أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَۙ وَالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ‌ؕ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ‌ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوۡبِهِمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ

ترجمہ:

ان کا طریقہ (بھی) قوم فرعون اور ان سے پہلی اقوام کے طریقوں کی طرح ہے جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب سے پکڑ لیا اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان کا طریقہ بھی قوم فرعون اور ان سے پہلی اقوام کے طریقوں کی طرح ہے جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تو اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ (آل عمران : ١١)

قوم فرعون کے ذکر کی خصوصیت :

اس سے پہلے ذکر فرمایا تھا کہ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ان کا مال اور ان کی اولاد ان کو اللہ کے عذاب سے ہرگز نہیں بچا سکتے اب یہ فرمایا ہے کہ جن لوگوں نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی تکذیب کی ہے انکا طریقہ پہلے زمانہ کے کافروں کی مثل ہے سو جس اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کے باعث اپنی گرفت میں لے لیا تھا اور ان کو عذاب دیا تھا سو اسی طرح ان پر بھی گرفت کی جائے گی اور ان کو بھی عذاب ہوگا۔ پچھلی امتوں میں سے اللہ تعالیٰ نے خصوصیت کے ساتھ قوم فرعون کا ذکر اس لیے فرمایا ہے کہ یہاں بنواسرائیل کے ساتھ کلام ہے اور ان کو معلوم ہے کہ جب قوم فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو غرق کردیا بنی اسرائیل کو ان پر مسلط کردیا اور قوم فرعون کے ملک کا بنواسرائیل کو وارث کردیا اور انجام کار فرعون کا ٹھکانہ دوزخ ہے ‘ سو یہ حال سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخالفوں اور کافروں کا ہوگا دنیا میں اللہ تعالیٰ ان کو مسلمانوں کے ہاتھوں شکست سے دوچار کرے گا اور آخرت میں ان کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 11