 ۲۔ بُردباری اورنرمی

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

 إِنَّ فِيْكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ: الْحِلْمُ، وَالْأَنَاةُ۔ (مسلم،باب الامربالایمان باللہ ورسولہ)

 ترجمہ:اللہ کو تمہاری دوخصلتیں بہت پسند ہیں،ایک بُردباری اور دوسری نرمی۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ یہودیوں کی جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اوریہ کہا:

 السَّامُ عَلَيْكُمْ۔(تم مرجاؤ)۔

یہ سن کر حضرت عائشہ صدیقہ نے جواب دیا:

وَعَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ(تم مرجاؤ اورتم پر لعنت ہو)۔

اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَهْلًا يَاعَائِشَةُ! إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهٖ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ قُلْتُ: وَعَلَيْكُمْ۔(بخاری،الرفق فی کل الامر)

 ترجمہ: اے عائشہ!ایسا نہ کہو،کیوںکہ اللہ ہر معاملات میں نرمی کو پسند فرماتاہے۔

 یہ سن کر حضرت عائشہ صدیقہ نے عرض کیا:

یارسول اللہ!کیا اُن کی بات آپ نے نہیں سنی؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

میں نے اس کا جواب دے دیا ہے :

 وَعَلَيْكُمْ۔(تم پر بھی وہی ہو)

حضرت جریررضی اللہ عنہ کابیان ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ، يُحْرَمِ الْخَيْرَکُلَّہٗ۔( مسلم ،باب فضل الرفق)

 ترجمہ: جو نرمی سے محروم رہا وہ ہرطرح کی بھلائی سے محروم ہوگیا۔

 ۴۔ سخاوت ومروت

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

 السَّخِيُّ قَرِيبٌ مِنَ اللهِ، قَرِيبٌ مِنَ الجَنَّةِ، قَرِيبٌ مِنَ النَّاسِ، بَعِيدٌ مِنَ النَّارِ،وَالبَخِيلُ بَعِيدٌ مِنَ اللهِ، بَعِيدٌ مِنَ الجَنَّةِ، بَعِيدٌ مِنَ النَّاسِ، قَرِيبٌ مِنَ النَّارِ۔(ترمذی،باب ماجاء فی السخاء)

ترجمہ:سخی مومن،اللہ ،جنت اورلوگوںسے قریب ہوتا ہے، جب کہ بخیل اور تنگ دل ،اللہ،جنت اورلوگوں سے دور ہوتا ہے،اور جہنم سے قریب ہوتا ہے۔

 حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماکا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاارشادہے:

 وَاتَّقُوا الشُّحَّ، فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، حَمَلَهُمْ عَلٰى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ۔ (صحیح مسلم،باب تحریم الظلم)

ترجمہ :بخل سے بچو،کیوں کہ بخل ہی نے اگلی قوموں کو خوں ریزی پر اُکسایااور حرام کو حلال کیاجس کی وجہ سے وہ تباہ وبرباد ہوگئیں۔

حضرت ابو سعید خدری کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

خَصْلَتَانِ لَاتَجْتَمِعَانِ فِي مُؤْمِنٍ: البُخْلُ وَسُوءُ الخُلُقِ۔ (سنن ترمذی،باب البخل )

ترجمہ: مومن میں دوخصلتیں اکٹھا نہیں ہوتیں،ایک بخل اوردوسری بداخلاقی ۔

۵۔ اخوت ومحبت اورنصیحت

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهٖ، لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتّٰى يُحِبَّ لِأَخِيْهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهٖ مِنَ الْخَيْرِ۔ (سنن نسائی،باب:علامۃ الایمان)

ترجمہ : اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمدکی جان ہے، تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک خیرمیں سے وہ چیز اپنے بھائی کے لیےپسند نہ کرلے جووہ اپنے لیے پسندکرتا ہے۔

حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 إِنَّ الدِّيْنَ النَّصِيْحَةُ إِنَّ الدِّيْنَ النَّصِيْحَةُ إِنَّ الدِّيْنَ النَّصِيْحَةُ، قَالُوْا: لِمَنْ يَا رَسُوْلَ اللهِ! قَالَ:لِلهِ وَكِتَابِهٖ وَرَسُولِهٖ، وَأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ، وَعَامَّتِهِمْ، أَوْ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَعَامَّتِهِمْ۔(ابوداؤد،باب فی النصیحۃ)

 ترجمہ :بے شک دین نصیحت ہے،بے شک دین نصیحت ہے،بے شک دین نصیحت ہے۔صحابۂ کرام نے عرض کیا: یارسول اللہ !دین کس کے لیے نصیحت ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ،کتاب اللہ،رسول اللہ،اورعام وخاص مومنین ومسلمین کے لیے۔

۶۔ سچائی سے محبت جھوٹ سے نفرت

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ،وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتّٰى يُكْتَبَ صِدِّيْقًا۔ (مسلم،باب:قبح الکذب وحسن الصدق وفضلہ)

 ترجمہ:سچ خیر کی طرف رہنمائی کرتا ہے اورخیر جنت کی طرف ،اور انسان کو اُس وقت تک سچ بولتے رہناچاہیے یہاں تک کہ دنیا اُسے صادق کہنے لگے۔

حضرت ابوحورا سعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہماسے دریافت کیا کہ آپ نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کس فرمان کو یادرکھا تو اُنھوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس فرمان کویادرکھا کہ

 دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلٰى مَا لَا يَرِيْبُكَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِيْنَةٌ، وَإِنَّ الكَذِبَ رِيْبَةٌ۔(ترمذی،حدیث:۲۵۱۸)

ترجمہ:جو تجھے شک میں مبتلا کردے اُسے چھوڑ دو،اور اُسے اختیارکروجو تجھے شک میں مبتلا نہ کرے۔بےشک سچ سے اطمینان قلب حاصل ہوتاہے اور جھوٹ سے اضطراب و بےچینی حاصل ہوتی ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 آيَةُ المُنَافِقِ ثَلاَثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ۔(بخاری،باب علامۃ المومن)

 ترجمہ:منافق کی تین نشانیاں ہیں:جب بھی بولے گا جھوٹ بولے گا،جب بھی وعدہ کرے گا وعدہ خلافی کرے گا اور جب بھی اس کے پاس امانت رکھی جائےگی اُس میں خیانت کردے گا۔

۷۔صبر ورضااورشکر

حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ۔(مسلم،باب فضل الوضو)

ترجمہ: صبر ایک خاص روشنی ہے۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 الْإِيمَانُ نِصْفَانِ:نِصْفٌ فِي الصَّبْرِ، وَنِصْفٌ فِي الشُّكْرِ۔ (شعب الایمان،باب فی الصبرعلی المصائب )

ترجمہ: ایمان کے دو حصے ہیں،ایک حصہ صبر ہے اور ایک حصہ شکرہے۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

 الصَّبْرُ نِصْفُ الْإِيمَانِ، وَالْيَقِيْنُ الْإِيمَانُ كُلُّهٗ۔ (شعب الایمان،باب القول فی زیادۃ الایمان ونقصانہ)

ترجمہ: صبر آدھا ایمان ہے اور یقین مکمل ایمان ہے۔

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ۔ (بخاری،باب الاستعفاف عن المسئلہ )

ترجمہ:کسی کو بھی صبر سے اچھااوربہترعطیہ نہیں دیا گیا۔

 ۸۔عمل کی پابندی

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى اللهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهٗ، وَإِنْ قَلَّ۔(مسلم،باب صیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم)

ترجمہ:اللہ رب العزت کے نزدیک وہ عمل زیادہ محبوب ہے جس کو ہمیشہ کیاجائے ،اگر چہ وہ عمل تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔

۹۔ نیکی میں سبقت اوراُس کی ترغیب

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ۔(مسلم،باب الحث علی المبادرۃ بالاعمال)

ترجمہ:نیک اعمال کے لیے سبقت کرو۔

حضرت ابومسعودانصاری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ دَلَّ عَلٰى خَيْرٍ فَلَهٗ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهٖ ۔ (مسلم،باب فضل اعانۃ الغازی فی سبیل اللہ)

 ترجمہ:جس نے کسی کو خیر کی ترغیب دی تواُس کے لیے بھی اُس نیکی کرنے والے کےمثل ہی اجر ہے۔

۱۰۔ نہی عن المنکر

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهٗ بِيَدِهٖ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهٖ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهٖ، وَذٰلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ۔(مسلم،باب کون النہی عن المنکرمن الایمان)

ترجمہ:تم میں سے اگر کوئی کسی کو ناپسندیدہ عمل کرتے دیکھے تو اُس کو پوری طاقت بھر روکے،اگر اِس کی طاقت نہ رکھتا ہوتواُس کو زبان سے روکے اور اگر اِس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہوتو اپنے دل ہی میںاُسے بُرا جانے،یہ ایمان کاسب سے کمزور حصہ ہے۔

 غرض کہ ایک مومن کے لیےلازم ہے کہ وہ مومنانہ صفات سے آراستہ ہو،خندہ پیشانی کا اظہارکرے،ہمیشہ سلام کوپھیلائے،نرمی اور بُردباری اختیار کرے،سخاوت ومروت اور اخوت ومحبت کا مظاہرہ کرے، سچ سے محبت اورجھوٹ سے نفرت رکھے،صبروشکر کو لازم پکڑے، اعمال صالحہ کی ترغیب دے،اُن کے لیے سبقت کرے اور اُن کی پابندی بھی کرے اورامربالمعروف و نہی عن المنکر کو سرمایۂ حیات جانے،تبھی ایک مومن واقعی مومن ہوسکتا ہے،ورنہ نہیں۔