حدیث نمبر :171

روایت ہے حضرت ابن عمرسے فرماتےہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یقینًا اﷲ میری امت کو یا فرمایا امت محمد مصطفی کو گمراہی پر متفق نہ ہونے دے گا ۱؎ جماعت پر اﷲ کا دست کرم ہے۲؎جو جماعت سے الگ رہا وہ دوزخ میں الگ ہی جائے گا۔(ترمذی)

شرح

۱؎ یہاں امت سے امت اجابت مرادہے یعنی حضور پر ایمان لانے والے لوگ یہ حدیث پچھلی حدیث کی گویا تفسیرہے،یعنی اگرچہ میری امت میں بنی اسرائیل سے زیادہ فرقے ہوں گے،لیکن فرق یہ ہے کہ وہ سارے گمراہ ہوگئے تھے،یہ امت ساری گمراہ نہ ہوگی بلکہ قیامت تک ایک فرقہ اس میں حق پر رہے گا۔یہ اس امت کی خصوصیت ہے۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ مسلمانوں کا اجماع برحق ہے جس پر سارے علماء اولیاء متفق ہوجائیں وہ مسئلہ ایسا ہی لازم العمل ہے جیسے قرآن کی آیت۔اس حدیث کی تائید اس آیت سے ہے:”وَیَتَّبِعْ غَیۡرَ سَبِیۡلِ الْمُؤْمِنِیۡنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ “یعنی جو مسلمانوں کے راستہ کے علاوہ کوئی اور راہ چلے گا ہم اسے دوزخ میں بھیجیں گے۔اجماع امت کا حجت ہونا یہ بھی اس امت کی خصوصیت ہے۔معلوم ہوا کہ خلافت شیخین برحق ہے۔

۲؎ دستِ کرم سے مراد حفاظت،مدد اور رحمت ہے۔یعنی اﷲ تعالٰی جماعت کو غلطی اور دشمنوں کی ایذا سے بچائے گا۔ان پر سکینہ اتارے گا وغیرہ۔