أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَنۡ تُغۡنِىَ عَنۡهُمۡ اَمۡوَالُهُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ شَيۡـــًٔا‌ ؕ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمۡ وَقُوۡدُ النَّارِۙ

ترجمہ:

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا انہیں اللہ (کے عذاب) سے نہ ان کے مال ہرگز بچا سکیں گے نہ ان کی اولاد اور وہی لوگ دوزخ کا ایندھن ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جن لوگوں نے کفر کیا انہیں اللہ (کے عذاب) سے نہ ان کے مال ہرگز بچاسکیں گے نہ ان کی اولاد اور وہی لوگ دوزخ کا ایندھن ہیں۔ (آل عمران : ١٠)

مال اور اولاد کے ذکر میں حسن ترتیب کا بیان :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے احوال بیان فرمائے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ہدایت پر ثابت قدم رہنے کی دعا کرتے ہیں اور قیامت کے وقوع اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے پر یقین رکھتے ہیں ‘ اب اس آیت سے کفار کے احوال کا ذکر شروع فرمایا کیونکہ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے اور قرآن مجید کا اسلوب ہے کہ وہ مومنوں کے بعد کافروں کا ذکر فرماتا ہے۔

اس آیت کی تفصیل یہ ہے کہ جن یہودیوں اور مدینہ کے منافقوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے برحق ہونے کی معرفت کے باوجود آپ کا انکار کیا اور اپنے دلوں کی کجی کی وجہ سے قرآن مجید کی آیات متشابہات کی خود ساختہ تاویلات کیں ان لوگوں کو قیامت کے دن اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکے گا اور ان کے پاس دنیا میں جو مال اور اولاد کی کثرت ہے وہ قیامت کے دن کسی کام نہیں آئے گی۔

علامہ ابوالحیان اندلسی نے لکھا ہے کہ روایت ہے کہ ایک نصرانی ابو حارثہ بن علقمہ نے اپنے بھائی سے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لیکن اگر میں نے لوگوں پر ان کی نبوت کے برحق ہونے کو ظاہر کردیا تو روم کے بادشاہ مجھ سے وہ سب مال واپس لے لیں گے جو انہوں نے مجھے دیئے ہیں ‘ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت نجران کے عیسائیوں کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا یہ آیت بنو قریظہ اور بنونضیر کے متعلق نازل ہوئی ہے جو اپنے مال اور اولاد پر فخر کیا کرتے تھے اور تحقیق یہ آیت تمام کافروں کو شامل ہے اس آیت میں مال کے ذکر کو اولاد پر مقدم فرمایا ہے کیونکہ انسان مصائب سے خود کو بچانے ‘ فتنہ پھیلانے اور کسی کا قرب حاصل کرنے کے لئے اولاد کی نسبت مال سے زیادہ کام لیتا ہے اور مال پر زیادہ اعتماد کرتا ہے۔ اسی طرح اور آیتوں میں بھی مال کے ذکر کو اولاد پر مقدم فرمایا ہے :

(آیت) ” وما اموالکم ولا اولاد کم بالتی تقربکم عندنا زلفی الا من امن وعمل صالح “۔ (سبا : ٣٧)

ترجمہ : اور (اے لوگو ! ) نہ تمہارے مال اور نہ تمہاری اولاد ایسی چیزیں ہیں جو تم کو ہمارا مقرب کردیں ہاں ! جو شخص ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کئے۔

(آیت) ” واعلموا انما اموالکم واولادکم فتنۃ (الانفال : ٢٨)

ترجمہ : اور یقین رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد محض آزمائش ہیں ؛۔

(آیت) ” اعلموا انما الحیوۃ الدنیا لعب ولھو وزینۃ و تفاخر بینکم وتکاثر فی الاموال والا ولاد “۔ (الحدید : ٢٠)

ترجمہ : یقین رکھو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا (عارضی) زینت اور تمہارا ایک دوسرے پر فخر اور مال اور اولاد میں زیادتی طلب کرنا ہے۔

(آیت) ” یوم لاینفع مال ولا بنون “۔ (الشعراء : ٨٨)

ترجمہ : جس دن نہ مال نفع دے گا نہ بیٹے۔

البتہ انسان طبعی طور پر مال کی بہ نسبت اولاد سے زیادہ محبت کرتا ہے اس لیے جہاں انسان کی محبت کا ذکر فرمایا وہاں مال پر اولاد کے ذکر کو مقدم فرمایا :

(آیت) ” زین للناس حب الشھوات من النسآء والبنین والقناطیر المقنطرۃ من الذھب والفضۃ والخیل المسومۃ والانعام والحرث “۔ (آل عمران : ١٤)

ترجمہ : لوگوں کے لئے عورتوں سے خواہشات کی اور بیٹوں کی اور سونے اور چاندی کے خزانوں کی اور نشان زدہ گھوڑوں کی اور مویشیوں اور کھیتی باڑی کی محبت خوش نما بنادی گئی ہے۔

سو جس جگہ مصائب سے خود کو بچانے ‘ قرب حاصل کرنے اور فتنہ جوئی کا ذکر تھا وہاں مال کے ذکر کو اولاد کے ذکر پر مقدم فرمایا اور جس جگہ محبت کا بیان تھا وہاں اولاد کے ذکر پر مقدم فرمایا اور یہ انتہائی نکتہ خیز ترتیب اور اعجاز آفریں بلاغت ہے جو سوا اس قادر قیوم کے اور کسی کی قدرت میں نہیں ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 10