ابتلا و آزمائش کی حکمت

ابتلا و آزمائش کی حکمت

امام الدین سعیدی

بندہ مصیبت کی وجہ سے اللہ رب العزت کی طرف مائل ہوتاہےاورسراپا عجزو نیاز بن کر اُس کو یا د کرنے لگتا ہے

اللہ رب العزت نے قرآن مقدس میں مختلف مقامات پر اِس با ت کاذکر واضح لفظو ں میں کیا ہے کہ انسان کو ہم آزمایش میں ڈالیں گےاور اُنھیں مشکل حالات سے دوچار کریں گے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ انسان کو اِس دنیامیں عیش دوام اور راحت تام میسر نہیں ہو گی، اس کی زندگی مصائب و آلام کے سایے میں گذرے گی اور اِس بر ملا حقیقت کا تلخ تجربہ تقریباًہر انسان کو ہے ۔ قرآن کی زبان میں اس کو مختلف اسلوب سے بیان کیا گیا ہے ،مثلاً کہیں پر اللہ رب العزت نے فرمایا:

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ ( بقرہ ۱۵۵) 

ترجمہ:ہم ان کو ضرور آزمائیں گے جان ومال اور پھلوں میں کمی کرکے اور بھوک اور خوف کے ذریعے۔

کہیں پر یو ں فرمایا :

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ نَّبْتَلِیْه ( انسان۲) 

ترجمہ : ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا تاکہ اُسے آزمائیں ۔

ایک مقام پریوں فرمایاگیاہے:

وَنَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّوَ الْخَیْرِ فِتْنَةًوَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ ( انبیا۳۵ا)

 ترجمہ:ہم تمھیں خیر وشر کو فتنہ بناکر آزمائیں گے اور تمھیں ہماری طرف ہی لوٹنا ہے ۔

مصیبت یا بلا ہروہ معاملہ ہے جو انسان کے لیے کرب و تکلیف کا باعث ہو چاہے وہ معمولی شئے کیوں نہ ہو ۔ اس دنیا کی حقیقت ہی یہی ہے کہ یہاں مشقت و پریشانی،حیرت و بے چینی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍ (بلد ۴)

 ترجمہ ہم نے انسان کو مشقت وپریشانی میں مبتلا رہنے والا پیدا کیا ہے ۔

 جیسے نہر میں غوطہ لگانے والا اپنے آپ کو بھیگنے سے نہیں بچا سکتا،اسی طرح دنیاکے اندر انسان کے لیے دشواری و مشقت سے راہ فرار نہیں ۔

 آزمائش کے درجات

 عام طور سے جو درجات بیان کیے جا تے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آزمائش کبھی اس لیے ہو تی ہے کہ مخلص اور غیر مخلص کو ظاہر کرنا ہو تا ہے یا صبر والوں کو بے صبر لوگوں سے الگ کرنا مقصود ہو تا ہے ، خبیث و طیب ،کھرے اور کھوٹے کے درمیان خط امتیاز قائم کر نا ہو تا ہے ۔

 قرآن کریم میں اس مضمون کا ذکر یو ں ملتا ہے:

 وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰی نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ نَبْلُوَا اَخْبَارَكُمْ( محمد۳۱)

 ترجمہ:ہم ضرورتمھیں آزمائیں گےیہاں تک تم میں سے ثابت قدمی کے ساتھ جہاد کرنے والوںاور صبر کرنے والوں کو بھی ظاہر کر دیں اور تمہارے اندرونی احوال بھی ظاہر کردیں ۔

 یہاں پر آزمائش کسی معصیت یا بُرے عمل کی وجہ سے نہیں ہو تی بلکہ اللہ رب العزت ایمان و یقین کی پختگی اور طاعت و عمل کے خلوص کو جانچتا ہے ۔

 دوسری جگہ ارشاد فرماتاہے :

 الٓمّ(۱) اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْا اَنْ یَّقُوْلُوْا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ(۲)وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ(۳)( عنکبوت )

 ترجمہ : کیا لو گ یہ خیال کرتے ہیں کہ صرف ان کے اتنا کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں چھوڑ دیے جا ئیںگے؟ ان کی آزمائش نہیں کی جائےگی؟بےشک ہم نے ان لو گو ں کوبھی آزمایا تھاجو اُن سے پہلے تھےپس اللہ یقینا ًان لوگوں کو بھی آزمائش کے ذریعےنمایاں فرما دےگا جو دعوی ٔ ایمان میں سچے ہیں اور جھو ٹوں کو بھی ظاہر کر دےگا ۔

مصیبت وپریشانی کا نزول کبھی نافرمانی اور گناہ کی وجہ سے ہو تاہے،یعنی کسی مصیبت وتکلیف کے ذریعے بندہ کو گناہوں سے پاک کرنا مقصود ہو تا ہے ۔ مصیبت بندے کے گناہ کے لیے کفارہ ہو اکرتی ہے ۔

اس سلسلے میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کامبارک فرمان ہے :

 مَا يُصِيبُ المُسْلِمَ، مِنْ نَصَبٍ وَلاَ وَصَبٍ، وَلاَ هَمٍّ وَلاَ حُزْنٍ وَلاَ أَذًى وَلاَ غَمٍّ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا، إِلَّا كَفَّرَ اللهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ۔ ( بخاری،باب ماجاء فی کفارۃ المرض،حدیث:۵۶۴۲)

 ترجمہ : بندۂ مومن کو کو ئی غم ،مصیبت ،تکلیف ، نقصان، یہاں تک کہ کا نٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ اس کو اس کے گناہوں کے لیے کفارہ بنا دیتا ہے ۔

 اس میں گناہگار وں کو مصائب ومشکلات کے ذریعے پاک وصاف کیا جاتا ہے تاکہ یہ آخرت میں دخو ل جنت کے مستحق ہو سکیں۔ اسی لیے اللہ گناہوں کی سزا کے طور پر اُنھیں اسی دنیا میں بلا ؤں میں ڈال دیتا ہے تا کہ ان کی تطہیر ہوجائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اگر چالیس دن آپ پر بغیر کسی مصیبت کے گذر جا تا تو آپ یہ کہا کرتے : ہٰذَاغَضَبٌ مِّنَ اللہِ عَلَیَّ ۔ یعنی یہ میرے اوپر اللہ کا غضب ہے ۔

 گویا مصیبت مغفرت و نجات کا ذریعہ ہے ۔ کبھی آزمائش اس جہت سے ہو تی ہے کہ اس کے ذریعے اللہ رب العزت درجات بلند کرنے کا ارادہ فرماتا ہے ،اپنے بندہ کو قرب خا ص کی دولت عطا کرتا ہے ۔ایسی آزمائش صالحین و مقربین کے لیے ہو تی ہے، کیوںکہ وہ گنا ہو ں کی وجہ سے مصیبت میں مبتلا نہیں ہو تے بلکہ ترقی درجات کے پیش نظرآزمائشوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن کریم میں مذکور ہے :

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عُقْبَی الدَّارِ۝۲۲ ( رعد)

 ترجمہ:جو لو گ اپنے رب کی رضا جو ئی کے لیے مصائب پر صبر کرتے ہیں، نما ز ادا کرتے ہیں اور جو بھی رزق ہم نے اُنھیں دیا ہے اس میں سے پو شیدہ اور اعلانیہ دونوں طریقے سے خرچ کرتے ہیں اور نیکی کے ذریعے بُرائی کو دور کرتے ہیں یہی وہ لو گ ہیں جن کے لیےآخرت کا حسین گھر ہے ۔

فوائد و ثمرات 

اللہ تعالیٰ کی جانب سے کوئی بھی بلا در حقیقت مصیبت نہیں ہوتی،کیوں کہ رب تعالیٰ اس مصیبت کو نازل کرکے ہمارے حق میں خیر ہی کا ارادہ فرماتا ہے،اس میں خیر ہی خیر پوشیدہ ہو تا ہے،ا گر چہ ہمیں اس کا شعور نہیں ہوتا۔بندۂ مومن کے لیے خواہ کسی بھی طرح کی مصیبت ہویقینی طور سے اُس کے متعدد فوائد حاصل ہوتے ہیں ،مثلاً:

رجو ع الی اللہ :

 اللہ تعالیٰ اس لیے مصیبت میں ڈالتا ہے تاکہ بندہ اُسے پکارے، اُسے یا د کرے، اُس کے حضور گریہ و زاری کرے، کیوں کہ کبھی کبھی ایسا بھی ہو تا ہے کہ انسان کسی دوسری چیز میں منہمک ہو کراُسے بھو ل جاتا ہے،اُسے یکسر فراموش کردیتا ہے اوراُس سےغافل ہو جاتا ہے۔یہ مصیبت بندے کو پھر سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کردیتی ہے، وہی شخص جو غفلت و فراموشی میں تھا، بلا ؤ ںمیں گرفتار ہو نے کے بعد کس قدر مخلص ہو کر، اورسراپا عجزو نیاز بن کر اپنے رب کو یا د کرنے لگتا ہے ۔

 قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ (انعام ۴۲)

 ترجمہ:ہم نے ان کو سخت تنگی اور تکلیف میں ڈال دیا، تاکہ وہ عجز و نیاز کے ساتھ گڑ گڑائیں ۔

 نعمت ربانی کا احساس و شعور:

 نعمت و کامیابی کی اہمیت کا احساس اسی وقت ہو تا ہے جب شکست کا تلخ مزہ چکھنا پڑے۔ آنکھ کی اہمیت اسی وقت سمجھ میں آتی ہے جب اس کی بینائی سلب کرلی جائے ۔جب بندہ اللہ تعالیٰ کی دی ہو ئی نعمتوں کی ناقدری کرنے لگتا ہے، اُسے معصیت و سرکشی میں استعمال کرنے لگتا ہے، نعمتوں سے محظوظ ہو نے کے با وجود نا شکری کرتا رہتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کی نا قدر ی کرنے کی وجہ سے ان سے محروم کردیتا ہے تا کہ اس کی قدر وقیمت کا احساس دلائے۔

کمال توحید کا تحقق:

 جب کو ئی شدید تکلیف یا رنج و کرب سے نڈھال ہو تا ہے تو کس قدر انکسار قلبی اوراحساس بے مائیگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے نا لہ و فریا د کرتا ہے تاکہ اس تکلیف سے اسے نجات مل جائےاس وقت دنیا کی کسی چیز کی طرف تو جہ نہیں ہو تی بس اپنے مولیٰ کو یا دکرکے اس سےشفا کی بھیک مانگتا ہے ۔

درجا ت و کمالا ت کا حصول:

 اس سلسلے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال قرآن میں مذکور ہے:

وَ اِذِ ابْتَلٰی اِبْرٰهمَ رَبُّه بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًاَ ( بقرہ ۱۲۴)

 ترجمہ:جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند کلمات (ہدایات )کے ذریعے آزمایا تو انھوں نے پو را کر دکھایا،اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بطور انعام فرمایا کہ اے ابراہیم! میں تمھیں لو گو ں کا امام بنا نے والا ہو ں ۔

صبر کا اجر عظیم:

 ہربلا ومصیبت میں صبر درکا ر ہے ،اورصبر کا اجر بے حساب وبے شمار ہے ۔ جیساکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کافرمان ہے :

 اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ ( زمر ۱۰)

 ترجمہ:بے شک صبر کرنے والوں کو بے حساب وکتاب پوراپورااجر دیا جائے گا ۔

 ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہے:

وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۵) الَّذِیْنَ اِذَا اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالُوْا اِنَّا لِلهِ وَ اِنَّا اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ(۱۵۶) اُولٰٓىِٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(بقرہ۱۵۷)

ترجمہ : صبرکرنے والوں کو بشارت دے دیجئے جن کا معاملہ یہ ہے کہ جب ان پر کو ئی مصیبت آتی ہے تو وہ یہ کہتے ہیں بے شک ہم اللہ رب العزت کے لیے ہیں اور اُسی کی طرف پلٹ کرجا نا ہے۔یہ وہی لو گ ہیں جن پر اللہ کی جانب سے رحمت و مغفرت نا زل ہو تی ہے اور یہی لو گ در حقیقت ہدایت یا فتہ ہیں ۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.