حدیث نمبر :170

اور احمدوابوداؤد میں معاویہ کی روایت سے یہ ہے کہ بہتّر دوزخی اور ایک جنتی ہے اور وہ بڑا گروہ (جماعت مسلمین)ہے ۱؎ میری امت میں ایسی قومیں نکلیں گی جن میں بدعت ایسی سرایت کرجائیں گی جیسے دیوانہ کتے کا زہر کاٹے ہوئے ہیں کہ جس کی کوئی رگ اور جوڑ سرایت کئے نہیں بچتا۲؎

شرح

۱؎ اس میں بتایا گیا کہ جنتی ہونے کے لیئے دوچیزوں کی ضرورت ہے:سنت کی پیروی اور جماعت مسلمین کے ساتھ رہنا۔اسی لیئے ہمارے مذہب کا نام اہل سنت والجماعت ہے۔جماعت سے مراد مسلمانوں کا بڑا گروہ ہے جس میں فقہاء،علماء،صوفیاء اور اولیاء اﷲ ہیں۔الحمدﷲ !یہ شرف بھی اہلسنت ہی کو حاصل ہے،سوا اس فرقہ کے اولیاءاﷲ کسی فرقہ میں نہیں۔خیال رہے کہ یہ۷۳ کا عدد اصولی فرقوں کا ہے کہ اصولی فرقہ ایک جنتی اور۷۲جہنمی۔چنانچہ اہل سنت میں حنفی ،شافعی ،مالکی ،حنبلی ،چشتی ،قادری ،نقش بندی،سہروردی ایسے ہی اشاعرہ یا تریدیہ سب داخل ہیں کہ عقائد سب کے ایک ہی ہیں اور ان سب کا شمار ایک ہی فرقہ میں ہے۔ایسے ہی بہتر ناری فرقوں کا حال ہے کہ ان میں ایک ایک فرقے کے بہت ٹولے ہیں۔مثلًاایک فرقہ روافض کے بہت ٹولے ہیں،بارہ امامئے،چھ امامئے،تین امامئے ایسے ہی دیگر فرقوں کا حال ہے۔لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اسلامی فرقے کئی سو ہیں۔اس کی تفصیل مرقاۃ وغیرہ میں دیکھو۔

۲؎ یعنی برے عقیدے اور بدعتیں ان کے خیالات و اعمال میں چھا جائیں گے۔خیال رہے کہ حضور نے سانپ کاٹے کی تشبیہ نہ دی کیونکہ اس کا زہر دل یا دماغ پر پہنچتے ہی موت واقع ہوجاتی ہے۔وہ اوروں کونہیں کاٹتا مگر دیوانہ کتاکا کاٹا ہو اعرصہ تک زندہ رہتا ہے جسے یہ کاٹ لے اسے بھی اپنے جیساکرلیتا ہے۔یہی بد مذہبوں کا حال ہے۔