حدیث نمبر :168

روایت ہے حضرت عمرو بن عوف سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دین حجاز کی طرف ایسا سمٹ آوے گا جیسے سانپ اپنے سوراخ کی طرف ۱؎ اور دین حجاز سے ایسا بندھ جاوے گا جیسے پہاڑی بکری پہاڑ کی چوٹی سے۲؎ یقینًا دین غریب ہی شروع ہوا اورجیسا شروع ہوا ویسا لوٹے گا لہذا غربا کو خوشخبری ہو یہ غربا وہ ہیں جو میرے بعد میری سنت کو درست کریں گے جسے لوگوں نے بگاڑدیا ہوگا۳؎ (ترمذی)

شرح

۱؎ یعنی آخری زمانہ میں مسلمانوں کو حجاز کے سوا کہیں پناہ نہ ملے گی اس لیئے سب یہاں ہی جمع ہوجائیں گے۔حجاز عرب کا وہ صوبہ ہے جس میں مکہ معظمہ،مدینہ منورہ،طائف وغیرہ ہیں۔خیال رہے کہ اولًا مسلمان حجاز میں پناہ لیں گے اور پھر وہاں بھی امن نہ پائیں گے تو مدینہ منورہ میں سمٹ آئیں گے،لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں کہ دین مدینہ میں سمٹ آئے گا،مدینہ منورہ ہی میں نبوت کا آفتاب غروب ہوا اور یہاں سے ہی اس کی کرنیں یعنی شریعت غائب ہوگئی۔

۲؎ کہ پہاڑی بکریاں دن بھر ہر جگہ پھرتی ہیں اور شام کو اپنے تھان یعنی پہاڑ کی چوٹی پر باندھ دی جاتی ہیں،جہاں وہ درندوں سے محفوظ رہتی ہیں۔حجاز خصوصا مدینہ منورہ اسلام کا تھان ہیں اس میں اشارۃً یہ فرمایا گیا کہ اسلام حرمین شریفین سے کبھی نہ نکلے گا اور سب مسلمانوں کا تعلق اس سے قائم رہے گا،جیسے سانپ کا تعلق اپنے سوراخ سے اور بکری کا تعلق اپنے تھان سے ہر وقت رہتا ہے۔اس کا وہ مطلب نہیں جو براہین قاطعہ وغیرہ نے سمجھا کہ وہاں اسلام قیامت کے قریب پہنچے گا اس سے پہلے دنیا میں اور جگہ اسلام ہوگا حجاز یا مدینہ منورہ میں نہ ہوگا۔

۳؎ اس کی شرح پہلےگزر چکی ہے۔یہ بھی قریب قیامت ہی ہوگا کہ جیسے پہلے تھوڑے مسکین لوگوں نے اسلام قبول کیا ایسے ہی قریب قیامت تھوڑے غریب ہی اسلام پر قائم رہ جائیں گے وہ اگلے غریب بھی مبارک تھے اور یہ پچھلے بھی مبارک ہوں گے۔باقی دنیا میں کفر ہی کفر ہوگا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام میں جو نیا فرقہ نکلے اور اس کے ماننے والے تھوڑے ہوں وہی حق پر ہوں جیسا کہ قادیانیوں اور وہابیوں نے سمجھا۔آگے حدیث آرہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی بڑی جماعت کے ساتھ رہو۔