أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَدۡ كَانَ لَـكُمۡ اٰيَةٌ فِىۡ فِئَتَيۡنِ الۡتَقَتَا ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَاُخۡرٰى كَافِرَةٌ يَّرَوۡنَهُمۡ مِّثۡلَيۡهِمۡ رَاۡىَ الۡعَيۡنِ‌ؕ وَاللّٰهُ يُؤَيِّدُ بِنَصۡرِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ  ‌ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَعِبۡرَةً لِّاُولِى الۡاَبۡصَارِ

ترجمہ:

بیشک تمہارے لیے ان دو جماعتوں میں ایک نشانی تھی جو (میدان بدر میں) باہم صف آرا ہوئے ایک جماعت اللہ کی راہ میں جنگ کر رہی تھی اور دوسری جماعت کافر تھی ‘ وہ (کافر) ان (مسلمانوں) کو کھلی آنکھوں سے اپنے سے دگنا دیکھ رہے تھے اور اللہ اپنی مدد کے ذریعہ جس کی چاہتا ہے تائید کرتا ہے بیشک اس واقعہ میں آنکھوں والوں کے لیے ضرور عبرت ہے

تفسیر:

فتح کا مدار عددی برتری اور اسلحہ کی زیادتی پر نہیں اللہ کی تائید اور نصرت پر ہے :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا : تم عنقریب مغلوب کئے جاؤ گے کیونکہ یہود نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بہت لاف گزاف کی تھی اور کہا تھا کہ آپ کا ہم ایسوں سے سابقہ نہیں پڑا تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس پہلی آیت پر دلیل قائم کی ہے کہ واقعہ بدر اس پر دلیل ہے کہ کفار تعداد میں بہت زیادہ تھے ان کے پاس اسلحہ بھی بہت تھا اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اور اسلحہ بھی بہت کم تھا اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے کفار کو شکست فاش دی اور مسلمانوں کو مظفر اور منصور کیا ‘ اور یہ اس پر دلیل ہے کہ غلبہ اور فتح کا دارومدار صرف اللہ تعالیٰ کی فتح و نصرت پر ہے ‘ یہود یہ سمجھتے تھے کہ ان کے پاس اسلحہ کی فراوانی ہے اور ان کو عدد برتری حاصل ہے اس لئے وہ غالب ہوں گے اللہ تعالیٰ نے انکے اس مذعوم کو باطل کردیا۔

مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ ان دو جماعتوں سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب اور مشرکین مکہ کی جماعتیں ہیں اور اس آیت میں جس جنگ کا ذکر ہے وہ معرکہ بدر ہے ‘ روایت ہے کہ جنگ بدر میں مشرکوں کی تعداد نو سو پچاس تھی ان میں ابو سفیان اور ابوجہل ایک سو گھڑ سواروں کی قیادت کر رہے تھے ان کے پاس سات سو اونٹ تھے تمام گھڑ سوار لوہے میں غرق تھے ان کے علاوہ پیادوں میں بھی زرہ پوش تھے ‘ اس کے برعکس مسلمانوں کی تعداد تین سو تیرہ تھی اور ہر چار آدمیوں کے پاس ایک اونٹ تھا کل چھ زرہیں تھیں اور دو گھوڑے سوار تھے۔ (البدایہ والنہایہ ج ٣ ص ٢٦٠) دونوں جماعتوں کی ان صفات کو سامنے رکھ کر جب ہم بدر میں مسلمانوں کی فتح کو دیکھتے ہیں تو یہ کہے بغیر اور کوئی چارہ کار نہیں ہے کہ اس فتح میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں کا بیان :

معرکہ بدر میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی پر حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اور ان کے پاس اسلحہ بھی بہت کم تھا اس کے مقابلہ میں کفار کی تعداد تین گنا زیادہ تھی اور اسلحہ بھی بہت زیادہ تھا اس معرکہ میں ساٹھ سے کچھ اوپر مہاجر اور دو سوچالیس سے کچھ اوپر انصار تھے (صحیح بخاری ج ٢ ص ٥٦٤) ان کا جنگ سے پہلا سابقہ تھا خصوصا، انصار زیادہ تر زراعت پیشہ تھے اور ان کا کوئی جنگی تجربہ نہیں تھا ‘ اس کے برخلاف مشرکین مکہ میں سب جنگ کے ماہر اور جنگ کا تجربہ رکھنے والی زیادہ تعداد اور زیادہ اسلحہ پر مشتمل جماعت پر ایک کم تعداد کم اسلحہ اور ناتجربہ کار جماعت کا غالب آجانا اللہ کی بہت بڑی نشانی اور معجزہ ہے۔

(٢) جس روز جنگ ہونی تھی اس سے پہلی شب کو قریش کے لشکر میں شراب کے جام لنڈھائے جارہے تھے ‘ ساتھ آنے والی لونڈیاں ناچ گا رہی تھیں۔ (دلائل النبوۃ ج ٣ ص ٣٣٢) دوسری جانب مسلمانوں کے لشکر میں نمازیں پڑھی جارہی تھیں صبح روزہ رکھنے کی تیاریاں تھیں اللہ کے حضور فتح اور نصرت کے لئے دعائیں اور التجائیں تھیں ‘ سب سے زیادہ خود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ سے گڑ گڑا کر دعائیں کر رہے تھے۔ امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ بدر کے دن دعا کی : اے اللہ ! اپنے عہد اور وعہدہ کو پورا فرما ‘ اے اللہ ! اگر تو چاہے تو تیری عبادت نہیں کی جائے گی ‘ حضرت ابوبکر (رض) نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر کہا : آپ کے لئے یہ دعا کافی ہے آپ باہر آئے درآں حالیکہ آپ یہ آیت تلاوت فرما رہے تھے :

(آیت) ” سیھزم الجمع ویولون الدبر “۔ (القمر : ٤٥)

ترجمہ : عنقریب کافروں کا یہ جتھا شکست کھائے گا اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٥٦٤ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ جنگ بدر کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کی طرف دیکھا تو وہ ایک ہزار تھے اور آپ کے اصحاب تین سو انیس نفر تھے۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہاتھ پھیلا کر مسلسل اللہ سے دعا کرتے رہے حتی کہ آپ کے شانوں سے رداء مبارک ڈھلک گئی ‘ آپ دعا فرما رہے تھے اے اللہ تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اس کو پورا کر ‘ اے اللہ ! تو نے مجھ سے جس کا وعدہ فرمایا ہے وہ مجھ کو عطاکر ‘ اے اللہ ! اگر تو نے مسلمانوں کی اس جماعت کو ہلاک کرو یا تو زمین پر تیری عبادت نہیں کی جائے گی ‘ حضرت ابوبکر (رض) آئے انہوں نے آپ کے شانوں سے ڈھل کی ہوئی چادر کو پکڑ کر آپ کے کندھوں پر ڈالا پھر آپ سے لپٹ گئے اور کہا اے نبی اللہ ! آپ نے اپنے رب سے کافی دعا کرلی ہے وہ عنقریب آپ سے کئے ہوئے اپنے وعدہ کو پورا فرمائے گا سو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی :(صحیح مسلم  ج ٢ ص ٩٣ مطبوعہ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

(آیت) ” اذ تستغیثون ربکم فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملائکۃ مردفین۔ وما جعلہ اللہ الا بشری ولتطمئن بہ قلوبکم وما النصر الا من عنداللہ (الانفال : ١٠۔ ٩)

ترجمہ : جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی کہ میں تمہاری ایک ہزار لگا تار آنے والے فرشتوں سے مدد کرنے والا ہوں ‘ اور اللہ نے اس (نزول ملائکہ) کو صرف خوش خبری بنایا ہے اور تاکہ اس سے تمہارے دل مطمئن ہوں اور مدد صرف اللہ کی طرف سے ہے۔

(جامع ترمذی ص ٤٣٩ مطبوعہ کراچی ‘ مسند احمد ج ١ ص ٣٢۔ ٣٠‘ مطبوعہ بیروت)

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دعائیں کرنا اظہار عبودیت کے لیے تھا ورنہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہت پہلے کافروں کی شکست سے مطلع کردیا تھا اور آپ نے صحابہ کرام کو بتادیا کہ معرکہ بدر میں فلاں کافر اس جگہ گرے گا اور فلاں کافر اس جگہ گرے گا۔

امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ فلاں کافر کے گرنے کی جگہ ہے آپ زمین پر اس جگہ اور اس جگہ ہاتھ رکھتے ‘ حضرت انس کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ رکھنے کی جگہ سے کوئی کافر متجاوز نہیں ہوا (یعنی جس جگہ آپ نے جس کافر کا نام لے کر ہاتھ رکھا تھا وہ کافر اسی جگہ گر کر مرا) (صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ١٠٢ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ، مسند احمد ج ١ ص ٢٦‘ ج ٣ ص ٢٥٨‘ ٢٠٩‘ مطبوعہ بیروت ھ، سنن نسائی ج ١ ص ٢٩٣‘ مطبوعہ کراچی)

خلاصہ یہ ہے کہ معرکہ بدر میں یہ نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ماننے والوں اور اس سے دعا کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے فتح فرمائی اور اللہ تعالیٰ کا کفر کرنے والوں اور فسق وفجور میں مشغول رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے باوجود کثرت اور قوت کے شکست کی ذلت میں مبتلا کیا اور اس میں دوسری نشانی یہ ہے کہ اس میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا ثبوت ہے کیونکہ آپ نے پہلے پیش گوئی فرما دی تھی کہ کون کافر کس جگہ گر کرمرے گا اور اس میں اس علم غیب کا بیان ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرمایا تھا۔

(٣) معرکہ بدر میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی تیسری نشانی یہ تھی کہ مشرکین مکہ کو مسلمان اپنے سے دگنی تعداد میں دکھائی دے رہے تھے یعنی ان کو مسلمانوں کو تعداد دو ہزار دکھائی دے رہی تھی جس کی وجہ سے ان پر مسلمانوں کی ہیبت طاری ہوگئی اور وہ خوف زدہ ہوگئے۔

(٤) چوتھی نشانی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اطمینان اور ان کو بشارت دینے کے لئے جنگ بدر میں فرشتوں کو نازل کیا ‘ لیکن یہ واضح رہے کہ فرشتوں کا نزول صرف مسلمانوں کو طمانیت اور ان کو بشارت دینے کے لئے تھا کافروں سے لڑنے کے لئے نہیں تھا ورنہ ایک ہزار فرشتوں کو نازل کرنے کی کیا وجہ تھی صرف ایک فرشتہ ہی کافروں کو تہس نہس کرنے کے لئے کافی تھا۔ اور اگر فرشتے کافروں سے لڑے ہوں تو پھر کفر اور اسلام کے اس پہلے معرکہ اور بدر کی تاریخ ساز جنگ میں صحابہ کا کیا حصہ رہ جاتا ہے اور ان کا یہ کون سا کارنامہ رہ جاتا ہے۔ نیز قرآن مجید نے فرشتوں کو نازل کرنے کی وجہ صرف مسلمانوں کے لئے طمانیت اور بشارت بیان کی ہے اس کے سوا کچھ نہیں ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے نزول کی وجہ کو طمانیت اور بشارت میں منحصر کر کے بیان کیا ہے اس کی مکمل تفصیل اور تحقیق ہم نے شرح صحیح مسلم جلد خامس میں بیان کی ہے

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 13